Friday, July 19, 2024
homeاہم خبریںحماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر فضائی کارروائی، 232...

حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر فضائی کارروائی، 232 فلسطینی جاں بحق

اسرائیل نے حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کے دعوے کے بعد غزہ میں فضائی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 232 فلسطینی جاں بحق اور خواتین سمیت ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ حماس کے حملے میں 200 سے زائد اسرائیلی مارے گئے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 232 ہوگئی ہے۔

وزارت صحت نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے بعد غزہ کی پٹی میں اب تک ہسپتالوں میں 232 شہدا لائے گئے ہیں اور ایک ہزار 697 افراد کو مختلف قسم کے زخم آئے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے گزشتہ سالوں کے دوران کیے گئے سب سے بڑے حملے میں 40 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے گزشتہ سالوں کے دوران کیے گئے سب سے بڑے حملے میں 40 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے۔

میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی میڈیکل سروس اور اسرائیلی ایمرجنسی سروس نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب تک 40 افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہو چکے ہیں اور 779 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

حماس کی جانب سے جہاں ایک طرف ہزاروں راکٹ فائر کیے گئے وہیں مسلح افراد بھی شہر میں داخل ہو گئے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے ہمارے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے اور صہیونی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شدت پسندوں نے اسرائیل کے متعدد علاقوں پر حملہ کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس حملے کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دشمن ایسی قیمت چکائیں گے جو انہوں نے کبھی نہیں چکائی ہو گی، ہم ابھی جنگ میں ہیں اور اس جنگ کو جیتیں گے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہم نے غزہ میں فضائی حملے کیے ہیں اور عینی شاہدین کے مطابق شہر میں دھماکے ہو رہے ہیں اور کم از کم دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ زمین، سمندر اور پیراگلائیڈرز کی مدد سے فضا سے اسرائیل میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کا مقابلہ کررہے ہیں جہاں اس کارروائی سے قبل ہزاروں کی تعداد میں راکٹ فائر کیے گئے۔

فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچ نے کہا کہ یہ مجموعی طور پر ایک زمینی حملہ تھا جو پیراگلائیڈرز، سمندر اور زمین کے ذریعے کیا گیا، اس وقت ہم غزہ کی پٹی کے اطراف چند مقامات پر لڑ رہے ہیں اور ہماری فورسز اسرائیل میں زمین پر لڑ رہی ہیں۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملے میں 2200 سے زائد راکٹ فائر کیے گئے البتہ حماس کا کہنا ہے کہ انہوں نے 5ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے ریشیٹ 13 ٹی وی نیوز نے بتایا کہ جنگجووں نے اوفاکم قصبے میں اسرائیلیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور 5 فلسطینی حملہ آوروں کو سڈیروٹ قصبے میں مارا گیا ہے اور کئی گھروں کو بھی نذر آتش کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل حماس نے اسرائیل کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر 5 ہزار سے زائد راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔

غزہ کی پٹی سے آج صبح اچانک اسرائیل پر راکٹ حملے کے بعد اسرائیل میں خطرے کے پیشِ نظر سائرن بج اٹھے۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے صحافی نے رپورٹ کیا کہ راکٹ صبح ساڑھے 6 بجے غزہ کے متعدد مقامات سے داغے گئے۔

اسرائیلی فوج نے ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں ایک گھنٹہ سے زائد تک سائرن بجاتے ہوئے شہریوں سے بم شیلٹرز کے قریب رہنے کی تاکید کی۔

فوج نے مزید معلومات فراہم کیے بغیر مزید کہا کہ بہت سے عسکریت پسند غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی حدود میں گھس آئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اِس وقت جنگی صورتحال کا سامنا ہے، وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے سیکورٹی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

’آپریشن الاقصیٰ فلڈ‘ کا آغاز
حماس کے فوجی کمانڈر محمد الضیف نے حماس میڈیا پر نشر ہونے والی ایک نشریات میں ’آپریشن الاقصیٰ فلڈ‘ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے فلسطینیوں سے ہر جگہ لڑنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ زمین پر آخری قبضے کو ختم کرنے کی سب سے بڑی جنگ کا دن ہے، 5 ہزار سے زائد راکٹ (اسرائیل کی جانب) داغ دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے غاصب (اسرائیل) کے تمام جرائم کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اُن کی بلا احتساب اشتعال انگیزی کا وقت ختم ہو گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم آپریشن الا اقصیٰ فلڈ کا اعلان کرتے ہیں اور ہم نے ابتدائی حملے میں 20 منٹ کے اندر 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے

 

۔

ٹیلی گرام پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں حماس نے مغربی کنارے میں مزاحمت کرنے والے جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ عرب ممالک سمیت دیگر اسلامی ممالک سے جنگ کا حصی بننے کی اپیل کی ہے۔

امریکا نے حماس کی جانب سے حملے کی مذمت کی اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تشدد اور انتقامی حملوں سے باز رہیں، امریکی دفتر برائے فلسطینی امور نے ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ دہشت گردی اور انتشار کسی چیز کا حل نہیں ہے۔

ایمرجنسی سروسز کے مطابق حملے کے نتیجے میں ایک اسرائیلی خاتون ہلاک ہو گئی، ایمبولینس کا عملہ غزہ کی پٹی کے آس پاس کے علاقوں میں تعینات ہوگیا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس کی افواج غزہ کے اندر کارروائی کر رہی ہیں تاہم بیان میں اِس حوالے سے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

’الجزیرہ‘ نے ’اے ایف پی‘ کے ایک رپورٹر کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی پر رہائش پذیر سیکڑوں باشندے اسرائیل کے ساتھ بارڈر سے دور جانے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

رپورٹر نے بتایا کہ مرد، خواتین اور بچے اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے کمبل اور کھانے پینے کی اشیا اٹھائے ہوئے تھے۔

مقامی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وسطی اور جنوبی اسرائیل کے مقامی ہوائی اڈوں سے کمرشل پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بین گوریون ہوائی اڈہ آپریشنل رہے گا اور حفاظتی ہدایات اور رہنما اصولوں کے مطابق کام کرے گا۔

اسرائیل کی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ ٹیمیں غزہ کے قریب جنوبی اسرائیل کے علاقوں میں بھیج دی گئی ہیں اور رہائشیوں کو اندر ہی رہنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

فلسطینی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ متعدد اسرائیلیوں کو جنگجوؤں نے یرغمال بنا لیا ہے، حماس کے میڈیا نے ویڈیو فوٹیج شیئر کی جس میں بظاہر ایک تباہ شدہ اسرائیلی ٹینک دکھایا گیا۔

اسرائیلیوں کی اپنی حکومت سے مدد کی اپیل
اسرائیل این12 نیوز کو فون پر غزہ کے قریبی علاقے نیر اوز سے خاتون مدد کی اپیل کی، جنہوں نے اپنا تعارف ڈورین کے نام سے کروایا اور کہا کہ جنگجو گھروں میں داخل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ابھی دوبارہ آگئے ہیں لہٰذا ہماری مدد کریں، کئی گھروں کونقصان پہنچایا ہے، میرے شوہر نے دروازہ بند کردیا ہے اور وہ گولیاں برسا رہے ہیں۔

حماس نے سنگین غلطی کردی ہے، اسرائیلی وزیرِ دفاع
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ کئی مسلح افراد غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے علاقے میں گھس آئے ہیں، غزہ کی پٹی کے آس پاس کے علاقے کے رہائشیوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مسلح افراد نے جنوبی اسرائیل کے قصبے سڈروٹ میں راہگیروں پر فائرنگ کی، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیجز میں شہر کی گلیوں میں جھڑپوں کے ساتھ ساتھ جیپوں میں مسلح افراد دیہی علاقوں میں گھومتے ہوئے دکھائی دیے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں اعلیٰ سیکورٹی حکام سے ملاقات کریں گے، وزیر دفاع یوو گیلنٹ کو اضافی فوج طلب کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ حماس نے اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کر کے ایک ’سنگین غلطی‘ کردی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجی دراندازی کے تمام مقامات پر دشمن سے لڑ رہے ہیں، یہ جنگ اسرائیلی ریاست جیت جائے گی۔

راکٹ داغے جانے کی آواز غزہ میں سنی گئی اور رہائشیوں نے جنوبی قصبے خان یونس کے قریب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان واقع باڑ کے نزدیک مسلح جھڑپوں کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مسلح جنگجوؤں کی واضح نقل و حرکت دیکھی ہے۔

حماس میڈیا کی جانب سے ویڈیوز جاری کر دی گئیں جس میں کہا گیا کہ جنگجووں نے اسرائیلی فوجیوں کو غزہ لایا ہے اور فلسطینی مسلح افراد اسرائیلی گھروں کے اندر ہیں اور جیپ میں اسرائیلی قصبے میں سفر کر رہے ہیں جو رپورٹس کے مطابق جنگجو اسرائیل کے اندر لے گئے ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز نے کہا کہ اس ویڈیو کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

فلسطینی میڈیا نے بتایا کہ جنگجووں نے کئی اسرائیلیوں کو گرفتار کرلیا ہے اور حماس میڈیا سے جاری ویڈیو میں بظاہر تباہ شدہ اسرائیلی ٹینک دکھائی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج یرغمال بنائے جانے کی رپورٹس سے آگاہ ہے لیکن مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی اور صحافیوں کو بریفنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس پر بات کرنے سے انکار کیا۔

غزہ میں راکٹ حملوں کی آوازیں سنی جاسکتی تھیں اور شہریوں نے رپورٹ کیا کہ جنوبی قصبے خان یونس میں اسرائیل کو الگ کرنے والی باڑ کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں اور مسلح جنگجووں کی سرگرمی بھی نظر آئیں۔

اسرائیلی ایمبولینس سروس نے بتایا کہ غزہ کے قریب جنوبی اسرائیل میں مذکورہ علاقوں پر ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں اور شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

فلسطینی اسلامی جہاد گروپ نے بتایا کہ حملے میں ان کے جنگجو حماس کے ساتھ شریک ہیں۔

اسلامی جہاد کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو حمزہ نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہم اس جنگ کا حصہ ہیں، ہمارے جنگجو فتح کے حصول تک قسام بریگیڈ کے اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

غزہ میں ایک دکان دار نے بتایا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو اسرائیل میں داخلے کا یقین نہیں ہے، یہ ایک خواب کی طرح ہے، میں اب بھی یقین نہیں کرسکتا۔

ان حملوں سے ایک روز قبل اسرائیل نے 1973 کی جنگ کے 50 سال مکمل ہونے پر تقریبات منعقد کیے تھے، اس جنگ میں شام اور مصر کی جانب سے ہونے والے اچانک حملوں سے بحرانی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم زور دیتے ہیں کہ فریقین تحمل کامظاہرہ کریں اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پردارالحکومت القدس شریف پر مشتمل قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے دوریاستی حل سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہے۔

سعودی عرب سمیت دیگر مسلمان ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین کو ضبط کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا جبکہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے فلسطینی راکٹ حملوں کی مذمت کی۔

بارڈر تنازع
واضح رہے کہ اسرائیل نے 2007 میں حماس کے عسکری گروپ کے بااختیار ہونے کے بعد سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس کے بعد سے فلسطینی عسکریت پسند اور اسرائیل کئی تباہ کن جنگیں لڑ چکے ہیں۔

تازہ ترین جھڑپ ستمبر میں کشیدگی میں اضافے کے بعد سے سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے غزہ کے ورکرز کے لیے بارڈر کو 2 ہفتوں کے لیے بند کر دیا تھا۔

بارڈر کی بندش اس وقت عمل میں آئی جب فلسطینیوں کے مظاہرے بارڈر تک پہنچ گئے جہاں بھاری تعداد میں فوجی تعینات ہیں۔

مظاہرین نے ٹائر جلانے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھر اور پٹرول بم پھینکے جس کے جواب میں مطاہرین پر آنسو گیس اور گولیاں برسائی گئیں۔

ناقدین نے بارڈر کی بندش کو ہزاروں فلسطینی ورکرز کے لیے اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جن کے لیے اسرائیل میں غزہ سے کہیں زیادہ روزگار کتے مواقع موجود ہیں جبکہ غزہ میں بےروزگاری عروج پر ہے۔

28 ستمبر کو بارڈر پر آمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی تھی جس 23 لاکھ افراد پر مشتمل غزہ کی صورتحال میں بہتری آنے کی امید پیدا ہوئی۔

مئی میں اسرائیلی فضائی حملوں اور غزہ پر راکٹ فائر کے نتیجے میں 34 فلسطینی اور ایک اسرائیلی کی موت واقع ہوگئی تھی۔

اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے مطابق رواں برس اب تک کم از کم 247 فلسطینی، 32 اسرائیلی اور 2 غیر ملکی اس تنازع میں جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں، جن میں دونوں طرف کے جنگجو اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

زیادہ تر ہلاکتیں مغربی کنارے میں ہوئی ہیں، جس پر 1967 کے عرب-اسرائیل تنازع کے بعد سے اسرائیل کا قبضہ ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین