مغربی بنگال اردو اکیڈمی عظیم شاعر قصیر شمیم کے انتقال پر تعزیتی جلسہ تو دور تعزیتی بیان بھی جاری نہ کرسکی ادبا و شعرا میں مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے اس رویے پر شدید ناراضگی مگر خوف سے کوئی بھی کھل کر بولنے کو تیار نہیں

0
62

کلکتہ (صبا تابش)

اسی مہینے 3ستمبر کو مغربی بنگال کے استاذ الشعراقیصر شمیم کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا ، قیصر شمیم نہ صرف مغربی بنگال کے نمائندہ شاعر تھے بلکہ وہ اس نسل کی آخری کڑی تھے جنہوں نے مغربی بنگال میں اردو شعر و ادب کے گیسو کو سنوارا ہے اور ایک نسل کی پرورش کی ہے۔جن کی شاگردی میں درجنوں شعرا نے ادبی مشق کی اور آج وہ ملک کے نامور شعرا کے فہرست میں اپنا مقام حاصل کرچکے ہیں ۔اس کے علاوہ قیصر شمیم 6دہائیوں تک درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ریٹائرڈ منٹ ہونے کے باوجود وہ کلکتہ یونیورسٹی ، مولانا آزاد کالج اور عالیہ یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں میں بطور مہمان استاذ وابستہ رہے ہیں ۔

مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے اس سرد مہری پر اردو کے شعرا وادبا میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے ۔مگر کوئی شاعر و ادیب مستقبل کے امکانات اور خوف کی وجہ سے اس پر کچھ بھی کھل کر اور آن دی ریکارڈ بولنے سے کترارہے ہیں ۔بلکہ ہوڑہ اور دیگر مضافات کے شعرا نے شکوہ کیا کہ مغربی بنگال اردواکیڈمی پر ہمیشہ سے کلکتہ شہر کے رہنے والوں کا دبدبہ رہا ہے اس لئے ہوڑہ شہر سے تعلق رکھنے والے قیصر شمیم جیسے عظیم شاعر کے انتقال پر تعزیتی بیانات بھی جاری نہیں کیا گیا۔

کسی بھی معاشرہ کی پستی کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس معاشرے میں تخلیق کار کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے اور تخلیقی ذہنیت کے حاملین بونے ہوجاتے ہیں ۔اس پستی کی سب سے بڑی مثال مغربی بنگال اردو اکیڈمی ہے۔بنگال کے اتنے بڑے شاعر کے درمیان سے اٹھ جانے پر اردو اکیڈمی میں تعزیتی جلسہ تو دور کی بات کسی عہدیدار نے تعزیتی بیان بھی جاری نہیں کیا ہے۔جب کہ یہی اردو اکیڈمی ہے جو کورونا وائرس کی دوسری لہر شباب پر تھی مغربی بنگال میں لاک ڈائون نافذ تھا مگر اس ماحول میں 14یا 15مئی اردو اکیڈمی نے وزیرا قلیتی امور کو پرلطف عشائیہ دیا جس میں انواع و اقسام کے لذت دہن کے سامان فراہم کیے تھے۔
جب کہ اس وقت قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی سماجی تقریبات پر پابندی عائد تھی مگر اکیڈ می نے ان حالات میں وزیر اقلیتی امور غلام ربانی کو استقبالیہ دیا ۔جب کہ وزیر موصوف چند دن قبل ہی کورونا وائرس سے صحت یاب ہوئے تھے انہوں نے ہشاش و بشاش انداز میں اس کی شرکت کی اور اپنی صحت و بیماری کو لے کر جذباتی ہوگئے۔
سوال یہ ہے کہ جب اردو اکیڈمی کورونا وائرس کے دوسری لہرکے شباب پر ریاستی وزیر موصوف کے استقبال کےلئے پرلطف دعوت کا اہتمام کرسکتی ہے تو آخر قیصر شمیم کے انتقال پرملال پر تعزیتی جلسہ یا پھر تعزیتی بیانات جاری کرنے پر ان کی زبان پر آبلہ کیوں پڑگئے۔اس سوال کا جواب کلکتہ کے ایک کالج سے وابستہ اردو کے استاذ نے کہا کہ در اصل اس وقت بنگال اردو اکیڈمی سیاست دانو ں کا اکھاڑہ ہے۔ایگزیکیٹو کمیٹی کے بیشتر ممبران کی اکثریت کا اردو سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ اکیڈمی ان کےلئے سیاسی رتبے کو بہتر اور ناموری کا ذریعہ ہے۔پروفیسر موصوف نے کہا کہ قیصر شمیم کو ہوڑہ کے شاعر کے طور پر دیکھنا ان کی شخصیت کے ساتھ نا انصافی ہوگی بلکہ اس وقت وہ بنگال کے شاعروں کے آخری استاذ ہیں ۔جہاں تک سوال اردو اکیڈمی کی لاپرواہی و غفلت کا ہے تو اصل معاملہ یہ ہے کہ ایگزیکٹیو کمیٹی ک ممبران کی تقرری سیاسی بنیادوں پر ہویی ہے۔ان میں سے ایک دو کو چھوڑ پر کسی کا بھی انتخاب اردو سے تعلق و محبت کی بنیاد پر ہیں ہوا ہے ۔اس لئے ان میں یہ شعور تک نہیں ہے کہ کسی بھی عظیم شاعر کے انتقال پر تعزیتی نششت یا پھر تعزیتی بیانات ہی جاری کردیتے ۔

اردو کے ایک اور شاعر نے کہا کہ مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین ندیم الحق نے اپنی طرف سے جہاں تعزیتی بیان ضرورت محسوس نہیں کی وہیں ان کے اخبار جس کے وہ مالک ہے اس اخبار نے اپنے اخبار کے چوتھے صفحے پر چھوٹی سی خبر شائع کی جو عام افراد کے انتقال کی خبر مشتمل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب وائس چیرمین اور ان کے اخبار کا یہ رویہ ہے تو کس سے کیا امید لگائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو کے دیگر اخبارات نے اہتمام سے پہلے صفحے پر خبر شائع کی۔ بلکہ مغربی بنگال کا سب سے زیادہ کیثر الاشاعت اخبار ٹیلی گراف نے اپنے پرنٹ ایڈیشن اور آن لائن دونوں ایڈیشن میں نہ صرف قیصر شمیم کے انتقال کی خبر شائع کی ہے بلکہ ان کی زندگی کا مکمل سوانحی خاکہ پیش کیا ہے