موب لنچنگ اور ’بلڈوزر کلچر‘‘ کی زیادتیوں کے شکار بیشتر پسماندہ مسلم برادری سے تعلق رکھتے ہیں: آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ

آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذنے بہار کے ذات پر مبنی سروے پر رپورٹ شائع کی۔بہار کے پسماندہ مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی صورت حال انتہائی خراب

0
88

انصاف نیوز آن لائن

پسماندہ مسلمانوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ (اے آئی پی ایم ایم) نے منگل کو بہار کے ذات پات کے سروے پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی، جس میں مرکزی حکومت سے موب لنچنگکے خلاف سخت قانون بنانے اور’’بلڈوزر کلچر‘‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ۔رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان دونوں زیادیتوں کے شکار تقریباً تمام متاثرین پسماندہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ رپورٹ دہلی میں جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پسماندہ مسلمانوں کی سماجی اور معاشی حالات کے پیش نظرپرائیوٹ شعبوں میں ریزرویشن فراہم کیا جائے۔

وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی اسٹریجک طور پر پسماندہ مسلمانوں کے قریب پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔تاہم آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذبی جے پی، آر ایس ایس اور اے آئی ایم آئی ایم یکساں تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ہم آر ایس ایس، بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم کی سیاست کو ایک دوسرے کے تکمیلی تصور کرتے ہیں۔

اے آئی پی ایم ایم کی رپورٹ ’’بہار کاسٹ سروے 2022-2023 اور پسماندہ ایجنڈا ‘‘میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’موب لنچنگ اور سرکاری بلڈوزر کے ذریعہ زیادتیوں کے شکار ہونے والوں میں 95فیصد پسماندہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کے خلاف سخت قانون بنایا جائے۔ جس ضلع میں ایسا واقعہ پیش آئے اس کے کلکٹر اور ایس پی کو اس کے لیے جوابدہ بنایا جائے۔ ایسے واقعات میں مرنے والوں کے خاندان کو معاوضہ دیا جانا چاہئے اور اس خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جانی چاہئے۔

رپورٹ میں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے ایک ایجنڈا بھی ترتیب دیا گیا ہے، جس میں ’’پرائیوٹ شعبوں میں ریزرویشن ‘‘کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم پر تنقید کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ہزاروں کی تعداد میں محمد علی جناح کے دو ریاستوں کے مطالبے اور وی ڈی ساورکر کے ہندو راشٹر وژن کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ‘گزشتہ 25 سالوں سے اسی جذبے کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

بہار ذات کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئےکہا گیا ہے کہ صرف 0.34فیصد پسماندہ (ای بی سی پلس او بی سی) مسلمانوں کے پاس آئی ٹی آئی / اسی طرح کے ڈپلومے ہیں اور ان میں سے صرف 0.13فیصد کے پاس بیچلر آف انجینئرنگ کی ڈگریاں ہیں۔ ان میں سے صرف2 .55فیصد آرٹس/ سائنس/ کامرس کے گریجویٹ ہیں اور صرف 0.3فیصد پسماندہ مسلمان چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں رکھتے ہیں۔

کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور گاڑیوں کے اعتبار سے بھی پسماندہ مسلمان بہت پیچھے ہیں۔ پسماندہ کے تقریباً99.10فیصد مسلمانوں کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہیں ہیں اور صرف 0.62فیصد مسلمان انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ تقریباً96.47فیصد پسماندہ مسلمانوں کے پاس کسی قسم کی گاڑیاں نہیں ہیں۔ ان میں سے صرف10.3فیصد کے پاس دو پہیہ گاڑیاں ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ جبکہ صرف0 .30فیصد او بی سی اور ای بی سی مسلمان دوسری ریاستوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، صرف 1.30فیصد ریاست سے باہر کام کر رہے ہیں۔تقریباً 30.3فیصد پسماندہ مسلمانوں کی ماہانہ آمدنی 6,000روپے سے کم ہے۔ ان میں سے تقریباً 55 فیصد ٹائل والے یا ٹین کی چھت والے گھروں میں رہتے ہیں۔

مرکز کی پالیسیوں پر اے آئی پی ایم ایم کی رپورٹ پوچھتی ہے کہ وہ قومی سطح پر ذات پات کی مردم شماری کو کیوں روک رہی ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ ایس سی کوٹہ کو دلت مسلمانوں اور دلت عیسائیوں تک بڑھایا جائے اور میواتی، بنگورجر، مداری، سپرا جیسے کئی قبائل کو ایس ٹی کا درجہ دیا جائے۔

مسلمانوں میں جن 38 ذیلی گروپوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے 28 بہار میں ای بی سی کے طور پر درجہ بندی کرتے ہیں، جو ریاست کی آبادی کا10.57فیصد ہیں۔ ای بی سی کے کچھ نمایاں گروپس میں ادریسی، اتفروش، قصاب، کلہیا، چک، چوڈیہار، ٹھاکورائی، ڈفالی، دھنیا، پامریا، بکھو، مداری، مکیری، میریسین، ہلالخور اور جولاہا/انصاری شامل ہیں۔یہاں 7 او بی سی مسلم گروپس ہیں جن میں گڈی، نلبند، کلال/ایراکی، جاٹ، مداریہ، سرجاپوری اور ملک شامل ہیں، جو آبادی کا تقریباً 2فیصدہیں۔

اے آئی پی ایم ایم کے بانی اور سابق ایم پی علی انور انصاری نے انصاف نیوز آن لائن کو بتایا کہ بہار ذات کے سروے کی رپورٹ بہار میں پسماندہ مسلمانوں کی ناقص سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالت میں صرف ایک جھانکتی ہے۔ اگر ملک گیر مردم شماری ہوتی ہے، تو ہمیں اس بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں گی کہ پسماندہ مسلمانوں کو کس طرح اور کہاں رکھا گیا ہے اور کون سے اصلاحی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

پسماندہ مسلمانوں کے مسائل پر اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انصاری نے مزید کہاکہ انہیں لفظ پسماندہ سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ 80فیصد مسلم آبادی پر خاموشی اختیار کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ پسماندہ ایک ذات اور مذہبی غیر جانبدار لفظ ہے… تمام مذاہب کے دلت نظرانداز اور پسماندہ افراد سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن پارٹیاں بھی لفظ پسماندہ استعمال کرنے لگیں تو بی جے پی کی طرف سے ان پر لگائے جانے والے مسلمانوں کی خوشنودی کے نعرے کی تردید ہو جائے گی۔ بی جے پی کی طرح محض ’ٹوکن ازم‘ کرنے کے بجائے، اپوزیشن جماعتوںکو درحقیقت پسماندوں یا انتہائی پسماندہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو حکومت اور انتظامیہ میں مناسب نمائندگی دینی چاہیے۔‘‘
؎
انہوں نے انہیں یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے منشور میں کمیونٹی کے لیے ایک منصوبہ کا اعلان کریں، جو کہ بنکروں اور دیگر کاریگر ذاتوں کے لیے بی جے پی کی ’وشکرما یوجنا‘ کا مقابلہ کرسکیں ۔