امامو ں اور موذنوں کی سیاسی کانفرنس :’پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے‘

0
201
ائمہ و مئوذن کانفرنس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی موجودگی میں اللہ کے حضور میں بدست دعا حضرات ائمہ
دعا تو خالص عبادت ہے۔مگر سیاسی پروگرام میں دعا بھی سیاسی ہوجاتے ہیں۔

عبدالعزیز

اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی 12سالہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ (achievment)یہ ہے کہ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مغربی بنگال میں برسراقتدار آنے سے روک رکھا ہے۔ حالانکہ محترمہ کے ذریعے ہی بی جے پی کے پیر بنگال میں جمے اور آج اس کے 70,72 ممبران مغربی بنگال اسمبلی میں ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کی ساتھ وزیر اعلیٰ کا رویہ اور سلوک ہے وہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ افسوسناک اس لحاظ سے ہے کہ انھوں نے اپنا وعدہ مسلمانوں سے جو کچھ کیا تھا اسے پورا نہیں کیا۔ شرمناک اس لحاظ سے ہے کہ مسلمانوں کا وقار مجروح ہوا اور ہورہا ہے۔ جو کچھ ذلت و نکبت میں کسر اور کمی تھی وہ اماموں اور موذنوں کی گزشتہ کانفرنس میں پوری ہوگئی۔ اماموں اور موذنوں کی ذلت و رسوائی ہوئی اسے قلمبند کرنا مشکل ہے۔ ان کے ذریعے ملت جو ذلیل و خوار ہوئی اسے بھی کاغذ پر اتارنا آسان نہیں ہے۔ کلکتہ کے ایک دو قلمکاروں کے سوا کانفرنس کی صحیح پکچر کسی نے پیش نہیں کی۔ نہ پیش کرنے کی وجہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ جہاں تک اردو اخبارات کا معاملہ ہے تو اس کی بے بسی اور مجبوری بھی قابل رحم ہے۔ اس کانفرنس کا پورا مقصد کسی بھی چھوٹے بڑے آرگنائزر (ناظم) پر واضح نہیں تھا۔ اس کی شاید وجہ یہ تھی کہ ٹھیک سے منصوبہ بندی نہیں ہوئی۔ تینوں چاروں نظماءمیں طے نہیں ہوا کہ کانفرنس کا مقصد کیا ہو اور کیا نہ ہو؟ یہی وجہ ہے کہ ایک ناظم جن کو ناظم اول کہنا چاہئے۔ اخبارات میں ان کے ساتھ جو اشتہارات دیئے گئے تھے ان میں امامت کی اصطلاح تھی یا جو دعوت نامے اہم آدمیوں کے لئے جاری کئے گئے تھے اس میں بھی داعی کے نام کے ساتھ امام لکھا ہوا تھا۔ کانفرنس کی ناکامی اور بدنامی کے بعد جب موصوف سے پوچھا گیا کہ اس کانفرنس کا مقصد کیا تھا تو انھوں نے فرمایا کہ کانفرنس کا مقصد قومی یکجہتی تھا۔ حالانکہ بینر میں یا اشتہاروں میں قومی یکجہتی کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ ایک دوسرے صاحب جو امام نہیں تھے مگر ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ منصوبہ ساز تھے۔ انھوں نے ناظم اول کی باتوں کی تردید کی، فرمایا کہ یہ کانفرنس محض اماموں اور موذنوں کے وظیفے کے اعلان کے لئے منعقد کی گئی تھی۔

ایک صاحب جو حقیقت میں ان دونوں سے شخصی لحاظ سے قدآور ہیں، علمی لحاظ سے بھی بڑے ہیںان کی شکایت تھی کہ ان کے مقام و مرتبے کا خیال نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ان کا عمل دخل کانفرنس میں زیاد ہ نہیں تھا اور نہ ہی ان کے مشورے کو اہمیت دی گئی۔ ان کے قول کے مطابق انھوں نے منتظمین کو مشورہ دیا تھا کہ مسلمانوں کے مسائل پر مشتمل وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم پیش کرنا چاہئے، مگر ان کی باتوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیا گیا کہ مہمان سے مطالبہ کرنا یا میمورنڈم دینا صحیح نہیں ہوگا۔ تینوں حضرات کی تین قسم کی باتوں سے بخوبی انداز ہوتا ہے کہ سب کا اپنا اپنا کوئی مقصد رہا ہوگا اور اس مقصد کا پتہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ان سب پر ایک وزیر موصوف بھاری تھے اور ان کو Man Behind کہا جاسکتا ہے۔ ان کی غر ض و غایت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ اماموں اور موذنوں کے اجتماع سے اپنے اثر و رسوخ کو ظاہر کریں اور محترمہ ممتا بنرجی کا جو نظر کرم ان پر کچھ کم ہے وہ بڑھ جائے، یہ سمجھتے ہوئے کہ مسلمانوں میں ان کی قیادت و سیادت ابھی بھی مستحکم ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ سب کا ایک مشترکہ مقصد تھا کہ ممتا بنرجی کا چہرہ دکھا کر اماموں اور موذنوں کو سبز باغ دکھایا جائے تاکہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں امام اور موذن بغیر سوچے سمجھے نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں 3بجے رات سے جمع ہونا شروع ہوجائیں۔ دور دراز سے آنے والے ایک دو روز پہلے ہی بسوں اور ٹرینوں سے کلکتہ لائے گئے اور مختلف مقامات پر ٹھہرائے گئے۔ دو قسم کا داخلہ کارڈ تقسیم ہوا۔ ایک وی آئی پی (ایم شخصیات) کارڈ اور دوسرا عام لوگوں کے لئے۔ بغیر کارڈ کے بھی ہزاروں لوگ چلے آئے تھے۔ جب وہ گیٹ پر پہنچے تو انھیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔ بقول ایک آرگنائزر کے اندر کے مقابلے میں دس گنا امام اور موذن اسٹیڈیم کے باہر شرکت کے لئے جمع تھے۔ جو باہر تھے ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اندر جانے کی اجازت نہ پانے کی وجہ سے الٹے پائوں چلے آئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کلکتہ کی مسجدوں کے امام و موذن تھے۔ کلکتہ سے باہر کی مسجدوں کے امام و موذن صاحبان شام تک اسٹیڈیم کے پاس بھٹک رہے تھے۔ انھیں نہ کوئی راستہ دکھائی دے رہا تھا اور نہ منزل نظر آرہی تھی۔ اندر جانے والوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ دیکھ کر کف افسوس مل رہے تھے۔

کانفرنس کی کارروائی 2بجے دن سے شروع ہوئی۔ قرآن مجید کی تلاوت اور نعت خوانی کے بعد 40,45 افراد کو دو دو منٹ کے لئے دعوتِ تقریر دی گئی۔ 15منٹ سے زائد وزیر موصوف فرہاد حکیم بولتے رہے۔ فرہاد حکیم صاحب کانفرنس کے مہمان اعزازی تھے۔ جبکہ محترمہ ممتا بنرجی مہمان خصوصی تھیں۔ مولانا محمد شفیق کے ہاتھ میں مائیک تھا۔ وہ بیک وقت نظامت، نقابت اور صدارت فرما رہے تھے۔ ایک صاحب جو امام نہیں تھے وہ امامت کی معاونت، مشاورت اور قیادت میں مصروف عمل تھے۔

محترمہ ممتا بنرجی ساڑھے تین بجے نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں تشریف لائیں۔ ان کی تقریر نصف گھنٹے سے زیادہ تک جاری رہی۔ خالص سیاسی تقریر تھی۔ کانگریس، سی پی ایم پر شدید تنقید کرتی رہیں۔ بی جے پی کو لعنت و ملامت کرنے میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کیا۔ ایک غیر سیاسی کانفرنس میں سوال یہ ہے کہ سیاسی باتوں کا مقصد کیا تھا؟ سیاستداں کے لئے سیاسی بات نہ کرنا مشکل کام ہے۔ ممکن ہے وہ اپنا حق سمجھتی ہوں۔ لیکن اس کانفرنس میں فرفرہ شریف کے پیر زادہ عباس صدیقی اور نوشاد صدیقی کو نشانہ بناتے ہوئے یہ کہنا کہ فرفرہ شریف سے تعلق رکھنے والوں کو سیاست نہیں کرنا چاہئے۔ ان کو ویلور مٹھ کے رام کرشنا کی طرح سیاست سے کنارہ کش رہنا چاہئے، صحیح بات نہیں تھی۔ وہ حقیقت میں یہ کہہ رہی تھیں کہ فرفرہ شریف کے لوگوں کو سیاسی پارٹی ’انڈین سیکولر فرنٹ‘(ISF) بنانا غلط ہے۔ ائمہ کرام کو اس فرنٹ سے کوسوں دور رہنا چاہئے۔

محترمہ ممتا بنرجی ایک سیاسی پارٹی کی سربراہ ہیں۔ ان کو دستور اور آئین کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی طرح ہر ایک کو جماعت سازی اور سیاست کرنے کا حق ہے۔ اماموں اور موذنوں کو بلاکر امامت کرتے ہوئے اماموں کو نصیحت اور تنبیہ کرنا کچھ زیادہ ہی معلوم ہورہا تھا۔ جیسے وہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہ وظیفہ ترنمول کانگریس کی حمایت اور خدمت کے لئے دیا جاتا ہے۔ کسی اور پارٹی کی طرف دیکھنا یا رخ کرنا غلط ہے۔حقیقت میں محترمہ مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم سے بےحد خائف ہیں۔ ان کو کانفرنس کے منتظمین نے ڈرایا اور بتایا ہوگا کہ انڈین سیکولر فرنٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ اس کو گھٹانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اماموں اور موذنوں کی تنخواہوں میں دو چار سو روپیہ بڑھاکر اماموں اور مو¿ذنوں کی ایک کانفرنس میں اعلان کیا جائے۔ پیرانِ حرم کی کم نگاہی سے ممتا بنرجی کا یہ مقصد پورا نہیں ہوا۔ جب انھوں نے تنخواہوں میں پانچ سو روپئے کے اضافے کا اعلان کیا تو چاروں طرف سے چیخ پکار ہونے لگی کہ ”ہمیں پانچ سو روپیہ نہیں چاہئے، نہیں چاہئے، نہیں چاہئے“۔ جب شور و غل زیادہ ہونے لگا تو قاری فضل الرحمن صاحب، امام عیدین کو زحمت دی گئی۔ موصوف سامنے آئے اور مجمع کو خاموش کرنے کے لئے فرمایا کہ صبر سے کام لیجئے، 6، 7 مہینے بعد مزید رقم بڑھا دی جائے گی۔

ایسا لگتا ہے کہ ممتا بنرجی کو اماموں کی حیثیت اور ان کی بے چارگی اور لاچاری کچھ اس طرح نظر آتی ہے، سمجھا ہوگا کہ پانچ سو روپئے ان کے لئے بہت ہے۔ طرفہ تماشا یہ تھا کہ بار بار وہ یہ بھی اعلان کرتی رہیں کہ اتنی ہی رقم پروہتوں کی تنخواہ میں بڑھائی جائے گی، جبکہ وہاں کوئی پروہت یا پنڈت نہیں تھا۔ ممتا بنرجی اماموں کو کمتر کیوں سمجھتی ہیں؟ اس میں اماموں کی جو امامت کر رہے ہیں سب سے زیادہ قصور ان کا ہے جو ناظم اور صدر بنے ہوئے ہیں، جو اپنی شہرت اور عزت کے خواہاں ہیں، جو وزیر اعلیٰ سے قربت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ دوسرے نمبر پر امام اور موذن خود ہیں۔ وہ بھی اپنے مقام و مرتبے کو سمجھنے سے حد درجہ قاصر ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے محض ایک اعلان سننے کے لئے بڑی تعداد میں جمع ہوگئے۔ ان کے ہاتھ رسوائی کے سوا کچھ نہیں آیا۔ وہ خود بھی رسوا ہوئے اور ان کے ذریعے ملت بھی ذلیل و خوار ہوئی۔

کانفرنس میں کھانے کا نظم بھی اس قدر خراب تھا کہ کھانا کھانے کے لئے امام و موذن قطار لگائے ہوئے تھے اور چھینا جھپٹی کر رہے تھے، یہ منظر بھی کافی تکلیف دہ تھا۔ راقم الحروف کو کسی نے بتایا کہ چیخ پکار جب ہونے لگی تو ممتا بنرجی نے بابی حکیم سے کہا کہ ”اماموں کو کھانا دے دو“۔ یہ منظر بھی تکلیف دہ تھا۔ یہ بھی کہا جارہا تھا کہ ممتا بنرجی کو چادر اوڑھانے کے لئے دو صاحبان میں تکرار دیکھ کر بھی بہتوں کو تعجب اور حیرت ہوئی۔ اس طرح کے کئی مناظر سے اماموں کا رتبہ کم ہوتا نظر آیا اور ملت کی بھی رسوائی ہوئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مغربی بنگال کے مسلمانوں کے لئے خاص طور پر ائمہ کرام کے لئے یہ کانفرنس ذلت اور رسوائی کا سبب بنی۔ اس کانفرنس سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ نمبر ایک کیا ممتا بنرجی مسلمانوں کے علاوہ دوسروں کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھتی ہیں؟ سوال نمبر 2، کیا دیگر مذاہب کے ذمہ دار مذہبی افراد ائمہ کرام اور مو¿ذنوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے وزیر اعلیٰ کے خوشامد پسند افراد کی دعوت پر آسانی سے جمع ہوجاتے ہیں؟ سوال نمبر 3، کیا پانچ سو روپئے اعلان کے لئے ایسی کانفرنس کا بلانا ضروری تھا جہاں لوگوں کی عزت اور قدر و منزلت داو¿ پر لگائی جاسکے؟ سوال نمبر 4: 2012ءسے جو رقم ایک خاص سیاسی مقصد سے سرکار کی طرف جو امام و موذنوں کی دی جاتی ہے کیا اسے لینا چاہئے یا لینا شرعاً غلط ہے؟ سوال نمبر 5: کیا محترمہ ممتا بنرجی یا ان کے خوشامدپسندوں کی دعوت پر امام اور موذن تیسری بار بھی بغیر سوچے سمجھے جمع ہونے کی کوشش کریں گے؟

ممتا بنرجی کو مسلمانوں، مساجد اور اماموں سے کتنا لگائواور کتنی دلچسپی ہے اگر اس کو جاننا ہے تو میرا ایک مضمون بعنوان: ”قصہ سالٹ لیک کی ایک مسجد کا“ ضرور پڑھ لیں۔ ”مسلمان اور ان کے مسائل پر ممتا بنرجی کیوں عدم توجہی سے کام لیتی ہیں؟ اور مسلمان کیوں مغربی بنگال میں حاشیئے پر ہیں؟ “واقفیت کے لئے ہمارے ان مضامین کو پڑھا جاسکتا ہے۔ کلکتہ کی ایک مسجد کے امام سے جو ایک مکتبہ فکر کے رہبر اور رہنما ہیں ، کانفرنس کے اسٹیج پر بھی جلوہ فرما تھے، میں نے ان سے اس کانفرنس پر تبصرہ کے لئے کہا تو انھوں نے بڑی مشکل سے منہ کھولتے ہوئے کہاکہ ”کیا کہیں…. ”تمناو¿ں میں الجھایا گیا ہوں- کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں“