انصاف نیوز آ ن لائن
مرکزی حکومت کے ذریعہ دی گئی ڈیڈ لائن 5دسمبر کو ختم ہوگئی ہے۔تاہم مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے واضح طور پر کہا ہے کہ ریاستی وقف بورڈ ٹربیونل سے رجوع کرسکتے ہیں اور اگلے تین مہینے تک وقف املاک کے رجسٹریشن کیلئے کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔تاہم یہ سوال کافی اہم ہے کہ کیا اگلے تین مہینے تک تمام وقف املاک کا رجسٹریشن مکمل ہوجائے گا۔یہ سوال اس لئے ضروری ہے کہ ملک میں کل 8لاکھ وقف املاک ہیں جس میں 5دسمبر تک صرف 2.16لاکھ وقف املاک ”امید پورٹل “ پر رجسٹرڈ ہوسکے ہیں ۔یعنی 6لاکھ وقف املاک کا رجسٹریشن باقی ہے۔
وقف املاک رجسٹرڈ کرنے کے معاملے میں جہاں کرناٹک میں سب سے شاندار کارکردگی کا مظاہر کیا ہے ۔کرناٹک میں کل 52,917 املاک رجسٹرد ہوئے ہیں جو کل وقف املاک کا 81فیصد ہوتا ہے۔جبکہ وقف املاک کی سب سے زیادہ املاک والا اترپردیش (شیعہ اور سنی بورڈز کے تحت) صرف 5% اور 11% وقف املاک ہی رجسٹر ڈ ہوپائے ہیں ۔
بدترین کارکردگی والی ریاستوں میں مغربی بنگال ہے جہاں کل 80,480وقف املاک ہے مگر صرف 716وقف املاک ہی رجسٹر ڈ ہوسکے ہیں ۔ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس نے پہلے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ بنگال میں وقف قوانین نافذ نہیں کیا جائے ۔مگر نومبر کے آخری ہفتے میں ممتا حکومت نے اعلان کیا کہ بنگال میں وقف قوانین نافذ ہں گے اور امید پورٹل پر وقف املاک کو رجسٹرڈ کرنے کی ہدایت جاری کیا گیا۔
وقف بورڈ کے عہدیداروں نے کہا کہ وہ اپنے صوبوں میں وقف ٹریبونلز میں درخواستیں جمع کروانا شروع کر دیں گے تاکہ دستاویزات اپ لوڈ کرنے اور پورٹل پر املاک رجسٹر کرنے کی مدت میں توسیع مل سکے۔
5.17 لاکھ جمع کرائی گئی درخواستوں میں سے 10,872 مسترد ہوئیں۔ کارناٹک نے 52,917 املاک (81%) رجسٹر کر کے سب سے آگے رہا، اس کے بعد جموں و کشمیر 25,046 (77%)، پنجاب 24,969 (90%)، اور گجرات 24,133 (61%) ہیں۔
اترپردیش نے شیعہ وقف بورڈ کی صرف 789 (5%) اور سنی وقف بورڈ کی 12,982 (11%) املاک کی رجسٹریشن مکمل کی۔ بہار کے علاوہ یوپی واحد صوبہ ہے جہاں شیعہ اور سنی کے الگ الگ وقف بورڈ ہیں۔ مہاراشٹر میں 36,700 میں سے 17,971 املاک (48%) رجسٹر ہوئیں۔
“امید” (Unified Waqf Management, Empowerment, Efficiency and Development) پورٹل 6 جون کو متنازع وقف (ترمیمی) ایکٹ کے تحت شروع کیا گیا تھا تاکہ تمام وقف املاک کو جیو ٹیگنگ اور دستاویزات کے ساتھ مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں لایا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے املاک کا بہتر اور شفاف انتظام و تحفظ ممکن ہو گا۔ رجسٹریشن کی ڈیڈلائن ہفتے کی رات ختم ہو گئی۔
وقف بورڈز اور متولیوں (نگرانوں) کو پورٹل کریش ہونے، صدیوں پرانی املاک کے کاغذات نہ ملنے، اور مختلف صوبوں میں زمین کے پرانے پیمانوں کے مسائل درپیش ہیں۔گزشتہ ہفتے اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا تھا کہ ناکام رہنے والوں پر تین ماہ تک کوئی جرمانہ نہیں ہو گا اور وہ اپنے صوبوں کے وقف ٹریبونلز سے رجوع کر کے توسیع لے سکتے ہیں۔ ٹریبونلز کو توسیع دینے کا اختیار ہے۔
وقف بورڈ عہدیداروں نے کہا کہ وہ توسیع کے لیے ٹریبونلز میں درخواستیں دینا شروع کر دیں گے۔ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے ایک عہدیدار نے کہاکہ جن صوبوں میں رجسٹریشن کم ہے، وہاں ٹریبونلز کو توسیع کی درخواستوں کا سیلاب آ جائے گا۔امید” پورٹل پر رجسٹریشن تین مرحلہ پر مشتمل تھی: پہلا مرحلہ متولی کرتے تھے، دوسرا وقف بورڈ عہدیدار، اور آخری مرحلہ بورڈ کے سی ای او مکمل کرتے تھے۔
ملک میں کل 8.8 لاکھ وقف املاک ہیں۔ سب سے زیادہ 2.4 لاکھ اترپردیش (سنی + شیعہ بورڈ)، پھر مغربی بنگال (80,480)، پنجاب (75,511)، تمل ناڈو (66,092)، اور کارناطک (65,242) میں ہیں۔
