Wednesday, January 21, 2026
homeاہم خبریںاتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کا اپنے نفرت انگیز بیانات اور اقدامات پر...

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کا اپنے نفرت انگیز بیانات اور اقدامات پر اظہار فخر

نفرت انگیز تقاریر کی رپورٹ میں سرفہرست نام آنے کے چند دن بعد، اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر ’’لو جہاد‘‘ کا نعرہ دہرایا۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ہفتہ کے روز ایک بار پھر اسلام مخالف بیانات دیتے ہوئے اپنی حکومت کے سخت گیر مؤقف کا اعادہ کیا۔جسے وہ مذہبی تبدیلی، فسادات، ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘ اور ’’تھوک جہاد‘‘ کے خلاف کارروائی قرار دیتے ہیں۔

انصاف نیوز آن لائن
ہریدوار میں دیَو سنسکرتی یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ’’پرچم کشائی تقریب‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے ایسی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں اور دعویٰ کیا کہ 10 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کو مبینہ تجاوزات سے ’’آزاد‘‘ کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اس کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جسے وہ ’’تقسیم پسند ذہنیت‘‘ قرار دیتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے اتراکھنڈ مدرسہ بورڈکو تحلیل کرنے، نصاب پر پابندیاں عائد کرنے اور تقریباً 250 مبینہ ’’غیر قانونی‘‘ مدارس‘‘ کو بند کرنے کے حکومتی فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ اقدامات اس لیے ضروری تھے تاکہ ان کے بقول ’’علیحدگی پسند مراکز‘‘ کے قیام کو روکا جا سکے۔

اپنے خطاب میں دھامی نے کہا:
’’ہم علم اور اقدار کے مندر قائم کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ ایسے مراکز جو 500 سال پرانی قبائلی ذہنیت کو فروغ دیں اور بچوں کو گمراہ کریں

’’آپریشن کلنیَمی‘‘ نامی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ان افراد اور گروہوں کے خلاف کارروائی ہے جو ان کے مطابق ’’سناتن سنسکرتی‘‘ کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اپوزیشن جماعتیں اور شہری حقوق کی تنظیمیں مسلسل ریاستی حکومت پر تنقید کر رہی ہیں اور اس پر مذہبی اداروں اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے والی فرقہ وارانہ اور امتیازی پالیسیوں پر عمل کرنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔

یہ پیش رفت اس پس منظر میں ہوئی ہے کہ گزشتہ ہفتے ’’انڈیا ہیٹ لیب (IHL)‘‘ کی جانب سے جاری کی گئی نفرت انگیز تقاریر سے متعلق سالانہ رپورٹ میں پشکر سنگھ دھامی کو ملک میں سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والا فرد قرار دیا گیا، جن کی 71 تقاریر ریکارڈ کی گئیں۔

اس سے قبل اتراکھنڈ حکومت نے ’’اتراکھنڈ آزادیِ مذہب ایکٹ‘‘ میں ترامیم کی منظوری بھی دی تھی، جس کے بعد یہ قانون بھارت کے سخت ترین مذہب تبدیلی مخالف قوانین میں شامل ہو گیا ہے۔ اس قانون کے تحت مبینہ ’’زبردستی یا دھوکہ دہی‘‘ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے پر 3 سے 10 سال قید، ’’کمزور طبقات‘‘ سے متعلق معاملات میں 5سے 14 سال قید اور حکومت کے مطابق ’’سنگین معاملات‘‘ میں 20 سال سے عمر قید تک کی سزا، بھاری جرمانے کے ساتھ، دی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین