واشنگٹن ڈی سی / تہران
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں “حکومت کی تبدیلی” (Regime Change) کے مقصد سے کیے گئے یکطرفہ فضائی حملوں نے امریکی سیاست میں طوفان برپا کر دیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور سپریم لیڈر کی ہلاکت کی اطلاعات کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔
کانگریس میں شدید ردعمل: ‘فیصلہ کن اقدام’ یا ‘مہنگی جنگ’؟
ریپبلکن قیادت نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون اور راجر وِکر کا کہنا ہے کہ تہران سے آنے والے خطرات کو روکنے کے لیے یہ “فیصلہ کن” کارروائی ضروری تھی۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس نے اسے ایک “نہ ختم ہونے والی جنگ” کا آغاز قرار دیا ہے۔ سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر اور حکیم جیفریز نے موقف اختیار کیا ہے کہ صدر نے کانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر آئین کے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے۔
آئینی محاذ آرائی اور وار پاورز ایکٹ
ڈیموکریٹ ارکان نے 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت ایک قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امریکی افواج کو ایران کے ساتھ کسی بھی غیر مجاز دشمنی سے روکا جا سکے۔ اس قانون کے تحت:
صدر کو 60 دن کے اندر فوجی کارروائی ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، صدارتی ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی، جو فی الحال مشکل نظر آتی ہے۔
عالمی ردعمل اور زمینی حقائق
روس اور چین نے امریکی اقدامات کو “بلا اشتعال جارحیت” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے، جبکہ یورپی ممالک (برطانیہ، فرانس، جرمنی) نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ اسے “فوری خطرے” کا خاتمہ قرار دے رہی ہے، لیکن امریکی انٹیلی جنس کی اپنی سابقہ رپورٹس اور بین الاقوامی جوہری ایجنسی (IAEA) کے مطابق ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔ اب یہ بحران مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے جس کے نتائج عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
