مسلم اکثریتی لکش دیپ کے بھگوا کرن کی کوشش

0
161

شراب پر عائد پابندی ختم، بیف پر پابندی ،سی اے اے کے خلاف کریک ڈائون کے نام پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں، لکش دیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن قانون کے تحت مقامی لوگوں کی زمین چھین کر بیرونی افراد اور کمپنیوں کو دینے کی کھلی چھوٹ، مودی کے قریبی پرفل کھوڈا پٹیل کے متنازعہ قوانین اور فیصلوں سے عوام نالاں ، کانگریس نے مودی سرکار پر ثقافتی حملہ کرنے کا الزام عائد کیا

نئی دہلی۔ ۲۵؍مئی: مسلم اکثریتی لکش دیپ جزیرے کے ذمہ دار پرفل کھوڈا پٹیل کے کچھ فیصلوں کے بعد یہاں سیاست گرما گئی ہے، پرفل پٹیل کے قدموں کو عوام مخالف قرار دیتے ہوئے مرکز کے زیر انتظام ریاست اور پڑوسی ریاست کیرل کی پارٹیوں نے انہیں ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دراصل خبروں کے مطابق پٹیل نے مسلم اکثریتی جزیرے میں شراب سے پابندی ہٹا دی ہے اس کے علاوہ جانوروں کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے بیف پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔ پرفل پٹیل کے متنازعہ فیصلوں اور قوانین سے عوام میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔ادھر لکش دیپ راشٹریہ کانگریس پارٹی رکن پارلیمنٹ محمد فیضل اور پڑوسی ریاست کیرل ایلامارن کریم اور ای ٹی محمد بشیر نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ لکشدیپ کے ذمہ دار پرفل پٹیل کوواپس بلائے۔ وہیں پٹیل کا دفاع کرتے ہوئے بی جے پی کے نائب ریاستی صدر عبداللہ کوٹی نے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن پٹیل کے خلاف اس لیے احتجاج کررہے ہیں کیوںکہ پٹیل نے کرپٹ لیڈران پر شکنجہ کسنا شروع کردیا ہے ۔ واضح رہے کہ لکش دیپ جزیرہ ہے وہاں کی ۹۰ فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں کی ہے، وہاں پر نفرتی فضاء، طبقاتی ظلم و زیادتی، مذہبی منافرت، دنگے فساد اور مجرمانہ معاملات کا ریکارڈ فیصدی صفرہے، جبکہ وہاں غير مسلم اقلیتی بشمول بظاہر ہندو کہلانے والے بھی بستے ہیں لیکن اکثریتی مسلم آبادمیں مسلمانوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اہلِ اسلام کی چھاؤں میں رہتےہیں، اس جزیرے پر ہندوتوائی مشنری، آر۔ایس۔ایس بھاجپا اور بھگوائی عناصر کو اب تک زمین نہیں مل سکی ہے، اسی لیے اس کی فطری خوبصورتی یہاں کے باسیوں کے دلوں میں بھی زندہ ہے۔لیکن اب اس امن وامان کے گہوارے اور خوبصورت جزیرے کو آر۔ایس۔ایس کی ناپاک نظر لگ گئی ہے،۔مودی کے قریبی پرفل پٹیل کو دسمبر ۲۰۲۰ میں اس جزیرے کا انتظامی آفیسر بناکر بھیجا گیاتھا۔ پرفل پٹیل نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے شراب بندی سے پابندی اُٹھالی اور بیف کی خریدوفروخت کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ شہریت ترمیمی قانون کےخلاف احتجاج کرنے والوں کو بڑے پیمانے پر گرفتارکررہی ہے اور پنچایت الیکشن سسٹم میں گھس پیٹھ مجرمانہ ریکارڈ زیرو فیصد ہونے کے باوجود سنگین مجرمانہ قانون Prevention of Anti-Social Activities Act (PASA) جسے غنڈہ۔ایکٹ کہا جاتاہے، اسے عمل میں لایا جارہا ہے، بتایاجارہا ہے کہ اس کےذریعے کوشش ہے کہ لکشدیپ کے متحرک مسلم نوجوانوں اور بااثر مسلمانوں کو بلاکسی جانکاری کے اٹھا اٹھا کر جیلوں میں بند کردیا جائے۔جزیرے میں ایک اور نیا قانون Lakshadweep Development Authority Regulation لایا گیا ہے، یہ زیادہ خطرناک ہے، اور باضابطہ فرنگیوں اور اسرائیلیوں کی طرح مسلمانوں کی زمینیں ہتھیانے کی منصوبہ بندی بھی ہے، اس قانون کےمطابق’’سرکاری انتظامیہ کو گاؤں بسانے یا دیگر ترقیاتی کاموں کےنام پر یہ اختیار ہوگاکہ، وہ زمین کے اصلی مالکان کو ان کی زمین سے بےدخل کرکے دوسری جگہ منتقل کرسکتےہیں، اسطرح باہری لوگوں کو لکشدیپ میں قابض ہونے کے لیے گھسانے کی منصوبہ بندی ہے۔ادھر کانگریس نے آج مودی سرکار پر لکشدیپ پر ثقافتی حملہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس کے رہنما اجے اماکن نے کہاہے کہ لکشدیپ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن بنایا گیا ہے ، جس کی وہاں ضرورت نہیں ہے۔ ماہی گیروں کو وہاں دبایا جارہا ہے۔ گونڈاایکٹ وہاں لایا جارہا ہے جبکہ وہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری وینوگوپال نے صدر کوایک خط لکھ کر اس کے بارے میں شکایت کی ہے۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ دونوں مسودہ ضوابط کو واپس لیا جائے اورایڈمنسٹریٹر پرفول کھڈا پٹیل کو واپس بلایا جائے۔