امیرالدین بابی اینڈ کمپنی بنام ثنا احمد اینڈ کمپنی – مسلم انسٹی ٹیوٹ پرامیرالدین اینڈ گروپ کا دبدبہ قائم

0
173

کلکتہ (صبا تابش)ایک مہینے کی رسہ کشی کے بعد آخر کار کل رات وارڈ نمبر 54کے کونسلر امیرالدین بابی کے گروپ نے مسلم انسٹی ٹیوٹ جیسے تعلیمی و ثقافتی ادارے پر اپنا دبہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔30جولائی کو مسلم انسٹی ٹیوٹ کی22رکنی ایگزیکٹیو کمیٹی بلا مقابلہ انتخاب جیت گئی تھی۔مگر یتیم خانہ اسلامیہ سے ثنا احمد گروپ کو نکالنے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد امیرالدین اینڈ کمپنی مسلم انسٹی ٹیوٹ کی نئی کمیٹی کے کو آپشن میں اپنے لوگوں کو لانے کیلئے پوری قوت صرف کردی تھی۔اس درمیان ثنا احمد بھی اپنے لوگوں کو داخل کرنے کیلئے لابنگ کرنے لگیں اور تنازع اس قدر بڑھ گیا کہ نذرالاسلام (۔۔۔ منا) کے ساتھ مارپیٹ ہوئی۔اس لڑائی کو مسلم انسٹی ٹیوٹ بنام ثنا احمد کردیا گیا۔جب کہ مارپیٹ میں شامل افراد کا دعویٰ ہے کہ نذرالاسلام کے ساتھ ان کا تنازع ایک فلیٹ کو لے کر تھا اور وہ ایک خاتون کی جگہ خالی کرانے کے باوجود مگر روپیہ نہیں دے رہے ہیں۔

کوآپشن میٹنگ

11ستمبر کو مسلم انسٹی ٹیوٹ کوآپشن کی میٹنگ ہونی تھی مگر ایک دن قبل ہی حج ہاؤس میں انسی ٹیوٹ کے کامیاب ممبران میں سے چند افرادکو چھوڑ کر سبھوں کو امیرالدین بابی، راجیہ سبھا رکن ندیم الحق، اشتیاق راجو نے بلاکر کوآپشن کیلئے لئے جانے والے ممبران کے ناموں پر دستخط کرالیا تھا۔چناں چہ میٹنگ شروع ہونے کے بعد مسلم انسٹی ٹیوٹ کے جنرل سیکریٹری نثار احمد نے کہا کہ19افراد نے کوآپشن کے ناموں پر دستخط کرلیا ہے۔اس لئے یہ لوگ کوآپشن کیلئے منتخب ہوگئے ہیں۔جب کہ میٹنگ سے قبل میٹنگ بذات خود بے ایمانی ہے۔دوسرے یہ کہ کوآپشن کے لئے پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ایک نام پیش کیا جاتا ہے اس پر بحث کی جاتی ہے اور اس کو اکثریت سے منتخب کیا جاتا ہے۔کوآپشن کی میٹنگ سے قبل ہی اکثریت کا دستخط میٹنگ کے جواز پر ہی اخلاقی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلم ادارے کس قدر اخلاقی بحران سے گزررہا ہے۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جس دور میں انتخابات کی تیاری چل رہی تھی اور پینل کی تشکیل ہورہی تھی اس وقت جنرل سیکریٹری نثاراحمد سمیت کمیٹی کی اکثریت نے صبا اسماعیل ندوی کو پینل میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی۔جنرل سیکریٹری سمیت کمیٹی کے دیگر ممبران نے صبا اسماعیل ندوی کے خلاف بدعنوانی کے معاملے کو بھی سامنے لایا تھاکہ انہوں نے ایجوکیشن کمیٹی کے سیکریٹری کی حیثیت سے اپنے اسکول کے کئی ٹیچروں کو کوچنگ کیلئے بحال کردیا۔ایگزیکٹیو کمیٹی کے ذریعہ مقرر کوچنگ کے کوآرڈی نیٹر محمدحفیظ کو ہٹاکر اپنے اسکول کے ٹیچر کو آرڈی نیٹر مقرر کردیا۔جن کے خلاف جنرل سیکریٹری نے خود الزام عاید کیا تھا ان کے نام کو خود جنرل سیکریٹری نے پیش کیا وہ اپنے آپ میں مضحکہ خیز ہے۔

انتخابات کے بعد سے ہی یہ خبر چرچا چل رہی تھی کہ امیرالدین بابی جنرل سیکریٹری کے عہدہ کیلئے آئی اے ایس (ریٹائرڈ)آفیسر شہزاد شبلی کو مقرر کرنا چاہتے ہیں۔اس کے بعد سے ہی جنرل سیکریٹری پریشان تھا مگر چوں کہ اس درمیان مسلم انسی ٹیوٹ کے تنازع میں ثنا احمد کی انٹری ہوگئی اور اس کا فائدہ نثار احمد کو ہوگیا تاہم ابھی یہ خبر گردش کررہی ہے کہ نثار احمد کو نائب صدر بنایا جاسکتا ہے اور شہزاد شبلی کو جنرل سیکریٹری تاہم شبلی کے قریبیوں نے بتایا کہ وہ اس عہد کے متمنی نہیں ہے۔یہ سوال بھی بہت ہی اہم ہے کہ شہزاد شبلی صاحب جیسے باوقار شخص اس طرح تنازع کا حصہ کیسے بننا پسند کیا ہے۔؟

امیر الدین بابی کے ایک قریبی نے بتایا کہ نثار احمد ان کے دفترمیں کئی مرتبہ آکر اپنے عہدہ کی گرانٹی لی اور ان سے فرمائش کی کہ شہزاد شبلی کے نام کو ڈراپ کیا جائے مگر امیرالدین بابی نے کہا کہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کی تیسری منزل کی تعمیر ہونی ہے اور اس کیلئے شہزاد شبلی کے کمیٹی میں ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت ہی مدد ملے گی۔اگر آپ شہزاد شبلی کو نہیں لینا چاہتے ہیں تو میں بھی نہیں رہوں گا۔تاہم امیر الدین بابی نے انہیں یقین دلایا تھا کہ جنرل سیکریٹری کے عہدہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔اس کے بعد ہی نثار احمد کھل کر امیر الدین بابی اینڈ کمپنی کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔اقبال احمد کی بیٹی کے خلاف کھل کر میدان میں آگئے جب کہ وہ اس عہدہ پر سلطان احمد واقبال احمد کے نظر التفات کی وجہ سے بنے تھے جب کہ وہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کے رکن بھی نہیں تھے۔

باپ کے ساتھیوں سے وفا نہیں ملا

گزشتہ انتخاب میں اقبال احمد (ثنا احمد کے والد)کی طاقت اور ان کی حکمت عملی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرنے والے موجودہ کمیٹی کے ممبران اس مرتبہ اقبال احمد کی بیٹی کا ساتھ دینے سے صاف انکار کردیا۔جب کہ ثنا احمد کو امید تھی کہ ان کے والد کے بدولت مسلم انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن ہونے لطف لینے والے کچھ افراد مروت اور اقدار کی بنیاد پر ساتھ دیں گے۔مگر انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ دور مروت اور اقدار کانہیں ہے۔اگر مروت اور اقدار کا دور ہوتا تو آج لڑائی ثنااحمد بنام امیرالدین بابی نہیں ہو تی۔جب کہ امیرالدین بابی کی پوری سیاست ہی سلطان احمد اور اقبال احمد کی طاقت کی مرہون منت ہے۔ثنا احمد نے اپنے والد اقبال احمد اور اپنے چچا کے پرانے رفیقوں سے رابطہ کرنے کی ہزار جتن کوشش کی مگروہ کامیاب نہیں ہوسکی۔

آخر قبضے کی جنگ کیوں ہورہی ہے؟

مسلم انسٹی ٹیوٹ کی تیسری منزل کی تعمیر کیلئے وزارت اقلیتی امور سے ایک فنڈ سیکشن ہوا ہے جس کا اسمبلی انتخابات سے افتتاح ہوا ہے۔تاہم ابھی تک کلکتہ کارپوریشن نے ٹینڈر جاری نہیں کیا ہے۔مگر کہا جارہا ہے کہ جلد ہی اس کیلئے ٹینڈر جاری ہوجائے گا۔اصل لڑائی یہی ہے کہ تعمیرات کا فائدہ اپنے لوگوں کو پہنچانا ہے۔چناں چہ اسلامیہ اسپتال، یتیم خانہ اسلامیہ اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کے تنازع جڑ میں بھی یہی تنازع ہے۔اس سے قبل مسلم انسٹی ٹیوٹ کی تیسری منزل کی تعمیر خود اپنے خرچ پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔امیرالدین بابی کے لوگ انسٹی ٹیوٹ کے چھت کی پیمائش کرکے کہا کہ رقبہ 11ہزار اسکوار فٹ کے قریب ہے۔مگر چوں کہ اس وقت نذرالاسلام امیرالدین بابی کے گروپ کا حصہ نہیں بنے تھے ان کی وفاداری اقبال احمد کی صاحب زادی کے ساتھ انہوں نے اس پر اعتراض کردیا کہ کل رقبہ 8ہزار سے زاید نہیں ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تین ہزار اسکوار رقبہ کی تعمیر کا روپیہ کہا جانے والے تھا۔