نئی دہلی: بیورو رپورٹ، انصاف نیوز آن لائن
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی سالانہ رپورٹ 2026 نے بھارت کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ رپورٹ میں بھارت کو مذہبی آزادی کے حوالے سے ‘خاص تشویش والے ممالک’ کی فہرست میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی ‘را’ اور ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ کی اہم اور سنسنی خیز سفارشات
امریکی کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں امریکی حکومت کو درج ذیل اقدامات کا مشورہ دیا ہے:
ٹارگٹڈ پابندیاں: بھارتی خفیہ ادارے ‘را’ (RAW) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں۔
اثاثوں کی منجمدگی: ان اداروں سے وابستہ افراد کے امریکہ میں اثاثے منجمد کیے جائیں اور ان کے داخلے پر پابندی لگائی جائے۔
اسلحہ کی فراہمی پر روک: رپورٹ میں ‘آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ’ کے تحت بھارت کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین پر تنقید
رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں میں مسلم اور مسیحی برادریوں کو نشانہ بنانے والے قوانین میں اضافہ ہوا ہے۔ کمیشن نے خاص طور پر درج ذیل اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا:
1. متنازع قوانین: سی اے اے (CAA)، این آر سی (NRC)، یو اے پی اے اور وقف (ترمیمی) ایکٹ۔
2. مذہبی تبدیلی کے قوانین: کئی ریاستوں میں تبدیلیِ مذہب کے خلاف سخت قوانین اور طویل قید کی سزائیں۔
3. ہجوم کا تشدد: گائے کے تحفظ کے نام پر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات۔
‘را’ اور سرحد پار کارروائیاں
رپورٹ میں پہلی بار ‘را’ کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے اسے شمالی امریکہ میں سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل کی مبینہ منصوبہ بندی جیسی ‘سرحد پار دہشت گردی’ سے جوڑا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ‘را’ چونکہ براہِ راست وزیراعظم دفتر کے ماتحت ہے، اس لیے اس کا نام آنا حکومت کے لیے بڑی سبکی ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کا سخت ردِعمل
بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ‘سیاسی ایجنڈے’ کا حصہ قرار دیا ہے۔ ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا تھا کہ: “یو ایس سی آئی آر ایف ایک جانبدار تنظیم ہے جو حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتی ہے۔ ہم اس بدنیتی پر مبنی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں اور کمیشن کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بھارت کے بجائے امریکہ کے اندرونی انسانی حقوق کے مسائل پر توجہ دے۔”
بھارتی سیاست میں ارتعاش اور کانگریس کا موقف
رپورٹ کے منظرِ عام پر آتے ہی بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے آر ایس ایس پر فوری پابندی اور اس کے اثاثے ضبط کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کانگریس نے یاد دلایا کہ ماضی میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بھی گاندھی جی کے قتل کے بعد اس تنظیم پر پابندی لگائی تھی۔ تاہم، بی جے پی اور سوشل میڈیا صارفین نے کانگریس کے اس موقف کو ‘غیر ملکی ایجنڈے کی حمایت’ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آر ایس ایس کا تاریخی پس منظر
آر ایس ایس (قائم شدہ 1925) خود کو ایک ثقافتی تنظیم کہتی ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد ‘ہندو راشٹر’ کا قیام ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کی قیادت کی جڑیں اسی تنظیم میں پیوست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس تنظیم کے نظریات اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب بھارت میں سیاسی پولرائزیشن عروج پر ہے، اور عالمی سطح پر بھارت کے جمہوری تشخص پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
