Sunday, August 31, 2025
homeاہم خبریںمغربی بنگال اردو اکیڈمی کا’’ہندی سنیما میں اردو‘‘ پر چار روزہ پروگرام...

مغربی بنگال اردو اکیڈمی کا’’ہندی سنیما میں اردو‘‘ پر چار روزہ پروگرام ’’غیر معلوم نامساعد حالات ‘‘کی وجہ ملتوی

اکاڈمی پروگرام رد کرنے کی وجوہات بتانے سے قاصر۔اس کی وجہ سےسرکاری خزانے کو ہونے والے نقصانات کا جواب کون دے گا۔کیا اس طرح کے پروگرام سے اردو کا فروغ ہوگا؟

کلکتہ : انصاف نیوز آن لائن

مغربی بنگال اردو اکیڈمی31اگست سے تین ستمبر تک ’’ہند ی سنیما میں اردو‘‘ کے مرکزی عنوان کے تحت چار روزہ جشن کا اہتمام کیا تھا۔ مگر قومی مشاعرے میں مشہور گیت کار جاوید اختر کی شرکت کو لے کر مذہبی حلقے کی جانب سخت اعتراض کئے جارہے تھے ۔ان کی دلیل تھی جاوید اختر تسلسل کے ساتھ مسلمانو ں کی دل آزاری کرتے رہے ہیں ۔جاوید اختر کا ایک ویڈیو وائرل بھی ہورہا ہے جس میں ’’اللہ کی قدرت پر توہین آمیز طریقے سے سوال اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں‘‘ ۔مذہبی حلقے کا کہنا تھا کہ جاوید اختر کس نظریہ اور فکر کا حامل ہے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ان کے ملحد ہونے پر بھی اعترا ض نہیں ہے مگر ایک ایسا شخص جو تسلسل کے ساتھ توہین آمیز بیانات دے رہا ہے اس کو بنگال اردو اکیڈ می کے پروگرام جس کے 95فیصد شرکا مسلمان ہیں کو دعوت دینے کا واضح مطلب ہے کہ اردو اکیڈمی بھی جاوید اختر کے نظریات کی حامی ہے۔مذہبی حلقے کی ناراضگی میں شدت آتی جارہی تھی اور جمعیۃ علما ہند نے جاوید اختر کی شرکت کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دیدی تھی۔ان ماحول میںاردو اکیڈمی نے اپنا پروگرام رد کردیا ہے۔

دوسری طرف لبرل ، آزاد خیالات طبقہ بھی تھا جو اردو اکیڈمی اور جاوید اختر کی حمایت میں تسلسل کے ساتھ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھ رہے تھے مگر اس طبقے پر مذہبی طبقہ بھاری پڑگیا اور اردو اکیڈمی نے پورے پروگرام کو ہی رد کردیا ۔جب کہ مذہبی حلقے کو صرف جاوید اختر کی شرکت پر اعتراض تھاتو پھر پورا پروگرام کیوں رد کیا گیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ایسے میںبنگال اردو اکیڈمی کی انتظامیہ سوالوں کی زد میں ہے کہ گزشتہ ایک مہینے سے اس پروگرام کی تشہیر پر لاکھوں روپے خرچ کئے گئے ، ہال کی بکنگ کیلئے لاکھوں روپے جمع کئے گئے ، دعوت نامے پر روپے خرچ کیا گیا۔چوںکہ پروگرام آخری وقت میںرد کیا گیا ہے ۔توپروگرام کے بیرونی شرکاکے آمدورفت کے ٹکٹ جو کینسل ہوئے ہیںاس میںبھی اکیڈمی کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔ اکثر فلمی شخصیات بشمول جاوید اختر اور مظفر علی جیسی شخصیات پیشگی ادائیگی کے بغیر کسی بھی پروگرام میںشرکت کیلئے رضامند نہیںہوتی ہیں کیا اردو اکیڈمی ان شخصیات کو پیشگی ادائیگی کی تھی اورپروگرام رد ہونے کی صورت میں یہ شخصیات اکیڈمی کو روپے واپس کریں گے ؟۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر اعتراض جاوید اختر پر تھا تو پھر پورے پروگرام کو رد کرنا کہیں اکیڈمی کی انتظامیہ کی ضد اور انا کا نتیجہ تو نہیں ہے۔

’’ہندی سنیمامیں اردو ‘‘کا جو مرکزی عنوان ہے وہ اپنے آپ میں ہی بے وقت راگنی تھی۔ایک ایسے وقت میں جب ہندی سنیما مکمل طور پر مسلم فوبیا میںتبدیل ہوچکا ہے۔چند آواز کو چھوڑ کر بیشتر آوازیں یا تو خاموش ہوگئی ہیں یا پھر مسلم مخالف بیانیہ کا حصہ بن گئی ہے ۔جس جاوید اختر کے خلاف مہم کو لے کر لبرل ، آزاد خیال طبقہ ناراض اور مذہبی طبقے کو لعن و تشنیع کررہاہے اور ساتھ ہی دعویٰ کررہاہے کہ بھارت کے مسلمانوں کے تمام مسائل کیلئے یہی مذہبی طبقہ ذمہ دار ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ لبرٹی کی حفاظت،ظلم و تشدد اور اردو زبان کو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف جاوید اختر نے آخری مرتبہ کب صدائے احتجاج بلند کیا تھا؟۔خود جاوید اختر اور مظفر علی کا اردو کے فروغ میں کردار کیا ہے؟ جاوید اختر کی اہلیہ، بیٹے اور بیٹی کوئی بھی اردو رسم الخط سے نہ واقف ہیں اور اس کیلئے کوشش کرتے ہیں۔یہی صورت حال مظفر علی کا بھی ہے۔ہندی سنیما نے اردو سے استفادہ تو ضرور کیا ہے مگر کبھی بھی اردو کو اپنایا نہیں ہے۔اب تو فلموں کے نام بھی اردو میںآنے بند ہوگئے ہیں ۔جب کہ ہندی سنیما نے چند ایک کو چھوڑ کرمسلمانوں کی شبیہ کو بگاڑنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہے۔ہر گندہ کردار کا نام مسلمان ہوتا ہے اور ہیروہندو۔اب جب کہ زبانیں اے آئی اے چیلنجوں سے جوجھ رہی ہے۔چند سیکنڈ میں اے آئی آپ کو پوری غزل ، کہانی بناکر دے سکتی ہے تو اس میں طلبا کو مغل اعظم کے ڈائیلاگ میں مشغول کرنے کی کوشش حماقت اور مستقبل کی ناآشنائی اور میراثی ذہنیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

دوسری طرف حالیہ برسوں میں لبرل ازم کے بہانے جاوید اختر نے مسلمانوں اور اسلام کی توہین کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیںکرتے ہیں ۔مگردوسری طرف ہندئوں میںاندھ بھگتی پر خاموش ہوجاتے ہیں۔کیا جس طرح سے انہوں نے اللہ کی توہین کی ہے اور اس کو اپنی اظہار خیال کی آزادی کے تحت اپنا حق سمجھتے ہیں ۔کیا ہندئوں کے بھگوان کی اس طرح توہین کرکے بھارت میںرہ سکتے ہیں؟۔ایسے میںسوال یہ ہے کہ کیا بنگال اردو اکیڈمی جس کا بنیادی کام اردو کو فروغ دینا ہے تو کیا اس سمینار سے اردو کے فرغ کا کیا تعلق ہے؟ سوائے اس کے ذاتی پی آر کے اور کیا ہوسکتا ہے۔

اس سے بڑھ اردو اکیڈمی کیلئے شرمناک بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے بیشتر اشتہارات اور بینر سے اردو رسم الخط غائب ہے۔انگریزی میںصدارت اور نظامت لکھا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ اردو اکیڈمی کی دیوالیہ پن کے سوال اور کیا ہوسکتا ہے

اردو اکیڈمی کے پروگرام کے رد ہونے پرشاداں اور فرحاں مذہبی طبقے سے بھی سوال ہے کہ جس قادر مطلق کی توہین پر آپ چراغ پاہیں اور احتجاج اور مظاہرے کی دھمکی دے رہے ہیں کیا آپ نے ترقی پسند تحریک کے نتیجے میں وجود میںآنے والے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے ۔اس میں اسلام اور مسلمانوں کے مذہبی بنیادوں پر کس طرح حملہ کیا گیا ہے۔اس ادب کے سایے میںپروان چڑھنے والی پوری نسل الحاد اور لامذہبیت کا شکار ہوئی ۔۔کیا آپ واقف ہیں کہ لامذہبیت ، الحاد اور تشکیکی ادب کے جواب میں’’ادارہ ادب اسلامی ’’ ’’رابطہ عالم ادب اسلامی ‘‘جیسے ادرے قائم ہوئے ۔کیا آپ نے ان اداروں کوفروغ دینے اور اس کے ذریعہ ادب برائے مقصدکے بیانیہ کو تقویت دینے کیلئے کوشش کی ۔کیا جاوید اختر کی بدزبانی اور الحادی بیانات کو ’’اصحاف فیل‘‘ کے واقعے سے سبق لے کر احتجاج، دھمکی کا طریقہ اپنائے بغیر داعیانہ کردار ادا نہیں کیا جاسکتاتھا ۔یہ بات یاد رکھیںاسلام میں’’توہین رسالت ‘‘ کے خلاف سخت رویے اپنا گیا ہے۔توہین اللہ سے متعلق کوئی خاص نظریہ اختیار نہیں کیا گیا ۔’اصحاف فیل ‘‘ کے واقعے میںنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےدادا عبد المطلب کے اس مکالمے کو یاد رکھنے کی ضرورت جس میںوہ آسمان کی طرف اشارہ کرتے ےہوئے کہتے ہیں کہ میں نے اپنی حفاظت کے سامان کرلیا ہے اور ابرہہ کی فوج کا مقابلہ ہم نہیںکرسکتے ہیں ۔اس لئے آپ اپنے گھر کی حفاظت خود کرولیں۔ملحدکے خلاف احتجاج ، بائیکاٹ کے بجائے امت دعوت کے طور پر اگر جاوید اختر کے ساتھ دعوتی مکالمہ کیاجاتا تو شاید جاوید اختر کے اصلاح کی امید تھی مگر احتجاج اور بائیکاٹ سے ضد اور ہٹ دھرمی کا رویہ اپنانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین