Saturday, March 28, 2026
homeاہم خبریںمغربی بنگال: الیکشن کمیشن کی دوسری ضمنی ووٹر لسٹ جاری- کلکتہ اور...

مغربی بنگال: الیکشن کمیشن کی دوسری ضمنی ووٹر لسٹ جاری- کلکتہ اور بشیر ہاٹ میں نام حذف ہونے پر شدید احتجاج

کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جمعہ کی رات گئے مغربی بنگال کے لیے دوسری ضمنی ووٹر لسٹ جاری کر دی۔

رات تقریباً 11 بجے شائع ہونے والی اس فہرست میں 12 لاکھ ووٹرز کے نام شامل ہیں، جن میں بحال شدہ اور حذف شدہ دونوں طرح کے کیسز کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فہرست کی اشاعت کے ساتھ ہی ریاست کے مختلف حصوں میں ووٹروں کی ناراضگی میں شدت آگئی ہے۔ آج کلکتہ میں سول سوسائٹی کے ارکان نے پارک سرکس میدان سے دھرم تلہ تک احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ عمل “مجرمانہ” ہے، کیونکہ ایک ہی خاندان کے کچھ افراد کے نام شامل ہیں جبکہ دوسروں کے حذف کر دیے گئے ہیں۔ احتجاجی شرکاء نے سوال اٹھایا کہ “یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بھائی ووٹ کا اہل ہو اور دوسرے کا نام لسٹ سے نکال دیا جائے؟

کلکتہ کے علاوہ بشیر ہاٹ میں بھی، جہاں بڑی تعداد میں نام حذف کیے گئے ہیں، شدید احتجاج دیکھنے کو ملا۔ مشتعل شہریوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر چکہ جام کیا اور کمیشن کے فیصلے کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

کمیشن کے ذرائع کے مطابق، اس نئی لسٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے؛ ایک حصہ ان ووٹرز کا ہے جن کے نام شکایات یا جانچ کے بعد بحال (Restore)کیے گئے ہیں، جبکہ دوسرا حصہ ان افراد پر مشتمل ہے جن کے نام خارج (Delete)کر دیے گئے ہیں۔ جن لوگوں کے نام حذف ہوئے ہیں، وہ اگلے 15 دنوں کے اندر آن لائن یا آف لائن طریقے سے اپیلٹ ٹریبونلز کے سامنے اپنی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

یہ فہرست الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ (voters.eci.gov.in)، سی ای او (CEO) مغربی بنگال کے پورٹل اورECINET ایپ پر دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ پولنگ اسٹیشنوں اور ضلعی دفاتر (DM، SDO اور BDO) میں بھی یہ لسٹیں آویزاں کی جائیں گی۔

اعداد و شمار کے مطابق، اب تک کل 60 لاکھ کیسز میں سے 37 لاکھ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ پہلی لسٹ میں 10 لاکھ اور اب دوسری میں 12 لاکھ ناموں کی اشاعت کے بعد مجموعی طور پر22 لاکھ ووٹرز کا اسٹیٹس واضح ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، جوڈیشل ریویو کے بعد ناموں کے مسترد ہونے کی شرح 35 سے 40 فیصد رہی ہے۔

دوسری جانب، ترنمول کانگریس نے اس عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجوی پال سے رجوع کیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ پہلی لسٹ میں صرف ساڑھے سات لاکھ نام تھے، جبکہ اس وقت تک 27 لاکھ کیسز حل ہو چکے تھے۔ پارٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ 7 اپریل کی ڈیڈ لائن کے بعد پہلے مرحلے کے 152 حلقوں کی لسٹیں لاک ہو جائیں گی، جس کے بعد کسی بھی غلط اخراج کی اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس سجوی پال نے جمعہ کی شام ریاست کے اعلیٰ حکام، بشمول چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور ڈی جی پی کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اسی دوران ہائی کورٹ نے کوچ بہار کے ایک ضلعی جج کی شکایت ریاستی حکومت کو ارسال کر دی ہے، جس میں انہوں نے ایک مقامی سیاسی کارکن کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر عدالتِ عالیہ اجازت دے تو وہ اب سے روزانہ کی بنیاد پر ضمنی لسٹیں شائع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین