Wednesday, February 25, 2026
homeاہم خبریںاین سی ای آر ٹی کی کتاب میں 'عدالتی کرپشن پر ہنگامہ،...

این سی ای آر ٹی کی کتاب میں ‘عدالتی کرپشن پر ہنگامہ، چیف جسٹس برہم، کتاب مارکیٹ سے ہٹائی گئی

نئی دہلی: انصاف نیوز آن لائن

چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریہ کانت نے این سی ای آر ٹی (NCERT) کی آٹھویں جماعت کی نئی کتاب میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘پر مبنی باب کی شمولیت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس نے اسے عدالتی ادارے کے خلاف ایک ’’منظم اور گہرا حملہ‘‘قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی کو بھی عدلیہ کی ساکھ مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس شدید ردعمل کے بعد این سی ای آر ٹی نے فوری طور پر کتاب کو مارکیٹ سے واپس لے لیا۔

آٹھویں جماعت کی اس نئی کتاب میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘کا دعویٰ کیا گیا ہے۔جسٹس جومالیا باگچی نے اسے خود آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کتاب خود بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، کتاب میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘پر ایک باب ’’ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار‘‘ کے حصے کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔

اس باب میں عدالتی نظام کو درپیش چیلنجوں میں عدلیہ کی مختلف سطحوں پر بدعنوانی اور متعدد وجوہات، جیسے ججوں کی مناسب تعداد کی کمی، پیچیدہ قانونی طریقہ کار، اور ناقص انفراسٹرکچر کی بنیاد پر مقدمات کے بڑے پیمانے پر بیک لاگ (زیر التواء مقدمات) کی فہرست دی گئی تھی۔

سینئر وکیل کپل سبل نے آج عدالت کو اس سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ این سی ای آر ٹی کلاس 8 کے طلباء کو عدالتی بدعنوانی کے بارے میں پڑھا رہا ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ ہم یہاں بار (وکلاء برادری) کے لیے ہیں۔

اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے انکشاف کیا کہ اس معاملے کا نوٹس لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے اور میں نے نوٹس لیا ہے۔ یہ ایک حساب شدہ اقدام لگتا ہے۔ میں اس بارے میں زیادہ نہیں کہوں گا۔

سینئر وکیل منو سنگھوی نے کہا کہ یہ سلیکٹیو بدعنوانی دوسرے شعبوں میں بھی ہے لیکن عدالتی بدعنوانی پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

کپل سبل نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بار کے اراکین اس بات پر رنجیدہ ہیں کہ آٹھویں جماعت کے بچوں کو عدلیہ کے کرپٹ ہونے کے بارے میں پڑھایا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ مجھے اس معاملے پر ہائی کورٹ کے ججوں اور وکلا کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹنا ہے۔ ہم کسی کو ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ابھیشیک منو سنگھوی نے سوال اٹھایا کہ کتاب میں صرف عدلیہ کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سیاست دانوں، وزراء اور بیوروکریسی میں کرپشن کا کوئی ذکر نہیں ہے، جو کہ ایک ’’انتخابی نقطہ نظر‘‘ (Selective Approach)ہے۔

این سی ای آر ٹی کی نئی کتاب Exploring Society: India and Beyondکے باب ‘ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار میں درج ذیل نکات شامل کیے گئے تھے:
1. کرپشن کا تجربہ:نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک لوگ بدعنوانی کا تجربہ کرتے ہیں۔
2. مقدمات کا انبار ملک کی عدالتوں میں 5 کروڑ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سپریم کورٹ کے 81 ہزار مقدمات شامل ہیں۔
3. غریبوں کی پہنچ سے دور انصاف ججوں کی کمی اور پیچیدہ قانونی طریقہ کار کی وجہ سے غریب طبقے کے لیے انصاف کا حصول ناممکن ہو گیا ہے۔

شدید تنقید اور عدالتی ناراضگی کے بعد وزارتِ تعلیم کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کتاب کی فروخت روک دی گئی ہے۔ این سی ای آر ٹی کے مطابق، اب متنازع باب کو حذف کر کے یا اس میں ترامیم کر کے کتاب کو دوبارہ شائع کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اداروں پر تنقید جمہوریت کا حسن ہے، لیکن بچوں کے نصاب میں اس طرح کے حساس موضوعات کو شامل کرنا ایک بڑا علمی اور قانونی چیلنج بن گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عدلیہ خود پر اٹھنے والے ان سوالات کا جواب اصلاحات کے ذریعے دے گی یا صرف سنسر شپ ہی واحد حل رہے گا؟

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا عدالتیں بدعنوانی سے پاک ہیں؟ کیا عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں؟ اگر انصاف فراہم کر رہی ہیں تو پھر بابری مسجد کے انہدام کے ملزمان کو آج تک سزا کیوں نہیں ملی؟ مسلمانوں کے خلاف بیان دینے والے جج اب تک عدالت کی کرسی پر کیوں متمکن ہیں؟ روپے برآمد ہونے کے باوجود جسٹس ورما کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی عدالتیں آئین کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جب ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ غیر آئینی اقدامات کا عہد کرتا ہے تو سپریم کورٹ، جو آئین کی محافظ (Custodian) ہے، آئین کے تحفظ سے کیوں پہلو تہی کرتی ہے؟

یہ تمام سوالات عدلیہ کی ساکھ، شفافیت اور آئینی ذمہ داریوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ حالیہ این سی ای آر ٹی کی جماعت ہشتم کی کتاب میں **”عدلیہ میں کرپشن”** کے باب نے اس بحث کو نئی جہت دی ہے، جس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے سخت ردعمل دیا اور سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا۔ کتاب میں صرف عدلیہ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دیگر اداروں (جیسے سیاست اور بیوروکریسی) میں کرپشن کا ذکر نہیں کیا گیا، جو ایک ’’انتخابی نقطہ نظر‘‘کی نشاندہی کرتا ہے۔

عدلیہ میں کرپشن کے الزامات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں، لیکن ادارہ خود کو احتساب کا پابند سمجھتا ہے۔ ججوں کا ضابطۂ اخلاق موجود ہے، CPGRAMS جیسے نظام شکایات کے لیے ہیں، اور سنگین کیسز میں پارلیمنٹ کے ذریعے مواخذے (Impeachment) کا راستہ ہے۔ تاہم، عوامی تاثر یہ ہے کہ اندرونی احتساب کا نظام ناکافی ہے۔
بابری مسجد انہدام کیس: 1992 کے انہدام کے مقدمے میں 2020 میں اسپیشل سی بی آئی کورٹ نے تمام 32 ملزمان (بشمول کئی سیاسی رہنما) کو بری کر دیا تھا۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ انہدام غیر قانونی تھا، مگر سازش کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر ہوئی تھی، مگر 2026 تک حتمی فیصلہ نہیں آیا۔ یہ معاملہ انصاف میں تاخیر اور سیاسی اثرات کی مثال ہے۔

ججوں کے بیانات اور کرپشن کے الزامات: کچھ ججوں پر مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ بیانات دینے کے الزامات لگے، مگر ان پر کارروائی نہ ہونے سے تنقید ہوتی ہے۔ عدلیہ خود کو آزاد قرار دیتی ہے، لیکن عوامی سطح پر اعتماد کا بحران پیدا ہوتا ہے۔

جسٹس یشونت ورما کیس (کیش ریکوری): 2025 میں دہلی ہائی کورٹ کے جج (اس وقت الہ آباد ہائی کورٹ میں تعینات) کے گھر آگ لگنے پر بڑی مقدار میں جلے ہوئے نوٹ برآمد ہوئے۔ ان ہاؤس انکوائری (داخلی تحقیقات) نے غلطی ثابت کی، اور مواخذے کا عمل شروع ہوا۔ سپریم کورٹ نے 2026 میں ان کی درخواست مسترد کر دی، اور پارلیمانی کمیٹی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ کیس عدلیہ میں احتساب کے عمل کی ایک مثال ہے، مگر اس میں تاخیر پر سوالات اٹھتے ہیں۔

سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے، اور ریاستوں کے غیر آئینی اقدامات (جیسے اینٹی کنورژن قوانین، ہیٹ اسپیچ، یا دیگر پالیسیز) پر نوٹس لیتی رہی ہے۔ 2026 میں کئی کیسز (جیسے اینٹی کنورژن قوانین پر نوٹسز، یا سیاسی بیانات پر ردعمل) میں عدالت نے ہائی کورٹس کو ہدایت دی یا خود سماعت کی۔ تاہم، بعض معاملات میں تاخیر یا سیاسی حساسیت کی وجہ سے تنقید ہوتی ہے کہ عدالت بعض اوقات پہلو تہی کرتی نظر آتی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے سیاسی معاملات میں ہائی کورٹس کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔

این سی ای آر ٹی کی کتاب کا باب عدلیہ کی کمزوریوں (جیسے التواء، کرپشن کے الزامات) کو اجاگر کرنے کا مقصد طلبہ میں شہری شعور پیدا کرنا تھا، مگر اسے ’’عدلیہ پر حملہ‘‘ قرار دے کر واپس لے لیا گیا۔ یہ تنازع عدلیہ کی خود احتسابی، شفافیت اور عوامی اعتماد کی بحالی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ عدلیہ کو آئین کی حفاظت میں مزید فعال اور شفاف ہونا چاہیے تاکہ ایسے سوالات کم ہوں۔ اگر عدلیہ خود پر سوال اٹھانے والوں کو ’’حملہ آور‘‘سمجھے گی تو اصل مسائل حل نہیں ہوں گے۔

عدالت سے متعلق یہ متوازن تجزیہ ہے کہ عدلیہ کی خوبیاں بھی ہیں (جیسے بنیادی حقوق کا تحفظ)، مگر کمزوریاں بھی موجود ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین