Friday, February 13, 2026
homeاہم خبریںمغربی بنگال اردو اکیڈمی: علمی وادبی خدمت یا سرکاری خزانے پر مالیاتی...

مغربی بنگال اردو اکیڈمی: علمی وادبی خدمت یا سرکاری خزانے پر مالیاتی ڈاکہ؟–وائس چیئرمین ندیم الحق کے دوہرے معیار پر اٹھتے سنگین سوالات

خصوصی رپورٹ :انصاف نیوز آن لائن

مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے نام پر جو تماشہ گزشتہ کئی برسوں سے کولکاتا کے اسٹیجوں پر رچایا جا رہا ہے، وہ اب علمی و ادبی دیوالیہ پن سے نکل کر مجرمانہ غبن کی حدوں تک پہنچ گیا ہے۔13 تا 15 فروری کا تین روزہ سمینار اسی شرمناک سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جس میں ’’فورٹ ولیم کالج‘‘ جیسے فرسودہ اور صدیوں پرانے موضوع کی اوٹ میں سرکاری خزانے کو بے دردی سے ٹھکانے لگانے کی سازش کی گئی ہے۔ یہ اکیڈمی اب اردو کی ترویج کا ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بن چکی ہے جہاں چند خود ساختہ دانشوروں اورگرانٹ باباؤں کا ایک مافیا قابض ہے جو خود ہی میزبان بنتا ہے، خود ہی ایجنڈا طے کرتا ہے اور خود ہی مہمان خصوصی بن کر ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپا کر اردو کے نام پر آنے والی خطیر رقم کو ہضم کر جاتا ہے۔

انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ریاست میں اردو میڈیم اسکول دم توڑ رہے ہیں، اردو اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں اور نئی نسل اردو زبان سے کٹتی جا رہی ہے۔ انہیں تو صرف اس سے غرض ہے کہ عمدہ اور لذیذ کھانوں کے ساتھ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام کا بندوبست کیسے ہو اور فرسٹ کلاس اے سی میں سفر کر کے اپنی انا کی تسکین کیسے کی جائے۔ اکیڈمی کی موجودہ انتظامیہ نے اردو دشمنی اور مالی بدعنوانی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اب ایسے مذموم ہتھکنڈے اپنا لیے ہیں جو اردو زبان اور اس کے مخلص وابستگان کے ساتھ ایک ذلیل مذاق کے مترادف ہیں۔

اردو کی ترقی کے نام پر بجٹ کی اس کھلی لوٹ مار کا سب سے گھناؤنا کھیل ’’گڈ ہیومن فاؤنڈیشن ‘‘جیسی غیر اکیڈمک این جی اوز کو نوازنا ہے، جن کا زبان و ادب سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔’’گڈ ہیومن فاؤنڈیشن ‘‘جیسی این جی اوز اور دیگر غیر متعلقہ تنظیموں کو ادبی سیمینارز کے نام پر لاکھوں روپے کا مالی تعاون فراہم کرنا دراصل اردو کے حق پر ڈاکہ ڈالنے اور سرکاری خزانے کو من پسند افراد میں تقسیم کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ جہاں ریاست کے مستحق ادیب، قلمکار اور اردو اساتذہ معمولی گرانٹ سے بھی محروم رہتے ہیں، وہیں ان غیر علمی دکانوں کو صرف اس لئے نوازا جا رہا ہے تاکہ گرانٹ بابا اور ان کے حواریوں کا کمیشن اور بندر بانٹ کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے۔ یہ عمل نہ صرف اردو کی علمی توقیر کو خاک میں ملا رہا ہے بلکہ ان حقیقی ادبی اداروں کی بھی تذلیل ہے جو برسوں سے محدود وسائل میں اردو کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔

12فروری کو’’ ملی الامین کالج‘‘ میں مغربی بنگال اردو اکادمی کے مالی تعاون سے منعقدہ سمینار بھی اسی ذہنی دیوالیہ پن کی ایک بدترین مثال سامنے آئی ہے۔ جہاں اردو کے نام پر سجائی گئی محفل میں اردو ہی کو دیس نکالا دے دیا گیا اور انگریزی زبان کی ملمع کاری سے سامعین کو مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اس تقریب میں شرمناک منظر تب دیکھنے کو ملا جب اسٹیج پر بیٹھے دانشوروں اور ذمہ داران نے اردو کے بجائے انگریزی زبان میں تقریروں کے دریا بہائے، گویا وہ یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ اردو اب صرف ایک لاچار اور گونگی زبان بن چکی ہے جو اپنے ہی گھر میں پناہ گزین ہے۔ ملی الامین کالج جیسے تعلیمی ادارے میں، جہاں سے اردو تہذیب کی آبیاری کی امید تھی، وہاں اردو کے مخلص خادموں کے بجائے ایسے مصلحت پسندوں کا غلبہ نظر آیا جن کی فکری غلامی انگریزی زبان کے گرد گھومتی ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سیمینار خالص علمی تھا مگر علمی سیمینار کوسیاسی لیڈران اور بیوروکریٹ کو اسٹیج پر بیٹھاکر سیاسی منچ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

شرم کا مقام تو یہ ہے کہ جس ادارے کو اردو کی بقا کی جنگ لڑنی تھی، وہ آج اسے اندھیروں میں دھکیلنے کا سب سے بڑا آلہ کار بن چکا ہے اور وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے صرف کاغذی کارروائیوں اور فرضی اعداد و شمار کا سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ اپنی کرسیاں اور مراعات محفوظ رکھی جا سکیں۔یہ وہ ٹولہ ہے جو ’’بائی ون گیٹ ون فری‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں ایک دوسرے کو نوازنے کا ایک باقاعدہ نظام وضع کر لیا گیا ہے۔ اکیڈمی کے یہ دس بارہ چہیتے ممبران اب ایک ایسی خود مختار ریاست چلا رہے ہیں جہاں ٹینڈر کا کوئی ضابطہ ہے نہ قابلیت کا کوئی معیار، یہاں صرف چاپلوسی کا سکہ چلتا ہے۔ان کی فعالیت کا مرکز علمی ترقی نہیں بلکہ وہ ٹی اے ڈی اے اور شاہانہ ضیافتیں ہیں جو اردو کے غریب طلبہ اور یتیم اسکولوں کے حق پر ڈاکہ ڈال کر حاصل کیے جاتے ہیں۔ جہاں ریاست میں ہندی یونیورسٹی کھڑی ہو گئی، وہاں یہ نااہل ٹولہ صرف اپنی بندر بانٹ میں مگن رہا۔

اکیڈمی کی جانب سے گزشتہ سال مئی میں اردو میڈیم اسکولوں کے نمائندگان کے ساتھ میٹنگ کرکے نویں و دسویں جماعت میں بنگلہ کو بطور اضافی مضمون شامل کرنے کی تجویز پر غور کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔جب بھی عوامی سطح پر اکیڈمی کی کرپشن اور بجٹ کی بندر بانٹ پر تنقید ہوتی ہے اور سوشل میڈیا پر گرانٹ باباؤں کے خلاف غصہ ابلتا ہے، تو عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ایسے ہی ’پائلٹ پروجیکٹس‘ اور’بزمِ ادب‘ جیسے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ جو اکیڈمی برسوں سے اردو اسکولوں کی خستہ حالی پر خاموش تھی، وہ اچانک بنگلہ زبان کی تدریس کی ہمدرد بن گئی۔ درحقیقت یہ اردو کے فنڈز کو نئی راہوں سے ٹھکانے لگانے کی ایک انتظامی جادوگری ہے۔ بزمِ ادب کے نام پر مباحثوں کا ڈھونگ بھی اسی مخصوص ٹولے کو ایک نیا اسٹیج فراہم کرنے کی کوشش ہے تاکہ فائیو اسٹار عیاشیوں کا راستہ ہموار رہے۔

’’فرسودہ اور ازکارِ رفتہ‘‘ موضوعات پر سیمینار اور پروگرام منعقد کرکے یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ بنگال اردو اکیڈمی سب سے زیادہ سرگرم اکیڈمی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان فرسودہ سیمیناروں سے اردو اور اہلِ اردو کو آخر کیا فائدہ پہنچتا ہے؟

عالمی کتاب میلہ کے موقع پر اردو اکیڈمی نے ایک مباحثے کا انعقاد کیا۔ اس کے لیے جس موضوع کا انتخاب کیا گیا، وہ خود اپنے آپ میں مضحکہ خیز تھا۔ ایسا عنوان جس پر آج کل طلبہ بھی گفتگو کرنا پسند نہیں کرتے۔ ایک ایسے دور میں جب سوشل میڈیا کے ذریعے ’’جین زی‘‘ انقلاب برپا کر رہی ہے، ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے اور اجتماعی مزاحمت کی فضا تیار کر رہی ہے، اور جب سوشل میڈیا ہر عمر کے افراد کو متاثر کر چکا ہے، ایسے میں اردو اکیڈمی — جس کا بنیادی مقصد اردو زبان کا فروغ ہے — اس بحث میں الجھی ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا فتنہ ہے یا نہیں۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر ٹیکنالوجی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ صورتِ حال کی سنگینی اور وسائل کے ضیاع کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس قدر سطحی اور طالب علمانہ موضوع پر گفتگو کے لیے دہلی سے ایک ایسے بزرگ صحافی کو مدعو کیا گیا جن کی سرگرمیاں ان دنوں سرکاری اداروں کی تقریبات تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی آمد پر ہزاروں روپے خرچ کیے گئے۔

اردو اکیڈمی میں کس نوعیت کی بدانتظامی اور مالی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں، اس کا ایک واضح ثبوت دسمبر میں منعقد ہونے والا اردو کتاب میلہ ہے۔ کتاب میلہ کے نام پر اردو قارئین اور ناشرین کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا گیا۔ دہلی، پٹنہ اور ملک کے دیگر حصوں سے پبلشرز کو مدعو تو کر لیا گیا، مگر انہیں یہ اطلاع تک نہیں دی گئی کہ ناگزیر وجوہات کی بنا پر میلہ کے افتتاح کی تاریخ ملتوی کر دی گئی ہے۔ دوسری طرف خاموشی سے اکیڈمی کے اندر مختلف پروگراموں کے ذریعے اپنے قریبی افراد کو نوازنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

اس صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو اکیڈمی کے وائس چیئرمین ندیم الحق کا وہ دوہرا رویہ ہے جو ان کے سیاسی اور انتظامی کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ایک طرف ندیم الحق راجیہ سبھا کے پروقار ایوان میں کھڑے ہو کر این سی پی یو ایل (NCPUL) کے فنڈز کا حساب مانگتے ہیں اور مرکز سے شفافیت کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کی وائس چیرمینی میں اردو اکیڈمی کی کالی کوٹھڑی میں ہونے والی بندر بانٹ پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ جو شخص دہلی میں حساب مانگنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہ پہلے کولکاتا میں اپنی اکیڈمی کے ان آٹھ سالہ اخراجات کا حساب کیوں نہیں دیتا جن کے بارے میں سنگین بدعنوانیوں کے الزامات لگ رہے ہیں؟ ماہرین اور اردو دوست طبقے کا متفقہ مطالبہ ہے کہ جب تک اکیڈمی کے گزشتہ آٹھ برسوں کے اخراجات کا فارنسک آڈٹ نہیں ہو جاتا، تب تک ندیم الحق صاحب کے پاس دوسروں سے حساب مانگنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔

واقعات پرمبنی اس سلسلے کی اگلی قسط کا انتظار کریں

متعلقہ خبریں

تازہ ترین