Thursday, May 30, 2024
homeہندوستانبات صرف پٹائی کی نہیں بلکہ مذہبی تفریق کی ہے، اسی لیے...

بات صرف پٹائی کی نہیں بلکہ مذہبی تفریق کی ہے، اسی لیے برداشت نہیں ہو رہا:

کھباپور گاؤں سے گراؤنڈ رپورٹ----یوسف تیاگی کا کہنا ہے کہ گاؤں کا معاملہ دیکھتے ہوئے کل مقامی لوگوں نے متاثرہ کے والد ارشاد کو سمجھا کر سمجھوتہ بھی کرا دیا تھا، لیکن کچھ باتوں کو سننے کے بعد ہم کارروائی چاہتے ہیں۔

محمد کیف
3000 کی آبادی والے کبھاپور گاؤں میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 800 ہے۔ گرام پردھان پال سماج سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن گاؤں کو ’تیاگیوں‘ کے کھباپور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گاؤں میں بچوں کی پٹائی کے بعد مشہور ہوئی ٹیچر ترپتا تیاگی کے علاوہ بچے کے والد بھی تیاگی سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا نام ارشاد تیاگی ہے۔ دونوں سماج کی گاؤں میں برابر کی آبادی ہے۔ ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہیں۔ مذہب الگ الگ ضرور ہے، لیکن ذات ایک ہی ہونے کے سبب آپسی بھائی چارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارشاد کے گھر کھڑے یوسف تیاگی کہتے ہیں کہ ترپتا تیاگی ہماری برادری کی بہن ہے، وہ بچوں کی علامتی پٹائی کر سکتی تھیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دوسرے بچوں سے پٹوانا ہی نہیں چاہیے تھا، اور پھر ’محمڈن‘ لفظ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا، اس نے دل کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔

یوسف تیاگی کا کہنا ہے کہ گاؤں کا معاملہ دیکھتے ہوئے کل مقامی لوگوں نے متاثرہ کے والد ارشاد کو سمجھا کر سمجھوتہ بھی کرا دیا تھا، لیکن کچھ باتوں کو سننے کے بعد ہم کارروائی چاہتے ہیں۔ یہ بات اب ایک اسکول اور ایک ٹیچر کی نہیں رہ گئی ہے، بلکہ حوصلہ شکنی کی ہے۔ اگر یہاں سے ہم خاموش بیٹھ جاتے ہیں تو ہمارے بچے احساس کمتری کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ الگ بات ہے کہ پولیس نے اس معاملے میں این سی آر درج کی ہے۔ اس میں پولیس گرفتاری نہیں کرتی ہے۔ ارشاد تیاگی کہتے ہیں کہ پہلے تو ایک بار سمجھوتہ ہی کرا دیا تھا، یہ تو اس کے بعد پولیس نے خود ہی مقدمہ درج کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی دباؤ کے سبب یہ کیا گیا ہے۔ اب انتظامیہ جو بھی کارروائی کرے گی، یہ ان پر منحصر کرتا ہے۔ میں تو بس یہی کہہ رہا ہوں کہ اس سب کے درمیان میرے بچے کے ذہن پر جو اثر پڑ رہا ہے، وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ہم اپنے بچوں کو اس لیے پڑھا رہے ہیں کیونکہ وہ قابل آدمی بنے اور سماج و ملک کا نام روشن کرے۔ لیکن جو کچھ اس کے ساتھ ہوا ہے وہ حوصلہ کمزور کرنے والا ہے۔ میں اپنے بچوں کی ہمت ٹوٹنے نہیں دوں گا۔ میں کوشش کروں گا کہ وہ یہ سب بھول جائے۔

ارشاد تیاگی کسان ہیں اور آج صبح ہی ان سے آر ایل ڈی چیف جینت چودھری، کاگنریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی فون پر بات کی ہے۔ ارشاد بتاتے ہیں کہ تمام لوگ بات کر رہے ہیں اور ملنے بھی آ رہے ہیں۔ لیکن میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے یہیں رہنا ہے اور بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے۔ میں ان سبھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سبھی نے مجھے یہ احساس کرایا ہے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ ایک رکن اسمبلی چندن چوہان نے میرے فون پر جینت چودھری سے بات کرائی جس میں انھوں نے میرے بچوں کو دوسرے اسکول میں داخلہ کرانے کی بھی بات کہی۔ میرا بچہ ابھی صرف 7 سال کا ہے، اس کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ ٹیچر ترپتا تیاگی کو سخت سزا ملے بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ کسی بھی دوسرے بچوں کے ساتھ اس طرح کا کوئی تفریق نہ ہو۔


متاثر لڑکے کے والد میڈیا سے بات کرتے ہوئے

کھباپور، منصور پور تھانہ حلقہ کا ایک گاؤں ہے۔ اس میں آپ کو شاہ پور روڈ پر تقریباً 5 کلومیٹر چلنا پڑتا ہے۔ گاؤں میں بیشتر کسان ہیں۔ جس اسکول ’نیہا پبلک اسکول‘ کی ٹیچر کے ذریعہ پٹائی کی بحث ہو رہی ہے، گاؤں میں اس نام کا اسکول نہیں ہے۔ دبی زبان میں ایک نوجوان بتاتا ہے کہ پاس کے ایک گاؤں گھاسی پورہ میں اس نام کا اسکول ہے، وہ یہاں سے دو کلومیٹر دور ہے۔ یہاں جو بچے پڑھ رہے ہیں وہ وہیں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں۔ مظفر نگر کے بی ایس اے معاملے کے طویل پکڑنے کے بعد اسی گاؤں میں جانچ کرنے پہنچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس پوائنٹ کے بارے میں اطلاع ملی ہے اور اس کی بھی جانچ کریں گے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی گاؤں میں کسی طرح کا کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہے۔ گاؤں کے چندرپال کہتے ہیں کہ میڈم نے غلط طریقہ اختیار کیا، انھیں بچوں کی پٹائی دوسرے بچوں سے نہیں کرانی چاہیے۔ تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے جو الفاظ کہے وہ بھی غلط تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی نیت ٹھیک ہو، لیکن جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ بہت زیادہ غلط تھا۔

بچوں کی پٹائی کا معاملہ اب سیاسی طول پکڑ رہا ہے۔ معاملہ کا رخ پلٹنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ بھیم آرمی اور سماجوادی پارٹی کے بھی کچھ کارکنان گاؤں میں بچوں کے گھر پہنچے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے مقامی لیڈر ساجد حسن نے تھانہ میں درج ہوئی رپورٹ پر اعتراض ظاہر کیا، وہ بھی گاو۷ں پہنچے تھے۔ ساجد نے کہا کہ اتنے سنگین جرائم والے معاملے میں پولیس نے محض این سی آر درج کی ہے۔ کم از کم ایف آئی آر تو لکھنی چاہیے تھی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے کارروائی کی نمائش کی جا رہی ہو۔ اگر اس طرح کے واقعہ میں متاثرہ اور ملزم کو مذہب الگ ہوتے تو اب تک این ایس اے اور بلڈوزر دونوں کا استعمال ہو جاتا۔ ویڈیو میں صاف نفرت دکھائی دے رہی ہے، لیکن رپورٹ میں اس کی دفعات نہیں لکھی گئی ہے۔ مقدمہ بے حد کمزور دفعات میں درج ہوا ہے۔


دوسری طرف ملزم ٹیچر ترپتا تیاگی کی گرفتاری کے مطالبہ کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معاملے نے اب سیاسی شکل اختیار کر لی ہے۔ مظفر نگر بی جے پی کے ضلع صدر رہ چکے دیوورَت تیاگی ملزم ٹیچر کے حق میں کھڑے ہو چکے ہیں۔ دیوورَت تیاگی نے بتایا کہ ٹیچر کی نیت خراب نہیں تھی۔ وہ بچوں کو پہاڑا یاد کروا رہی تھیں۔ معذور ہونے کے سبب اس نے بچوں کو ہی پیٹنے کے لیے کہہ دیا۔ انھوں نے کسی مذہب پر کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا، ٹیچر کی ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔ ویڈیو بنانے والے اور وائرل کرنے والوں نے سازشاً ایسا کیا ہے۔ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ملزم ٹیچر بھی یہی بات کہہ رہی ہے۔ ترپتا تیاگی کا کہنا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن ان کی نیت صاف تھی اور وہ بچوں کے بھلے کے لیے ہی سوچ رہی تھی۔

مظفر نگر کے ضلع مجسٹریٹ اروند ملپا بنگاری نے اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پولیس انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ اطفال فلاح تینوں کو ان کے کردار میں غیر جانبدارانہ کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی یقینی طور پر کی جائے گی۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس گاؤں کھباپور کی دوری کھتولی سے محض 10 کلومیٹر ہے۔ اس علاقے میں چندریان-3 کی لینڈنگ کے بعد سے جشن کا ماحول ہے۔ اِسرو کی ٹیم میں شامل رہے اریب احمد یہی کے رہنے والے ہیں۔ کھتولی کے اریب احمد کی دھوم گاؤں گاؤں تک پھیلی ہے۔ اس گاؤں میں بھی اریب احمد کی ویڈیو دیکھی گئی تھی۔ گاؤں کا ایک نوجوان ثاقب تیاگی تازہ پٹائی معاملہ کو لے کر کہتا ہے کہ ایسے کیسے بنیں گے مستقبل کے اریب! ان کا حوصلہ تو بچپن میں ہی ٹوٹ جائے گا۔ ثاقب کہتے ہیں کہ انھیں بہت برا لگ رہا ہے۔ اسکولوں میں تفریق کے کئی واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ ایک معاملہ سامنے آ گیا، لیکن معاملے تو اور بھی ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین