آسام تشدد: حکومت نے منصوبہ بند طریقے سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ سول سوسائٹی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف

0
205

5 اکتوبر 2021 (انصاف نیوز آن لائن )
آسام میں سرکاری املاک کو خالی کرانے کے نام پر آسام کے درنگ ضلع میں بے گھر ہونے والے مسلمانوں کی آزمائشوں اور مصیبتوںکا جائزہ لینے والی ایک ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ پولس نے ایک ایسے وقت میں حملہ کیا جب مقامی آبادی اپنے گھر کو چھوڑ رہے تھے۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو ۔تشدد میں ہلاک معین جس کے جسم پر ایک فوٹو گرافر نے اس وقت چھلانگ لگائی جب پولس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا کی اہلیہ نے بتایا کہ’’جب ہم انخلاء کے حکم کے بعد اپنا سامان پیک کر رہے تھے ، کچھ پولیس والے ہمارے گھر میں گھس آئے اور ہمیں مارنا شروع کر دیا۔ میرے سسر کے ساتھ گالی گلوج اور مارپیٹ کی گئی، میری بھانجی کا ہاتھ ٹوٹ گیا
ریاستی حکومت کی ’’ غیر انسانی بے دخلی مہم ‘‘ کے دوران پولیس فائرنگ میں دو افراد 33 سالہ حق اور 12 سالہ فرید شیخ کی موت ہوگئی ۔ کئی دیہاتیوں کو گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں 11 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
سول رائٹس گروپ ایسوسی ایشن فار دی پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی طرف سے تشکیل دی گئی چھ رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرنے کے بعد رپورٹ مرتب کی ہے ۔اپنی رپورٹ ’’ بے دخلی ، ریاستی تشدد اور نفرت ‘‘ کے عنوان سے دستاویز میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ریاست میں بی جے پی حکومت پر ’’تشدد کرنے اور سرکاری املاک کے انخلا کےلئے غیر قانونی اور غیرانسانی طریقہ اپنانے کاالزام عاید کیا ہے۔رپورٹ میںسول سوسائٹی پر زور دیا گیا ہے کہ سرکاری زمین کو خالی کرانےکے نام پر غریب مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ٹیم کے ارکان نے اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی پر بھی تنقید کی ہے۔
مقامی لوگوں نے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو بتایا کہ انہیں مکان خالی کرنے کا نوٹس دینے کے بعد وقت نہیں دیا گیا تھا۔نوٹس کے 24گھنٹے میں مکانات خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ۔متاثرہ خاندانوں میں سے ایک نے کہا ، “اگرچہ لوگ اپنے مکانات کو خالی کرنے پر راضی ہو گئے تھےمگر اس کے باوجود پولس نے حملہ کردیا۔
اے پی سی آر نے نوٹ کیا کہ بے دخلی مہم کا ایک وسیع سیاسی سیاق و سباق ہے جس کا مقصد ریاست کے بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کو الگ کرنا اور’’دوسرےبنانا‘‘ ہے۔
نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا میں رپورٹ کی ریلیز کے دوران سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے کہا کہ “قانون کی حکمرانی بندوقوں کی حکمرانی سے بدل جاتی ہے”۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ بھارتی ریاست اپنے شہریوں کے خلاف تیزی سے پرتشدد ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا: “ریاست احتجاج کو روکنے کے لیے غیر مناسب طاقت استعمال کررہی ہیں
انسانی حقوق کے معروف کارکن ندیم خان نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بے دخلی کے مناسب قوانین پر عمل نہیں کیا ،انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کےلئے وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔ خان نے کہا کہ تجاوزات مہم ریاست کی مسلم اقلیت کو بے گھر کرنے کا بہانہ ہے۔
اس موقع پر ، مصنفہ اور شہری حقوق کی کارکن فرح نقوی نے آسام کی نقل مکانی کی مماثلت ان کے ساتھ دیکھی جو انہوں نے 2002 کے گجرات فسادات اور 2013 کے مظفر نگر فسادات کے دوران دیکھی تھیں۔ اس نے نشاندہی کی کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ یہ پورے ملک میں نفرت سے بھرپور مہم چلانے کا نظام کا مظہر ہے ۔ انہوں نے مزید کہا ، “مسلمانوں کو ان کی اپنی سرزمین میں منظم طریقے سے ’’دوسرا‘ بنایا جارہا ہے ۔انہیں UPSC جہاد ، کورونا جہاد ، لینڈ جہاد ، محبت جہاد جیسے عجیب و غریب اصطلاحات کا نام دیا جا رہا ہے اور اب انہیں تجاوزات کہا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ، “اگر مردہ جسم پر ٹھوکر مارنے کا واقعہ ہمیں جھنجھوڑ نہیں دیتا ہے تو ہم انسانی معاشرے ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے قومی صدر سلمان احمد نے کہا کہ صورتحال قابل افسوس ہے اور شکایات کے ازالے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر اپوروانند نے تمام ہم خیال لوگوں سے’ ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی کی صورتحال پر ایمانداری سے غور کرنے کی اپیل کی۔ آسام سے بے دخلی کا ایک ڈیزائن ہے۔ زمین کو تجاوزات سے آزاد کرانا کوئی عام عمل نہیں ہے ۔