بنگال میں ’’ اردو بے فیض‘‘کیوں ہے؟

0
223

بنگال میں ’’ اردو بے فیض‘‘کیوں ہے؟

2011میں ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے فوری بعد اہل اردو کے دیرینہ مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے جن علاقوں میں اردو بولنے والوں کی آبادی دس فیصد ہے وہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ۔اس کے لئے اردو کے شیدائیوں نے کئی دہائیوں تک جدو جہد جاری رکھی تھی۔اسمبلی میں لنگویج ایکٹ میں ترمیمی بل پیش کرکے باضابطہ اس کو قانونی شکل دی گئی ۔ 1980میں پہلی مرتبہ بنگال میں اردوکو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کی تحریک شروع ہوئی۔1981میں انجمن اردو ترقی کا ایک وفد جس میںپروفیسر عبدالمغنی،پروفیسر خلیق انجم،روزنامہ آزاد ہند کے سابق ایڈیٹراحمد سعید ملیح آبادی، مشہور صحافی مولانا احسن مفتاحی اور پروفیسر سلمان خورشید شامل تھے۔ اس وفد نے سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسوسے ملاقات کی۔وفد کے قائد پروفیسر عبد المغنی نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ پیش کیا تو باسو نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ’’ 3فیصد اردو آبادی کو 97فیصد آبادی والی زبان پر تھوپانہیں جاسکتا ہے‘‘۔ پروفیسر عبد المغنی اور باسو کے درمیان تیکھی بحث بھی ہوئی تاہم بعد میںجیوتی باسو نے 1961میں وزرائے اعلیٰ کانفرنس کی روداد اور فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے بنگال کی دس فیصد آبادی والے علاقے میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ینے کا فیصلہ کیا اور اس کےلئے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ۔چوں کہ اسمبلی میں بل پیش کرکے قانونی شکل نہیں دی گئی اس لئے یہ نوٹی فکیشن بے معنی ہوکر رہ گیا۔اس وقت سے لے کر 2011تک کئی تحریکیں چلائی گئیں جس میں انجمن ترقی اردو کی تحریک ، پروفیسر حیدر حسن کاظمی کی تحریک اور ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد شمیم کی تحریک قابل ذکر ہیں۔
2009اور 2011کے اسمبلی انتخابات میں اردو کا ایشو بھی بہت اہم تھا ۔ترنمول کانگریس نے انتخابات سے قبل اردو کو دوسری سرکاری ز بان کا درجہ دینے اور اردو کے فروغ کےلئےہرممکن اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ۔چناں چہ کلکتہ کی اردو کی آبادی جس کا بڑا حصہ ایک مدت تک بایاں محاذ کو ووٹ دیتا رہا ہے وہ اردو اور دیگر ایشو ز کی بنیاد پر یک طرفہ ترنمول کانگریس کی مائل ہوگیااور 2009سے لے کر اب تک جتنے بھی لوک سبھا، کارپوریشن اور اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں سب میںاس طبقے نے متحد ہوکر ترنمول کانگریس کوووٹ دیاہے۔ممتابنرجی نے اردو کو قانونی درجہ دینے کے بعد اپنا انتخابی وعدہ پورا کردیا۔مگر سوال یہ ہے کہ کوئی بھی ز بان صرف کاغذی طور پر قانونی حق کے مل جانے کی وجہ سے ترقی یافتہ ہوجاتی ہے؟ بلکہ کسی بھی زبان کی ترقی اس کے زیادہ سے زیاد ہ استعمال ، ادب و لٹریچر میں پیش بہا اضافےاور نئی نسل میں اس زبان کے سیکھنے اور پڑھنےکے جذبے میں پوشیدہ ہے ۔دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے بعد ضرورت یہ تھی کہ اردوآبادی میں قائم سرکاری دفاتر میں اردو تراجم بحال کئے جاتے ہیں ، اردو آبادی میں اردو اسکولیں قائم کی جاتیں ، زیادہ سے زیادہ کالجوں میں اردو کے شعبے قائم کئے جاتے ، اردو اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قائم اردو شعبوں میں اساتذہ کی خالی سیٹیںپر کی جاتیں ،اردو ادب و لٹریچر میں اضافہ کیا جاتا اور دیگرعلوم و فنون کو اردو زبان میں منتقل کیا جاتا؟اس لئے یہ سوال بہت ہی اہم ہے کہ بنگال میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے بعداردو کے فروغ کےلئے مذکورہ بالا اقدامات کئے گئے؟ ۔یا صرف کاغذی سطح پر ہی محدود ہوکر رہ گیا۔ اردو زبان ادب کے فروغ کےلئے قائم اردو اکیڈمی کا گزشتہ دس سالوں میں کیا کردار رہا ہے ؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کی بنیاد پر بنگال میں اردو کے مستقبل کے امکانات سے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ جب میں اس موضوع پر کام کررہا تھا تو میںنے اردوکے کئی پروفیسر ، اساتذہ اور شعرا وادباسے تبادلہ خیال کیا۔مگر بیشترافراد آف دی ریکارڈر بات کرنے کو تیار تھے مگر آن دی ریکار ڈ کچھ بھی بولنے سے صاف صاف منع کردیا۔ظاہر ہے کہ یہ مداہنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔اردو کے نام پر روزی روٹی کمانے والے افراد کاجب یہ رویہ ہوگاتووہ لوگ جو کارو بار زندگی میں مشغول ہیںتو ان کی دلچسپی کیا ہوگی۔
ایسے تو مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے قیام کی شروعات سدھارت شنکر رائے کے دور اقتدار1976 میں ہی ہوگئی تھی ۔اردو اکیڈمی کےقیام اور اصول و ضوابط بنانے کےلئے سابق جج کلکتہ ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد یوسف، احمد سعید ملیح آبادی،شانتی رنجن بھٹاچاریہ اور سالک لکھنوی ودیگر افراد پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔اس درمیان حکومت تبدیل ہوگئی اور سابق وزیرا علیٰ جیوتی باسو کے دور اقتدار میں اردو اکیڈمی قائم ہوئی۔بائیں محاذ کے دوراقتدار میں اردو اکیڈمی کی وہ شان بان نہیں تھی جو اب ہے۔ظاہر ہے کہ اس وقت فنڈ بہت ہی کم تھا 60سے70لاکھ کے درمیان اکیڈمی کا فنڈ ہوتا تھا۔ممتا بنرجی کےاقتدار میں آتے ہی اردو اکیڈمی کا بجٹ اچانک 8کروڑ روپے کردیا گیا۔ظاہر ہے کہ یہ رقم بہت بڑی رقم تھی اور اردوحلقے کا اس پرشاداں و فرحاں ہونا قدرتی بات ہے۔اب شنید ہے کہ اس بجٹ میں اضافہ ہوکر 13کروڑ روپے کردئیے گئے ہیں ۔شنید اس لئے کہ اب حکومت کے بجٹ میں اردو اکیڈمی کاکوئی ذکر نہیں ہوتا ہے ۔اکیڈمی کا کوئی بھی سینئر عہدیدار اس سے متعلق کچھ بتانے کی پوزیشن میںبھی نہیںہے کہ سالانہ اس کا بجٹ کتنا ہے اور کتنا سالانہ خرچ کئے جاتے ہیں۔
8کروڑ کی رقم کوئی معمولی نہیں ہوتی ہے ۔اس رقم کے ذریعہ اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا تھا۔سوال یہ ہے کہ اکیڈمی نے ان سالوں میں اتنی خطیر رقم کا استعمال کس طرح سے کیا ۔ کیااکیڈمی کے اقدامات سے اردو کا مستقبل تابناک ہوا ۔اس کا جواب جاننے کےلئے ضروری ہے کہ اردو اکیڈمی کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے ۔اردواکیڈمی کی اہم سرگرمیوں میں کمپوئٹر کلاسیس، بنگال پبلک سروس کمیشن کےلئے کوچنگ، سمینار، مشاعرے ، ثقافتی پروگرام ، کتابوں کی اشاعت اور طلبا کو اسکالر شپ ۔اردو طلبا کےلئے بنگلہ کلاسیس وغیر ہ شامل ہیں ۔
مسلمانوں سے متعلق ایک مفکر کا قول ہے کہ’’ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مسلمان خرگوش کی چال چلنا بھول گئے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے کچھوا کی چال بھی چلنی چھوڑ دی ہے ‘‘۔اردو کے ساتھ بھی صورت حال یہی ہے کہ اہل اردو نے کچھوا کی چال چلنی بھی چھوڑ دی ہے۔پہلے حق کی جوآوازیں بلند ہوتی تھیں وہ مصلحت کے نام پر خاموش ہوچکی ہیں اسی کانتیجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اتنی بڑی خطیر رقم مختص ہونے کے باوجود اردو کا دائرہ کار وقت کے گزرنے کے ساتھ محدود ہوتا جارہا ہے۔
اردو کے ایک پروفیسرنے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط کے ساتھ گفتگوکا آغاز کرتے ہوئے اردواکیڈمی کے لئے اتنی بڑی خطیر رقم کے مختص کئے جانے پر ہی سوالیہ نشان لگادیا ۔ان کے بقول اردو اکیڈمی کے پاس اتنی بڑی خطیر رقم خرچ کرنے کا کوئی منصوبہ ہی نہیں تھا۔وہ سوال کرتے ہیں گزشتہ دس سالوں میں ایک سال بھی اکیڈمی نے کیا اپنے فنڈ کا صد فیصد استعمال کیا ہے؟ ۔وہ اردو اکیڈمی کے ذریعہ اردو میڈیم اسکولوں کے طلبا کے درمیان اسکالر شپ کی تقسیم پر بھی سوال کھڑا کرتے ہیں کہ جب اسکالر شپ کےلئے حکومت بنگال کا ’’اقلیتی و مالیاتی کارپوریشن ‘‘ جیسا ادارہ موجود ہے اوروہاں پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ تقسیم ہےتو پھر اردو اکیڈمی الگ سے اسکالر شپ کیوں تقسیم کرتی ہے؟ وہ بتاتے ہیں کہ اردو کی زبوں حالی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اسکولنگ سطح پر اسکولوں کا معیار تعلیم بہت ہی کمزور ہے ۔اس کی کئی وجوہات ہیں ۔کیوں کہ بیشتر اردو اسکولوں میں اساتذہ کا بحران ہے ۔(اس موضوع پر ایک الگ چیپٹر پر تفصیلات ملاحظہ کریں)جب اساتذہ نہیں ہوں گے تو اسکولوں کا معیار کیسے بلند ہوگا۔وہ کہتے ہیں کہ اکیڈمی اس بحران پرقابوپانے میں معاون ثابت ہوسکتی تھی اور مستقل انتظامات نہ صحیح عارضی طور پر اس کا حل کیا جاسکتا تھا مگر اس جانب توجہ نہیں دی گئی ۔وہ کہتے ہیں کہ تقسیم انعامات و اسکالر شپ کی تقسیم کی تقریب کے نام پر سیکڑوں طلبا کو قطار میں کھڑا کرکے فوٹو سیشن کرانا بہت آسان ہے مگر ان ہی طلبا میں تعلیم و تعلم اور تخلیقی رجحان پیدا کرنا اور ان کی تعلیمی خامیوں کے تدارک پر کام کرنا بہت ہی مشکل ہےکیوں کہ یہ وقت طلب ہے اور جانفشانی کامتقاضی ہے ۔ان کے بقول المیہ یہ ہے کہ‘ اکیڈمی کی انتظامیہ کے پاس ایسا کوئی دماغ نہیں ہے جن کے پاس اردو کے فرو غ کےلئے دیر پا لائحہ عمل اور منصوبہ ہو‘ ۔ظاہر ہے کہ یہ المیہ سے کم نہیں ہے بائیں محاذ کے دور میںفنڈ کی قلت تھی مگرا علیٰ دماغ کے حاملیںتھے اور اب فنڈ کی بہتات ہے تواعلیٰ دماغ افراد کی قلت ہے ۔کئی سال قبل ایک مرحوم پروفیسر سےمیں نے یہی سوال کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ اکیڈمیاں توقعات کے مطابق کام نہیں کرتی ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ’’ مغربی بنگال ہی نہیں ہے بلکہ ہندوستان بھر کی اردو اکیڈمیوں کی یہی صورت حال ہے کہ ممبران اور وائس چیرمین کی تقرری سیاسی سفارشات اور نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔مرکزی حکومت کا مشہور ادارہ’’ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘‘میں بھی کم وبیش یہی صورت حال ہے ۔مگر مغربی بنگال اردو اکیڈی کی صورت حال اس لئے سب سے مختلف ہے کہ یہاں ممبران کی تقرری صرف نظریاتی ہم آہنگی کی بنیادپر نہیں ہوتی ہے بلکہ سیاسی وفاداری اور پارٹی کارکن ہونا سب سے بڑا معیار ہے۔یہاںعلم و فضل میں کمالات کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔
چناں چہ 2011میں اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین کی حیثیت سے بنگال کی ایک مشہور خانقاہ کے سجادہ نشیںکو ان کے آبائی علاقے کے مشہور و دبنگ لیڈر کی سفارش کی بنیاد پر وائس چیرمین مقرر کیا گیا۔پیرو مرشدکلکتہ یونیورسٹی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بنگال اقلیتی کمیشن کی چیرمین اور اس کے بعد وسط ایشائی ملک میںسفارت کار کے طور پرپرلطف زندگی کی بہا ر لے چکے تھے ۔ایک ایسے وقت میںپیرو مرشدکو خانقا ہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کا ورد کرنا تھا وہ اکیڈمی کے وائس چیرمین کے عہدہ پر متمکن ہوگئے ۔ ان کےلئے اردو اکیڈی وقت گزاری کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا ۔دوسرے یہ کہ حکمراں جماعت کے سیاسی لیڈروں کے دبدبے کی وجہ سےان کی حیثیت صر ف کٹھ پتلی کی تھی۔ان سے صرف دستخط کرائے جارہے تھے اور وہ خاموشی سے کررہے بھی تھے۔کیوں کہ ان کےلئے سرکاری گاڑی اور وظیفہ کے طور پر خطیر رقم کا مل جانا ہی بہت بڑی بات تھی ۔اردو زبان و ادب سے واقفیت اپنی جگہ مگر اصل میں وہ بنگلہ حلقے سے آتے ہیں اور فارسی کے اسکالر ضرور تھے مگر اردو ان کی آبائی زبان نہیں تھی۔نہ وہ خود کو اردو داںکے طور پر پیش کرتے تھے ۔انہیں اپنے لئے مراعات کا حصول کتنا اہم تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ2017کے کتاب میلہ کے اختتامی پروگرام میں محکمہ اقلیتی امور کے پرنسپل سیکریٹری کے سامنے اردو کو درپیش مسائل پیش کرنے کے بجائے اپنی مراعات اور علاج و معالجہ کےلئے فنڈ جاری کرنے کا مطالبہ پیش کرتے ہوئے حکومت سے شکوہ کیا کہ ان کے ضعف و بیماری کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے ۔
اصولاً دوسری مدت کے بعد تیسری مدت کےلئے وائس چیرمین کے عہدہ پر تقرری نہیں ہوتی ہے ۔چوں کہ ان کا تعلق ممتا بنرجی کی پارٹی کے ہیوی ویٹ لیڈر (جو اب بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں ) سے تھا اس لئے انہیں 2017ستمبر میںتیسری مدت کےلئے بھی وائس چیرمین بنادیا گیا جب کہ ان کی صحت ساتھ نہیں دے رہی تھی۔چناں چہ تیسری مدت کے لئے وائس چیرمین بننے کے چنددنوں کے بعد ہی وہ طویل چھٹی پر چلے گئے (یا بھیج دئیے گئے ابھی تک یہ معاملہ صیغہ راز ہی ہے)تین سال تک وہ واپس نہیں آسکے اس درمیان وہ ایک سے زاید مرتبہ واپس آنے کی کوشش بھی کی مگر اسے ناکام بنادیا گیا۔مگر شنید ہے کہ وہ اپنی مدت میں تمام مراعات سے فیض یاب ہوتے رہے۔ان کی جگہ تین سال2020 تک کارگزار وائس چیرمین کام کرتے رہے ۔کارگزار وائس چیرمین خالص سیاسی لیڈرتھے ،اردو حلقے سے آنے کے باوجود اردو زبان وادب سے ان کا کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔وہ سیاسی کوٹے سے اردو اکیڈمی کے ممبر بنے تھے ۔چناں چہ اس سے اردو اکیڈمی کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔2017سے 2020تک سیمینار، مشاعرے ، ڈرامے کی جھڑی لگادی گئی۔ان کےلئے یہ بات باعث اطمینان تھی ہے وہ ہرایک پروگرام میں مسند صدارت پر متمکن ہوتے ہیں ۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہیں ، چاہے اس موضوع سے ان کی واقفیت ہو یا نہ ہو۔کم وبیش یہی صورت حال ایگزیکٹیو کمیٹی اور جنرل کونسل کے ممبران کی ہے ۔ پوری کی پوری نامزدگی سیاسی بنیاد پر تھی۔ماضی میں مولانا ابولکریم معصومی، مظفر حنفی،علقمہ شبلی، اعزاز افضل، سالک لکھنوی،احمد سعید ملیح آبادی جیسے صاحب و علم و فضل اردو اکیڈمی کے ممبران رہے ہیں مگر اب ایک دو کو چھوڑ کر سب کے سب سیاسی لیڈر اور ورکر یا پھر بااثر سیاست دانوں کے قریبی افرادہیں ۔
اردو کے نام پر بندر بانٹ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2012-2013- اور 2014 کے اردو کتاب میلہ پر 8سے 9لاکھ روپے خرچ ہوئے ۔مگر اس کے اگلے سال یعنی 2015 میں یہ خرچ بڑھ کر 30لاکھ اور 2016میں یہ خرچ 60لاکھ کے قریب پہنچ گیا۔جب کہ کتاب میلہ میں کوئی بھی قابل ذکر پروگرام نہیں ہوئے ۔ 2016میں ہر دن کتاب میلہ کے شرکاء کو ایک لیپ ٹاپ دیا گیا اگر 40ہزار روپیہ کی قیمت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس پر 4لاکھ روپیہ صرفہ آتاہے۔اسی طرح ایک ممبر نے بتایا کہ کئی کوچنگ کلاسیس فرضی طور پر چل رہے ہیں ۔جانچ میں ثابت ہونے کے بعد عارضی طور پراس کو روک دیا گیا مگر پھر پارٹی کاحوالہ دے کر یہ تمام فرضی کوچنگ کلاسیس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی روک دی گئی ۔
اردو اکیڈمی سے وابستہ ایک عہدیدار سے میں نے سوال کیا کہ گزشتہ دس سالوں میں جو کتابیں اکیڈمی نے شائع کی ہیں وہ معیاری کے کسوٹی پر کتنی کھری اترتی ہیں؟۔انہوں نے آف دی ریکارڈ کی شرط پر کہا کہ جتنی بھی کتابی شائع کی گئی ہیں ان میں صرف 25کتابیں ہی کسی حدتک تحقیق و معیار کی کسوٹی پر اترتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دراصل کتابوں کی اشاعت کےلئے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ اکیڈمی کے قیام سے لے کر ا ب تک جتنی بھی کتابیں شائع ہوئی ہیںوہ خاص زاویے کے تحت لکھے اور لکھائے گئےہیں ۔تنوع اور مختلف علوم و فنون کے تراجم نظر نہیں آتے ہیں ۔حالیہ دنوں میں کتابیں لکھنے اور لکھوانے میں بھی اقربا پروری کا مظاہرہ کیا گیاہے۔
ایک یونیورسٹی کے استاذ نے بتایا کہ انہیں اردو اکیڈمی نے ’’مغربی بنگال میں پیروڈی کی روایات ‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھنے کی پیش کش کی ۔چوں کہ میری پی ایچ ڈی ہی اسی عنوان سے تھی ہے اس لئے مجھے اندازہ تھا کہ مغربی بنگال میں اردو پیروڈی کی کیا روایات رہی ہے اور اس سے متعلق کس قدر مواد مل سکتے ہیں ۔چناں چہ میں نے معذرت کرلی ۔مگر چند مہینے بعد ایک صاحب میرے پاس آئے اورکہا کہ اردو اکیڈمی نے انہیں ’’مغربی بنگال میں اردو پیروڈی کی روایات ‘‘ پر لکھنے کا پروجیکٹ دیا ہے ۔آپ میری رہنمائی کردیں ۔کیوں کہ مجھے اس سے متعلق زیادہ واقفیت نہیں ہے۔میں نے مسکراکر ان کی بات ٹال دی۔مگر چند دنوں بعد معلوم ہواوہ چند لوگوں سے پیروڈ ی لکھوارہے ہیں تاکہ ان کی تخلیقات اور اس پرتبصرے لکھ کر پروجیکٹ کو مکمل کرلیا جائے ۔
کوئی بھی زبان محض اپنے ادب پر زندہ نہیں رہ سکتی ہے ۔روزی روٹی کمانے کے وسائل اور مختلف علوم و فنون سے اس کا تعلق استوار کئے بغیر کسی بھی زبان میں نہ وسعت آسکتی ہے ، نہ تنوع اور نہ اس کے قاری کا کیینوس بڑا ہوسکتا ہے۔اس لئے شاعری ، تنقیدی مضامین اور افسان کے مجموعے کی اشاعت سے اردو اکیڈمی کے ذمہ داران اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے ہیں ۔بلکہ تحقیق و ریسرچ کے شعبے میں تنوع لانی ہوگی، جاسکتی ہے۔مغربی بنگال تہذیب و تمدن کا کلچر رہا ہے ۔یہاں مختلف تہذیبیں ابھری ہیں ۔بنگال مسلم سلطنت کا مرکز رہا ہے ۔اس کے علاوہ عرب وفارس سے بڑی تعداد میں تجار و صوفیا آکر یہاں آباد ہوئے ہیں ۔ان موضوعات پر اردو میں کتابیں دستیاب نہیں ہیں۔انگریزی میں ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔ظاہرہے کہ بنگال اور مسلم تہذیب وکلچرکے موضوع پر مختلف عنوان سے تحقیق و ریسرچ کا کام کیا جاسکتا تھا ۔مگر اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ چندشعرا کے کلام اور روایتی موضوعات ’’بنگال میں اردو افسانہ، بنگال میں اردو ڈرامہ، بنگال میں مزاحیہ نگاری، بنگال میں پیروڈی، بنگال میں صحافت جیسے روایتی موضوعات کے علاوہ اکیڈمی کی مطبوعات کی فہرست میں کچھ بھی نہیں ملے گا۔اکیڈ می اپنے شعبہ نشرو اشاعت کے ذریعہ اہم علمی کارنامے بالخصوص اردو اسکولوں وکالجوں کو معیاری کتابیں ماہرین کی موجودگی میں تیار کرسکتی تھی ۔
جہاں تک ماضی کی اہم شخصیات پر منعقد ہونے والے سیمیناروں کی سیریز پر اپنی پیٹھ تھپتھپانے کی بات ہے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اب سرکاری اداروں میں منعقد ہونے والے سمینار تعلقات کو مستحکم کرنے کے علاوہ کوئی کچھ بھی نہیں ہے۔’’مرا ملا بگویم ، ترا حاجی بگو ‘‘کی یہ پوری قواعد ہی اقربا پروری اور ذاتی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر وبیشتر سیمینار مذاق بن کر رہ جاتا ہے ۔ بیشتر مقالات میں موضوع اور خیالات کی تکرار کی وجہ سے سیمیناروں کے شرکاکی تعداد محدود ہوتی چلی گئی ہے ۔سیمینا ر کے نام پر مذاق کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سیمینار میں شرکت کےلئے آنے والےکئی پروفیسروں نے بتایا کہ انہیں جس شخصیت پر مقالہ پیش کرنے کےلئے دعوت دی گئی ہے ان سے متعلق وہ پہلے کچھ نہیں جانتے تھے۔یہاں آکر انہوں نے ان کی ایک دو کتابیں پڑھ کر مواد تیار کیا ہے ۔ دہلی یونیورسٹی سے آنے والے ایک پروفیسر نے کہا کہ انہیں جس شخصیت پر کلیدی خطبہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی ان سے متعلق انہوںنے کبھی سنابھی نہیں ۔ان کی تخلیقات کو پڑھنا تو دور کی بات ہے۔معذرت کرنے کے باوجود انتظامیہ کے اصرار پر انہیں آنا پڑا ہے۔بیرو ن ریاست سے آنے والے ایک مہمان پر کم وبیش اکیڈمی پچاس ہزار روپے خرچ کرتی ہے۔اگر کسی سیمینار میں چار سے پانچ شخصیات باہر سے آتے ہیں تو اندازہ لگایا جاسکتاہےکہ ان کی مہمان نوازی پر کتنے روپے کا صرفہ آتا ہوگا۔گویا ایک سیمینار پر دس لاکھ روپے کے قریب خرچ ہوتے ہیں۔علامہ جمیل مظہری جیسی نابغہ روزگارشخصیت پر منعقد سیمینار کے مقالوں کا جومجموعہ شائع ہوکر سامنے آیا ہے اس کی ضخامت ہی سیمینار کے معیار کی گواہی دیتی ہے ۔ سیمینار کے شرکا نے مقالہ تیاری میں کتنی محنت کی ہے کئی مقالے تو محض دوصفحات پر ہی مشتمل ہیں ۔ سیمیناروں کے مراتھن میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ریسرچ اسکالروںکو موقع نہیں دیا جانا اپنے آپ میں ایک بڑا المیہ ہے ۔اس کی وجہ سے نئی نسل کو آگے بڑھنے اور ان میں تخلیقی ذہنیت کوپروان چڑھانے کا موقع ضائع کردیا گیا۔
جس عہدِ سیاست نے یہ زندہ زباں کچلی
اس عہدِ سیاست کو مرحوموں کا غم کیوں ہے
غالب جسے کہتے ہیں، اردو ہی کا شاعر تھا
اردو پہ ستم ڈھا کر غالب پہ کرم کیوں ہے
چوں کہ ممبران کا انتخاب سیاسی وفاداری ہی معیار ہوتاہے تو اس کوٹے سے آنے والے ممبران کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ۔اس لئے اردو کے مسائل دیرپا حل اور مستقبل بینی کےلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کے بجائے ہنگامہ آرائی ، جشن پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔چناں چہ بطور صحافی اکیڈمی کی مختلف پریس کانفرنسوں میں یہ سوال اٹھایا کہ اگر اساتذ ہ نہیں ہوں گے تو اردو میڈیم اسکولوں کا معیار بہتر کیسے ہوسکتا ہے؟ ۔اسکالر شپ کی تقسیم کے نام پر فوٹو سیشن کے بجائے ہنگامی بنیاد پراردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ فراہم کئے جائیں ۔بالخصوص ایس سی اور ایس ٹی کوٹے کی خالی سیٹوں پر عارضی اساتذہ دئیے جاسکتے ہیں ۔ دلی اردو اکیڈمی اس کی مثال ہے مگر اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔کلکتہ کا مشہور اردو میڈیم اسکول محمد جان ہائی اسکول کے گرلس سیکشن میں محض دو ٹیچر ہیں باقی پارٹ ٹائم اساتذہ ہیں جنہیں دو ہزار سے تین ہزار روپے بطور تنخواہ دئیے جاتے ہیں ان کے ذریعہ تعلیم مقرر کی جاتی ہے۔اگر اکیڈمی ایسے اسکولوں کی مدد کرتی تو شایدپر بحران قابوپایا جاسکتا ہے۔سلطان احمد مرحوم کے دور میںاردو میڈیم کے طلباء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ و جامعہ ہمدرد میں داخلہ کیلئے کوچنگ کرانے کی پہل کی گئی تھی اس کو بھی ٹھنڈے بستے میں یہ کہہ کر ڈال دیا گیا کہ یہ تجربہ ناکام رہا۔ظاہر ہے کہ صرف چند ماہ میں کوئی تجربہ کامیاب و ناکام نہیں ہوسکتا ہے۔یہ پروگرام آنا فانا میں شروع کیا گیا تھا۔کوچنگ کےلئے ماہر اساتذہ کی خدمات لی گئی تھی اور دو طلبا کامیاب بھی ہوئے تھے۔اکیڈمی نے وعدہ کیا تھا کہ جن بچوں کا داخلہ ان یونیورسٹیوں میں ہوگا ان بچوں کو اسکالر شپ دیا جائے گا۔اس پورے قواعد محض ڈھائی لاکھ روپے صرفہ آیا تھا۔مگر بچوں پر خرچ کئے جارہے اس’’ خطیررقم ‘‘ اکیڈمی کے ممبران باقابل برداشت تھے۔کئی ممبران نے کہا کہ اس رقم کو ضائع کردیا گیا ہے۔
ترجیحات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مونوگراف جو تقریباً76صفحات پر مشتمل ہوتے ہیںکے لکھنے والے کو اردو اکیڈمی پانچ ہزار سے زاید نہیں دیتی ہے مگرایک ایک مشاعرے پر لاکھوں روپے خرچ کردئے جاتے ہیں ۔مشاعرہ اردو تہذیب و تمدن کی ضرور عکاسی کرتا ہے مگر مشاعروں سے کیا اردو زبان کا فروغ ہوتا ہے ؟حالیہ برسوں میں ملک بھر میںمشاعروں کا بڑے پیمانے پر انعقاد ہورہا ہے اس کے باوجود اردو زبوں حالی کا شکار ہے
اردو اکیڈمی کا بچوں کا رسالہ’’ستارہ‘‘ نکلنے سے قبل ہی بند ہوگیا ۔ ؟جب کہ کلکتہ سے ہی ’ مژگاں‘، ’ سہیل ‘، ’ انشاء‘ ،’رہروان ادب ‘’سہ ماہی فکر و تحریر‘ اور ’ماہنامہ کھلونا‘ جیسے رسالے شائع ہوتے ہیں ۔ مالی بحران اور اہل اردو کی بے رخی کے باوجود یہ رسالے جاری ہیں ۔ ان رسالوں نے کئی یادگار نمبر شایع کیے ہیں۔مگر اکیڈمی کے پاس فنڈ کی بہتات کے باوجود رسائل اور مجلوں کی مدد کرنے کو روادار نہیں ہے۔در اصل اردو کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ رہی کہ گزشتہ دس سالوں میں اردو کی ترویج و ترقی کی ذمہ داری ان لوگوں دی گئی جنہوں نے کبھی بھی اپنی مادری زبان کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کیا ،تعلقات ،دوستی اور قرابت داری ، پارٹی کی وفاداری اور حاشیہ برداری کی بنیاد پریہ لوگ ممبر اور ذمہ دار بن گئے ۔چند ممبران کو چھوڑ کر زیادہ تر حاشیائی کردار ادا کرنے والے ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے اردو کے کاز کو بلند کیا اور اردو کی لڑائی لڑی تھی اس لئے وہ پس پردہ چلے گئے یہ لوگ حاشیہ برداری کے ہنر سے ناواقف تھے ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اردو کا عام طبقہ اس پورے صورت حال پر خاموش ہے۔
حال ہی میںا ردو اکیڈمی نے ڈائمنڈکارنر کے نام پر اردو اکیڈمی کے احاطے میں چائے کی دوکان کھولی گئی ہے ۔اس کےلئے جو جوازفراہم کئے گئے ہیں وہ اپنے آپ میںایک مذاق ہے کہ ’’ اردو اکیڈمی کے قریب ڈائمنڈ ہوٹل ہوا کرتا تھا جہاں بڑی بڑی علمی شخصیتیں بیٹھتی تھیںاوراس کی وجہ سے یہ صرف ہوٹل نہیں تھا اردو تہذیب کا مرکز بن گیا تھا۔استاد شعرا کی سرپرستی میں کئی نوجوان شعرا نے ترقی کے منازل طے کئے۔ڈائمنڈ ہوٹل کے بعد ادب کا یہ مرکز بندہوگیا ہے ۔اس لئے اس روایات کو زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔جب کہ رفیع احمد قدوائی روڈ پر ہی مولانا آزاد کالج، عالیہ یونیورسٹی ، کلکتہ مدرسہ اینگلو پرسین اسکول ، اردو اکیڈمی اور چند میٹر کے فاصلے پر یونانی میڈیکل کالج ،مزیدفاصلے پر کلکتہ گرلس کالج ہے ۔اس کے باوجود اس پورے علاقے میں اردو کتاب کی کوئی دوکان نہیںہے۔رفیع احمد قدوائی روڈ پر ہی مسلم انسی ٹیوٹ کے کونے پرایک کتاب کی دوکان تھی۔ جہاں ملک بھر کے رسالہ ،مجلے اور کتابیں فروخت ہوتی تھیں ۔مگر لگاتار مالی خسارے کے پیش نظر دکان کے مالک نے دوکان کوتوبند نہیں کیا مگر کتاب کو پیچھے ڈھکیل دیا گیا ہے اردو وعربی کے فریم، تسبیح ، مصلی کو آگے کرکے معاشی حالت کو مستحکم کیا جارہا ہے ۔رفیع احمد قدوائی روڈ سے محض دو کلومیٹر کی دوری پر کالج اسٹریٹ ہے جو بنگلہ ، ہندی اور انگریزی کتابوں کامرکز ہے۔دوسری جانب پارک اسٹریٹ ہے وہاں نصف درجن کتابوں کی دوکانیں ہیں اور لب سڑک بھی کتابوںکے درجنوں دوکانیں ہیں مگرمسلم علاقوں میں کتابوں کی دوکانوں کے بجائے بریانی اور کباب کی دوکانوں کی بھرمار ہوتی جارہی ہے ۔کیاچائے کی دوکان کی روایت کوزندہ کرنے کے بجائے کتب بینی کی روایات کو زندہ کرنا اردو اکیڈمی کی ذمہ داری نہیں تھی۔کہنے کو تو کلکتہ میں میں 15فیصد اردو آبادی ہے ۔مگر پورے کلکتہ میں ایک درجن اردو کتاب کی دوکان نہیں ہیں ۔کلکتہ کا سب سے بڑا اشاعتی مرکز دارالاشاعت کا حال برا ہوچاہے۔ کتاب کی کچھ دوکانیں درسی کتابیں اور نوٹ بک کے فروخت پر زندہ ہیں ۔اسی کلکتہ میں حالیہ برسو ں میں لائبریوں کو دوبارہ کھولنے کی شروعات ہوئی ہے۔ٹرام لائبریر، کشتی لائبریری وغیر قائم ہوئے ۔مگر اکیڈمی جس کا کام ہی اردو کا فروغ تھا اس نے چائے کی دوکان کھولنے کو ترجیح دی اور کتاب کی دوکان کو پیچھے ڈھکیل دیا۔ظاہر ہے کہ یہ سوال ترجیحات کا ہے،سوال ان لوگوں کی ذہنیت کا ہے جو اس سے وابستہ ہیں ۔مگر یہ بات ہمیں نہیں بھولنی چاہیے کہ جس قوم کا علم و کتاب سے رشتہ کٹ جائے تو اس قوم کو تباہی و بربادی سے کون بچاسکتا ہے ۔

یہ مضمون بنگال کے مسلمان سے ماخذ ہے