بنگال کی سیاست میں آئی ایس ایف اور عباس صدیقی کا عروج

0
726

نور اللہ جاوید
آزادی سےقبل بنگال میں کئی مذہبی جماعتوں کا عروج ہوا ہے ، سب سے پہلے مسلم لیگ نے بنگال میں ہی تقسیم کی آواز بلند کی تھی اور کلکتہ میں ہی بھارتیہ جن سنگھ قائم ہوئی مگر ہندوستان کی آزادی و تقسیم ہند کے بعد مغربی بنگال سے مسلم مذہبی سیاسی جماعتوں کا وجود ختم ہوگیا ہے گرچہ ابتدائی سالوں میں بھارتیہ جنہ سنگھ ، اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا اور اکھل بھارتیہ رام راجیہ پریشد جیسی سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا مگر ناکام رہیں ۔1971میں تھوڑے وقفے کےلئے پروگریسو مسلم لیگ قائم ہوئی اور اس کے ٹکٹ پر سید بدرالدجی ٰ کامیاب ہوئے مگر مرشدآباد جیسی اکثریتی لوک سبھا سیٹ سے پروگریسو مسلم لیگ کے امیدوارکو دوبارہ کامیابی نہیں ملی۔بنگال کے مسلمان روایتی طور پر مذہبی بنیاد پر انتخابات میں ووٹنگ کرنے کے بجائے سیاسی ایشوز ، روٹی ،کپڑا اور مکان جیسے ایشوز پر ووٹ دیتے رہے ہیں ۔آزادی کے ابتدائی سالوں میں مسلمانوں کا رجحان کانگریس کی طرف تھا۔بائیں بازو ں نے جب طبقاتی سیاست کا آغاز کیا ، روٹی ، کپڑااور مکان کو انتخابی یشو بنایا تو مسلمان بالخصوص دیہی علاقوں میں آبادی مسلمانوں کا رجحان بائیں محاذ کی طرف ہوگیا ۔مگر بائیں محاذ کو طویل مدت تک ووٹ دینے کے بعد بائیں محاذ کی حصول اراضی کے تئیں غلط پالیسیوں اور سچر کمیٹی کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد مسلمان بائیں محاذ سے ناراض ہوگئے اور اس وقت تک بنگال کی سیاست میں ممتا بنرجی کا عروج ہوچکا تھا اور2011کے اسمبلی انتخاب میں مسلم ووٹرں کی اکثریت ممتا بنرجی کے ساتھ چلی گئی اوراس طرح ممتا بنرجی طویل جدو جہد کے بعد اقتدار میں پہنچ گئی۔ممتا بنرجی اور بائیں محاذ کے طرز حکمرانی میں بڑا فرق یہ تھا کہ وہ علامات پر زیادہ یقین رکھتی تھی ۔مسلمانوں کے حقیقی مسائل پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے اعلانات اور نعرے بازی پر زیاد توجہ دی اوریہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مسلم رائے دہندگان کے پاس ان کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے اور وہی مسلمانوں کی مسیحائی کرسکتے ہیں۔مگر ممتا بنرج کی امیدوں کے برخلاف محض دس سال بعد ترنمول کانگریس کو اپنے ہی گڑھ جنوبی بنگال میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔نوتشکیل شدہ سیاسی جماعت آئی ایس ایف جس کی سربراہی فرفرہ شریف کے پیرزادہ عباس صدیقی کررہے ہیں وہ ممتا بنرجی کےلئے چیلنج بن کر ابھرے ہیں ۔اب جب کہ نوشکیل شدہ جماعت کانگریس اور بائیں محاذ جیسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرکے ممتا بنرجی کےلئے مزیدبڑی مشکلات کھڑی ہوگئی ہے ۔
فرفرہ شریف کی تاریخی حیثیت

بنگال کی سماجی و معاشرتی زندگی میں فرفرہ شریف کی ایک اپنی اہمیت ہے ۔جنوبی بنگال کے اضلاع ہگلی، ہوڑہ، شمالی 24پرگنہ ، جنوبی 24پرگنہ ، ندیا اور مدنی پوجیسے اضلاع میں فرفرہ شریف عقیدت مندوں کی بڑی تعدادہے ۔ہگلی ضلع کے جنگی پارہ بلاک کے فرفرہ شریف گائوں میں 18مارچ 1846میں پیدا ہونے والے پیر ابو بکر صدیق کا خاندانی شجرہ نسب پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ملتا ہے ۔پیر ابو بکرصدیق کے والدکا انتقال کم عمری میں ہوگیا توانہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی پرائمری اسکول میں حاصل کی اس کے بعد انہوں نے سیتا پور انڈومنٹ مدرسہ اور ہگلی محسنیہ مدرسہ ٖ(بنگال کا سب سے قدیم مدرسہ جس کا نام مشہور مخیر حضرت حاجی محمد محسن کے نام پر ہے اب یہ مدرسہ بند ہوچکا ہے)میں تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد پیر ابو بکر صدیق نے کلکتہ میں قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کی اور کچھ سال انہوں نے مدینہ منورہ سعودی عرب جاکر علوم حدیث کی تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد انہوں نے کلکتہ کے مانک تلہ میں واقع صوفی سید محمد فتح علی وصی کی صحبت میں روحانی منازل طے کئے۔
بنگال کی سیاسی ، سماجی اور معاشرتی زندگی میں جن صوفیوں نے سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے ان میں پیر ابو بکر صدیق کا نام نماں یاں ہیں ،وہ روایتی پیروں کےطرز سے ہٹ کر سماجی اصلاحات اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے پر زیادہ توجہ دی ۔خلافت تحریک کے دور میں انہوں نے کئی تعلیمی ادارے قائم کئے او ر درالاسلام و دارلحرب کی اصطلات سے گریز کرتے ہوئے سماجی آہنگی کے قیام کےلئے جدوجہد کرتے ہوئے متحدہ قومیت کے سب سے بڑے علمبردار بن کر ابھرے ۔انہوں نے معاشرتی برائیوں اور زمین داروں کے مظالم کے خلاف سب سے مضبوط آواز بن کر ابھرے ،صوفی یا پیر کی حیثیت سے ، انہوں نے محفل میلاد، مذہبی کتابچے اور اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے ساتھ کسانوں کے حقوق ، زمینداروں (جاگیرداروں) اور سود خوروں کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے تھے کیوں کہ بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت زرعی مزدوری تھی۔ چناں چہ پیر ابو بکر صدیق غیر منقسم بنگا ل کے لاکھوں زرعی مزدوروں کے مسیحا بن گئے ۔پیر ابوبکر صدیق کے انتقال بعدبھی فرفرہ شریف کا دیہی علاقوں میںآباد مسلمانوں پرمضبوط پکڑ بنارہا۔تاہم گزشتہ 70سالوں میں فرفرہ شریف سیاست دانوں کا مرکز رہا ہے مگر براہ راست سیاست میں ملوث نہیں ہوئے ۔مگر عباس صدیقی جو بنگال میں اب ’’بھائی جان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے نے اپنے خاندان کی اس روایات سے ہٹ کر براہ راست سیاست میں قدم رکھا اور انڈین سیکولر فرنٹ کے نام سے سیاسی جماعت تشکیل دی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا عباس صدیقی بنگال کی سیاست میں کامیاب ہوں گے؟ ، یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ ان کی مخالفت خود ان کے چچا پیر طہ صدیقی کررہے ہیں اور ان پر سنگین الزامات بھی عاید کرتے ہیں۔اس کے علاوہ شہری و نیم شہری علاقوں میں آباد مسلم اشرافیہ بھی اس سیاسی پیش رفت کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتے ہیں ۔ان پرفرفرہ شریف کے اثرات بھی نہیں ہے ۔اس کے علاوہ بنگال کے دیگر خطوں کی ہی طرح یہاں بھی مسلمانوں میں مسلکی اختلافات ہیں جن میں دیوبندی، اہل حدیث سب سے نمایاں نام ہیں ۔مگر جس طریقے سے کانگریس اور سی پی ایم نے عباس صدیقی سے اتحاد کرنے کی پہل کی ہے اور قومی میڈیا میں عباس صدیقی کو اہمیت دی جارہی ہے اس کی وجہ سے عباس صدیقی بنگال کی سیاست میں کلیدی موضوع بن گئے ہیں ۔

بنگال میں مسلم ووٹروں کی شرح
مغربی بنگال میں مسلمانوں کی مموعی آبادی 21فیصد کے قریب ہے ،تاہم ریاست کے 294اسمبلی حلقوں میں 46 ایسی سیٹیں ہیں جہاں مسلم ووٹرس کی شرح 50 فیصد سے زائد ہے۔ 16 ایسے اسمبلی حلقے ہیں جہاں مسلم ووٹرس کی شرح 40-50 فیصد ہے ، 33ایسے حلقے ہیں جہاں مسلم ووٹرس کی شرح 30سے 40فیصد کے درمیان ہے اور50سیٹیں ایسی ہی جہاں مسلم ووٹرس کی شرح 20سے 30فیصد کے درمیان ہے ۔اس طرح 294اسمبلی حلقوق میں سے 143حلقوں میں مسلم ووٹرس فیصلہ کن پوزیشن میں ہے ۔مالدہ ، مرشدآباد اور شمالی دیناج پور کی بیشتر اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹرس کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے ۔جب کہ شمالی 24پرگنہ ، جنوبی 24پرگنہ ، ندیا، بیر بھوم اور ہوڑہ ضلع میں بھی مسلم ووٹرس کنگ میکر کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان ہی اضلاع میں فرفرہ شریف کے گہرے اثرات ہیں۔یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں بنگال کی سیاست میں مسلم ووٹرس کی کتنی اہمیت ہے۔حالیہ برسوں میں مسلم ووٹرس پر ممتا بنرجی کی پکڑ مضبو ط ہوئی ہے اور کانگریس و بائیں محاذسے مسلم ووٹرس دور ہوگئے ہیں۔اسی وجہ سے عباس صدیقی کے ساتھ ہاتھ ملا کر کانگریس اور بائیں محاذ ہاتھ ملاکر مسلم ووٹرس کو اپنی جانب کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

آئی ایس ایف کے عروج کے سیاسی اثرات
مگر سوال یہ بہت ہی اہم ہے کہ محض ایک مہینے قبل تشکیل پانے والی سیاسی جماعت بنگال کے سیاسی منظرنامہ میں اتنی اہم کیوں ہوگئی ہے اور اس کے وجود میں آنے سے بنگا ل کی مسلم سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ۔عالیہ یونیورسٹی کے پروفیسر وسیاسی تجزیہ نگار پروفیسر محمد ریاض کہتے ہیں کہ بائیں محاذ کے مقابلے میں ممتا بنرجی کے دور اقتدار میں مسلمانوں کی سماجی ، معاشی اورتعلیمی صورت حال میں بہتر آئی ہے ۔توقع کے مطابق کام یقینا نہیں ہوئے ہیں ۔مگر تعلیم کے شعبے میں پیش رفت ہوئی ہے اور اس کےلئے بنگالی مسلمانوں نے اپنے طور پر جدو جہد کی ہے اور ادارے قائم کئے ہیں ۔مگر تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ اور روزگار کے مواقع نہیں ملنے کی وجہ سے دیہی علاقوں کے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں میں بیزاری آئی ہے ۔عباس صدیقی نے اس بے چینی کا فائدہ اٹھا یا ہے اور وہ حصہ داری کی بات کرکے ناراض مسلم نوجوانوں کے دل پر دستک دے رہے ہیں ۔ریاض کہتے ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں بائیں محاذ کے ووٹ فیصد میں کمی آئی ہے بلکہ بنگال کی سیاست میں حاشیائی کردار میں پہنچ گئی تھی اس لئے آئی ایس ایف سے اتحاد کرنا بائیں محاذ کی مجبوری تھی نہ کہ آئی ایس ایف کی۔آئی ایس ایف سے اتحاد سے قبل بائیں محاذ کو بنگال کے انتخابی منظرنامہ میں کوئی فیکٹڑ نہیں مانا جارہا ہے ۔دوسرے یہ کہ آئی ایس ایف نے ایم آئی ایم اور اویسی سے اتحاد کرنے کے بجائے کانگریس اور بائیں محاذ کو ترجیح دینے کی منشا بھی یہ ہی ہے کہ وہ اپنے اوپر مسلم سیاسی جماعت کا لیبل لگانا نہیں چاہتی ہے۔چناںچہ عباس صدیقی اپنی تقریروں میں دلت، آدی واسی ، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے مسائل کو یکساں طور پر اٹھارہے ہیں ۔یہ کسی حدتک اچھی کوشش ہے ۔
معروف ماہر نفسیات اور سیاسی مبصر بسواناتھ چکرورتی کہتے ہیں کہ مغربی بنگا ل میں ممتا بنرجی کے دورا قتدار میں’’شناخت کی سیاست‘‘ کا آغاز ہوا، مسلمانوں کی ترقی پر توجہ دینے کے بجائے علامتی کاموں پر زیادہ توجہ دی اس کے ر د عمل میں بی جے پی کا عروج ہوا۔ اسی اثنا میں ، تعلیم یافتہ متوسط طبقے کی مسلم برادری نے اپنے ہی سیاسی پلیٹ فارم کی تلاش شروع کردی۔ آج انڈین سیکولر فرنٹ ان کی تلاش کا نتیجہ ہے۔بنگال کی مسلم کمیونٹی کا ایک طبقہ سنجیدگی سے سوچ رہا ہے کہ صرف ایک مسلم سیاسی جماعت ہی ان کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔اس طبقے کا احساس ہے کہ نام نہادسیکولر جماعتوں نے مسلمانوں کی سماجی و معاشی ترقی کو یقینی بنائے ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔
تاہم سینٹ زیورس یونیورسٹی کے ریاضیات کے پروفیسر و سیاسی تجزیہ نگار ربیع الاسلام جو خود بنگال کے دیہی علاقے سے آتے ہیں کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گزشتہ 70سالوں میں سیاسی لیڈر شپ جورہی ہے وہ کلکتہ شہر سے آتی ہے ۔اسی وجہ سے دیہی علاقے کے مسائل و مشکلات میڈیا کے سامنے نہیں آپاتے ہیں ۔دیہی علاقوں میں سیاسی لیڈر شپ کا فقدان نے دیہی علاقوں کے عوام کو فرسٹیشن میں مبتلا کردیا ہے اور عباس ان کےلئے آواز بلند کرتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔بسواناتھ چٹرجی کی تائیں کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ عباس صدیقی کا عروج دراصل ممتا بنرجی کی ناکامی کا بھی نتیجہ ہے ۔ممتا بنرجی نے اپنے دور اقتدار میں نہ صرف سیاسی استحصال کیا ہے بلکہ سماجی سطح پر کسی مسلم لیڈر شپ کو ابھر نہیں دیا ہے اور نہ کسی کو آواز بلند کرنے دیا ہے۔
فرفرہ شریف کے عقیدت مند کیا ووٹرس میں تبدیل ہوں گے؟
خانقاہوں اورمزارات سے عقیدت و احترام کا رشتہ اپنی جگہ مگر یہ عقیدت مند ووٹرس میں تبدیل ہوں گے ،اس میں بھی جب خود فرفرہ شریف دو حصوں میں تقسیم ہے اور ایک دھڑاکھلے عام سیکولر وٹوں کی تقسیم اور بی جے پی کو روکنے کے نام پر ممتا بنرجی کی حمات کررہے ہیں ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عباس صدیقی اپنے عقیدت مندو کو ووٹرو میں تبدیل پائیں گے۔جادو پور یونیوررسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر عبدالمتین جنہوں نے سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بنگال کے مسلمانوں کے حالات پر پی ای ڈی کا مقالہ تحریر کیا ہے ۔اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ یہی فرق دیگر ملی تنظیموں اور فرفرہ شریف کے عقیدت مندوں کے درمیان ہے۔جمعیۃ علما ہند، جماعت اسلامی اور دیگر مسلم جماعتیں مسلم اشرافیہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور فرفرہ شریف دیہی علاقوں بالخصوص زرعی مزدوروں ، کسانوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔چناں چہ 2سال قبل جب جنوبی 24پرگنہ کے بھانگر میں پاور پلانٹ کے لئے حصول اراضی کےخلاف احتجاج کررہے کسانوںپرفائرنگ کے واقعے کے بعد عباس صدیقی مقامی لوگ کھڑے رہے ۔ان کو انصاف دلانے کی جدو جہد کی۔اسلئے یہ کہنا ہے کہ عباس صدیقی کا عروج حالیہ مہینوں میں ہوئے ہیں تویہ غلط ہے بلکہ گزشتہ کئی سالوںسے جنوبی بنگا ل میں عباس صدیقی سرگرم ہیں ۔اس لئے زیادہ امکان ہے کہ عقیدت ووٹرس میں تبدیل ہوں گے ۔
بنگا ل میں سماجی انصاف کے حصول کی جدوجہد
ہندوستان کی دیگر حصوں میں سماجی انصاف کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں ، اس کی وجہ سے اترپردیش ، بہار، جھاڑ کھنڈ اور دیگر ریاستوں میں ذات پر مبنی سیاسی جماعتیں تشکیل ہوئی ہیں مگر بنگال میں سماجی انصاف کی آواز کبھی بھی بلند نہیں ہوئی ہیں ۔جب پورا ملک منڈل کمیشن کی سیاست کی زد میںتھا اس وقت بھی بنگال میں اس پر بات چیت نہیں ہورہی تھی ۔سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسونے کہا تھا کہ بنگال میں دوبرادریاں رہتی ہیں ایک غریب اور ایک امیر اورہماری حکومت غریبوں کے ساتھ ہے۔مگر یہ بلند دعوے کی جگہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 70سالوں میں بنگا ل کی سیاست پر ایک خاص گروپ کا غلبہ رہا ہے اور لیڈر شپ شہری علاقوں سے آئی ہے ۔پارٹی کوئی بھی ہو اس کی لیڈر شپ کلکتہ سے آتی ہے ۔2008میں عبد الزاق ملا نے سماجی انصاف پر مبنی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے اور سی پی ایم چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں ۔عباس صدیقی کی تقریر وں میں سماجی انصاف کا ایشو سب سے مقدم ہوتا ہے ۔وہ مسلمانوں کی بات کرنے کے بجائے دیہی علاقے میں آباد کسانوں ، مزدوروں اور نوجوانوں کی حصہ داری کی بات کرتے ہیں ۔اسی وجہ سے انہوں نے اپنی پارٹی کی صدارت قبائلی لیڈر سنبھل سورین کو سونپی ہے ۔مگر کوئی راتوں رات سماجی انصاف کا چہرہ نہیں بن سکتا ہے ؟عبد المتین کہتے ہیں کہ عباس صدیقی نے مسلم ایشوز پر بات نہیں کرکے پولرائزیشن کی سیاست کےلئے تاک لگائے بیٹھے لوگوں کو ناکام کردیا ہے۔کامیابی کی جہاں تک بات ہے تو وہ کوئی راتوں رات نہیںہوگی۔یہ تو ابھی شروعات ہے ۔جدوجہد کے بغیر کسی کو بھی کامیابی نہیں ملتی ہے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا