نئی دہلی:انصاف نیوز آن لائن
بجٹ پیش کئے جانے کے ایک دن بعد آج پیر (2 فروری) کو اُس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نراوَنے کی غیر شائع شدہ خود نوشت (میمائر) کا حوالہ دیا۔ اس کتاب میں اگست 2020 میں چینی فوجی نقل و حرکت سے نمٹنے کے دوران پیش آنے والی صورتحال کو سابق آرمی چیف کے لیے ایک ’’تپتا ہوا مسئلہ‘‘ (Hot Potato) قرار دیا گیا ہے۔
جب راہل گاندھی نے جنرل نراوَنے کی کتاب سے متعلق ’’دی کارروان‘‘ میں شائع مضمون کے اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی، تو تین مرکزی وزراء—وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو—نے اس پر سخت احتجاج کیا۔ اس دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی ایوان میں موجود تھے، تاہم انہوں نے خاموشی برقرار رکھی۔
مرکزی وزراء نے مؤقف اختیار کیا کہ جس کتاب کی تاحال اشاعت ہی نہیں ہوئی ہے، ایوان میں اس کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اخبارات اور رسائل کے مضامین کو ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جواب میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت حقائق سے خوفزدہ ہے، اسی لیے انہیں اقتباسات پڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔
اسپیکر اوم برلا نے صورت حال پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف پارلیمانی قواعد کی پابندی نہیں کر رہے انہوں نے ’’قاعدہ 349‘‘کا حوالہ دیا، جس کے تحت اراکین ایوان کی کارروائی سے براہِ راست تعلق نہ رکھنے والی کسی کتاب، اخبار یا خط کو نہیں پڑھ سکتے۔
واضح رہے کہ جنوری 2024 میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ جنرل نراوَنے کی یادداشت ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ وزارتِ دفاع اور وزارتِ خارجہ سے منظوری کی منتظر ہے، اس کی وجہ سے اس کی اشاعت رکی ہوئی ہے۔ اتوار (1 فروری) کو ’’دی کارروان ‘‘نے اس کتاب کے کچھ حصے شائع کیے تھے، جن میں 2020 کے پاک چین سرحدی تنازع کو سنبھالنے کے حکومتی طریقے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
راہل گاندھی نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ’’یہ آرمی چیف نراوَنے کی یادداشت سے ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ غور سے سنیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اصل محبِ وطن کون ہے۔ جب چار چینی ٹینک بھارتی علاقے کی طرف بڑھ رہے تھے، آرمی چیف لکھتے ہیں کہ ’ٹینک کیلاش رینج سے چند سو میٹر کے فاصلے پر تھے‘۔
اس پر وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ غیر مصدقہ اور غیر شائع شدہ مواد کی پارلیمنٹ میں کوئی حیثیت نہیں۔ راہل گاندھی نے طنزیہ انداز میں کہاکہ راج ناتھ جی اس لیے بے چین ہو رہے ہیں کیونکہ ابھی ان کا نام آنے والا ہے۔
وزیرِ داخلہ امت شاہ نے بھی سخت سوال کیا کہ کیا راہل گاندھی اس کتاب کے شائع ہونے کی تصدیق کر سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میگزین کی رپورٹ کو مستند نہیں مانا جا سکتا۔ ہنگامہ آرائی اس قدر بڑھی کہ ایوان کو پہلے سہ پہر تک اور بعد ازاں اگلے روز (منگل) تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
بعد ازاں بی جے پی نے اپنے آفیشل ہینڈل سے جنرل نراوَنے کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ’’بھارت کی ایک انچ زمین بھی نہیں گئی‘‘۔ بی جے پی نے راہل گاندھی پر الزام لگایا کہ وہ ایک سابق آرمی چیف کے نام کو اپنی ’’گندی سیاست‘‘کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے مطالبہ کیا کہ کانگریس کو 1962 کی جنگ میں زمین کھونے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
