Thursday, March 5, 2026
homeاہم خبریںگورنر سی وی آنند بوس نے کیوں چھوڑا عہدہ؟ ممتا بنرجی نے...

گورنر سی وی آنند بوس نے کیوں چھوڑا عہدہ؟ ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر لگائے سنگین الزامات۔

کلکتہ:
مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس نے جمعرات (5 مارچ 2026) کو اپنے عہدے سے اچانک استعفیٰ دے دیا، جس پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے شدید تشویش اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ترنمول کانگریس (TMC) نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا گورنر پر ریاست میں صدر راج نافذ کرنے اور انتخابات ملتوی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا؟

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پر لکھاکہ
’’میں مغربی بنگال کے گورنر شری سی وی آنند بوس کے اچانک استعفیٰ کی خبر سن کر حیران اور گہری فکر میں ہوں۔ اگر ریاست میں آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی مفادات کے حصول کے لیے گورنر پر مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا ہے، تو مجھے کوئی تعجب نہیں ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات آئین ہند کی روح کے خلاف ہیں اور وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ممتا بنرجی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے انہیں مطلع کیا ہے کہ ’آر این روی (تمل ناڈو کے گورنر) کو مغربی بنگال کا اضافی چارج دیا جا رہا ہے، لیکن اس فیصلے میں روایتی طور پر وزیر اعلیٰ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔

ریاستی وزیر چندریما بھٹاچاریہ نے مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیا گورنر بوس کو اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ انہوں نے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی امیت شاہ کی مبینہ کوششوں کی حمایت نہیں کی تھی؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بی جے پی اپریل میں ہونے والے انتخابات کو وقت پر نہیں ہونے دینا چاہتی۔

سی وی آنند بوس، جنہوں نے نومبر 2022 میں ذمہ داری سنبھالی تھی، ان کی مدت ملازمت نومبر 2027 تک تھی۔ انہوں نے اپنی مدت ختم ہونے سے 20 ماہ قبل ہی دہلی میں صدر جمہوریہ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ حال ہی میں مغربی بنگال کے مستقل ووٹر بنے تھے اور یہاں کے ‘دتک پتر(لے پالک بیٹے) کہلانے کے خواہش مند تھے، پھر اچانک استعفیٰ نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نئے عبوری گورنر آر این روی (سابق آئی پی ایس افسر) کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک سخت گیر شخصیت ہیں۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے ساتھ ان کے شدید اختلافات رہے ہیں۔ اب بنگال کے انتخابی ماحول میں ایک سابق انٹیلی جنس بیورو (IB) افسر کو گورنر بنانا سیاسی طور پر بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین