بنگال بھی اترپردیش کی راہ پر ہگلی چنسورہ میں ’’جے شری رام ‘‘ کا نعرہ نہیں بولنے پر موذن ساتھ مارپیٹ

0
163

بنگال بھی اترپردیش کی راہ پر
ہگلی چنسورہ میں ’’جے شری رام ‘‘ کا نعرہ نہیں بولنے پر موذن ساتھ مارپیٹ
کلکتہ 15اپریل (آئی این او)
ہگلی ضلع کے چنسورہ میں ایک مسجد کے موذن کے ساتھ’’جے شری رام‘‘ نہیں بولنے کی وجہ سے مارپیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔موذن صوفی الدین نے پولس میں شکایت درج کراتے ہوئے کہا کہ ’’جے شری رام ‘‘ کا نعرہ نہیں لگانے پر نامعلوم افراد نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی ہے ۔
چنسورہ کے چک بازار کے رہائشی 54 سالہ محمد صوفی الدین نے بتایا کہ بدھ کی صبح تقریبا 3.30بجے کے قریب وہ اپنے گھر سے مسجد جارہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار و تین نوجوانوں نے انہیں گھیر لیا اور جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے لگے ۔میں نے انہیں اپنی مذہبی شناخت کے بارے میں بتاتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے نعرہ لگانے پر مجبور نہ کریں۔اس کے بعد ایک نوجوان نے مجھے ایک تھپڑ مارا اور میں سائیکل سے گرگیا۔جب میں درد سے چلایا تو یہ لوگ فرار ہوگئے۔صبح کا وقت تھا اس لئے آس پاس کوئی بھی نہیں تھا ۔
خیال رہےکہ بنگال میں جے شری رام کا نعرہ ایک جنگی ہتھیار بن گیا ہے اور بی جے پی اس نعرے کے ذریعہ مخالفین کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کررہی ہے
صوفی الدین گزشتہ چھ سالوں سے مقامی مسجد میں بطور موذن کام کررہے ہیں ۔انہوں نے تین نامعلوم افراد کے خلاف چنسورہ تھانہ میں شکایت درج کروائی۔چندن نگر کے پولیس کمشنر گوراو شرما نے بتایا کہ ہمیں شکایت موصول ہوئی ہے اور تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کبھی بھی کسی کو ”جئے شری رام“ کے نعرے پر مجبور نہیں کرے گی۔ہگلی ضلع بی جے پی کے صدر گوتم چٹرجی نے کہا کہ ’’ہماری پارٹی نے کبھی کسی کو’ جئے شری رام ‘کے نعرے پر مجبور نہیں کیا ہے‘‘۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجرم ہماری جماعت سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔کوئی بھی اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔میں پولس سے درخواست کروں گا وہ مجرم کو نہ بخشے
صوفی الدین نے کہا کہ 2019میں بی جے پی کے یہاں سے کامیاب ہونے کے بعد سے ہی اس طرح کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے ۔میرے ساتھ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2019 میں لوک سبھا کے نتائج کا اعلان کے فورا بعد ، ایک نوجوان نے مجھ سے کہا کہ ’’انکل جے شری رام کے نعرے لگائیں ۔اس سے پہلے کہ میں نوجوانوں کو جواب دیتا، اس کے ایک دوست نے اس کی سرزنش کی اور اس سے کہا کہ وہ مجھے جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور نہ کریں۔صوفی الدین نے کہا کہ انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے چنسورہ شہر میں اپنی مذہبی شناخت کے لئے تھپڑ مارا جاسکتا ہے ، جہاں وہ برسوں سے مقیم ہیں۔
انہوں نے صرف ایک بار مجھے تھپڑ مارا لیکن میں نے سبق سکھانے کے لئے پولیس میں شکایت درج کروائی۔ اگر پولیس اقدامات کرتی ہے تو ، وہ مستقبل میں ایسی حرکتیں کرنے کی ہمت نہیں کریں گے۔ یہ ہمارے علاقے کی ثقافت نہیں ہے جہاں میں اپنے بچپن ہی سے رہ رہا ہوں۔
ہگلی کے ترنمول کانگریس کے لیڈروں نے الزام عاید کیا ہے کہ بی جے پی چنسورہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ریاستی وزیر تپن داس گپتا نے کہا کہ ’’صوفی الدین پر حملہ بی جے پی کی ہماری ثقافت اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں‘‘۔
جولائی 2019 میں ، شمالی دیناج میں ’’جئے شری رام‘‘ کے نعرے لگانے سے انکار کرنے پر پانچ افراد کو مویشی چلانے والے برانڈڈ قرار دے کر مارا پیٹا گیا تھا۔