مفتی مظفر عالم قاسمی ؒ:وہ جس کی فقیر ی میں تھی بوئے اسداللہی

0
248

نور اللہ جاوید
جب انسان کا مقدر مٹی کا خوراک ہوجانا ہےتو پھر کسی کے جانے اور رخصت ہوجانے پر دل و دماغ شل کیوں ہوجاتے ہیں؟ کسی کے جانے کا یقین کیوں نہیں ہوتا ہے؟۔ ان سوالوں کا جواب شاید ہی کسی کے پاس ہو ۔ انسان تو انسان ہی ہے۔حقائق کے ادارک کے باوجود وہ انکاری ہے۔قتل الانسان مااکفرتاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حوادث اور غموں کے پہا ڑ سے ٹکرانے کے باوجود انسان جلد ہی عزم و حوصلہ کے ساتھ عازم سفر ہوجاتا ہے۔حضرت جگرمرآبادی نے کہاتھا کہ
زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ
موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

دراصل موت کے بعد بھی زندگی کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، ان کی یادیں زندہ رہتی ہیں ۔ایک مہینے سے زائد کا وقفہ بیت گیا ہے مگر یادیں ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔غم و جذبات کی لہریں ہیں جو تھم نہیں رہی ہیں۔جنوری کے دوسرے ہفتے میں اپنے محسن اور خاندان کے بزرگ ، و سرپرست حضرت مولانا مفتی مظفر عالم قاسمیؒ کے سانحہ ارتحال کے غم سے دو چار ہونا پڑا۔میرے وہ خسر محترم تھے ۔دودہائیوںپر مشتمل تعلق وقربت نے دل و دماغ پر ایسا نقش چھوڑا ہے کہ وہ زندگی کے جزو لاینفک ہوگئے تھے۔پدرانہ شفقت، بزرگانہ محبت کی وجہ سے والدمرحوم کے بعد میرے لئے شجر سایہ دار تھے۔زندگی کے اتار چڑھائو ، نرم و گرم اور سخت سے سخت مرحلے میں ان کے مشورے اور رہنمائی مشعل راہ تھی۔ان کی نرم وگرم گفتگو سے دل روشن و منور تھے ان کی عظمت و رفعت اور قابل احترام ہونے کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ ان کا مجھ سے رشتہ تھا بلکہ وہ داعی اسلام، عالم دین ،بے لوث خادم دین تھے۔ زندگی کی ہرسانس میں دین کی تڑپ اور ان کی گفتگو کا محور دین اسلام تھا ۔ان کی مصروفیات کا ایک بڑا حصہ دعوت و تبلیغ اور علم دین کی خدمت کیلئے وقف تھا۔جب تک صحت نے ساتھ دیا خلق خدا کی دینی و علمی رہنمائی کیلئے خود کو مصروف رکھا۔اس اعتبار سے دیکھاجائے ان کا سانحہ ارتحا ل ذاتی نوعیت کا کا نہیں ہے ۔ عالم کی موت کو عالَم کی موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایک عالم دین جب تک زندہ رہتا ہے وہ اپنےو جودِ مسعود سے خلق خدا کی رہنمائی کرتا ہے۔ہدایت کا ذریعہ بنارہتا ہے۔محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : سمعت رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يقول : إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء ، حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رؤوسا جهالا ، فسئلوا ، فأفتوا بغير علم ، فضلوا وأضلوا .

حضرت عبد اللہ بن عمر و عاص ؓکہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ اپنے بندوں سے علم نہیں چھینتا ہے مگر علماکو اٹھاکر علم چھین لیتاہے ۔یہاں تک کہ کوئی عالم دین نہیں بچتا ہے اور عوام جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیتی ہے اور ان سے رہنمائی حاصل کرتی ہے اور وہ شخص بغیر علم کا فتویٰ دیتا ہے اور خود گمراہ ہوتاہے اور لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے۔(ترجمہ )

مفتی مظفر عالم قاسمی ؒ کا آبائی وطن بہار،سیتامڑھی ضلع کے مردم خیز بستی برار ہے۔مگر ان کی زندگی کا بیشتر حصہ ممبئی میں گزرا ، ممبئی ان کا میدان عمل تھا اور یہیں پیوند خاک بھی ہوئے ۔ مفتی صاحب کی زندگی کے مختلف پہلوہیں وہ بیک وقت جید عالم دین ، بے مثال خطیب ، فقہ اسلامی پر گہری نظر، مشفق و رحیم استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ تجارت میں بھی زور آزمائی کی اور الصادق والمصدوق والنبین و الشہدار و الصالحین کی پیش گوئی کے مصداق ٹھہرے۔تاہم ان کی زندگی کا سب سے روشن پہلو میرے نزدیک ان کی جامع شخصیت میں خلو ص و للہیت ،ربانیت ،کتاب و سنت پرشیدائیت ،ایمان کی فراست،صالح فکر ، زمانہ شناسی ، ایثار و قربانی ، بے لوثی، بے نیازی ، نام و نمود اور شہرت سے دوری ،خاموشی سے کام کرنے کا مزاج اور غیر معمولی صبر وتوکل سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے اور یہ چیزیں ان کی زندگی کے ہر حصے میں نظرآتی ہیں۔

ممبئی شہر صرف ایک شہر نہیں ہے بلکہ ملک کی اقتصادی راجدھانی ہے۔اپنے اندر کئی شہروں کو سموئے ہوئے ہے۔ہرطرف چکا چوند ، بلند وبالا عمارتیں انسانوں میں احساس محرومی پیدا کرتی ہیں۔مادہ پرستی اور سرمایہ پرستی کی رغبتیں دلاتی ہیں ۔تاہم نصف صدی سے زائد اپنی عملی زندگی میں مادہ پرستی کی آلائشوں سے دامن کو داغدار اور دولت کی فراوانی کی چکاچوندسے متاثر ہوئے بغیر خاموشی سے علم و عمل کا چراغ آخری لمحے تک روشن رکھنے کی جدو جہد کی ۔بحیثیت استاذ وہ کامیاب و مقبول اساتذہ مین ان کا شمار تھا، درس کی پابندی،طلبا کےساتھ حسن سلوک ، ہمدردی اور ان کی رہنمائی کیلئے خود کو وقف کردینا ان کا طرہ امتیاز تھا۔ طلبا میں مقبول بہت سے اساتذہ ہوتے ہیں ،افہام و تفہیم اور علمی قابلیت کے بدولت بہت سے اساتذہ اپنے طلبا پر ڈھاک قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔مگر اپنے رفیق کار کے درمیان مقبول ہونا ،قابل احترام اور غیر متنازع ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں ۔2004نومبر میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے بعد پہلی مرتبہ میں ممبئی آیا تھا۔اس سے کئی سال قبل وہ ممبئی شہر کے مشہوراسکول انجمن اسلام احمد سیلر ہائی اسکول سے ریٹائرڈ ہوچکے تھے ۔میرے لئے یہ بات حیرت انگیز تھی قاضی پورہ میں واقع ان کا دفترجہاں سے میرے برادران نسبتی کاروبا ر کرتے تھے ۔انجمن اسلام احمد سیلر کے اساتذہ کیلئے ایپیکس سنٹر تھا۔ اپنے مسائل یا گھریلو معاملات میں مشورہ یا پھر دینی و علمی رہنما ئی کیلئے اساتذہ کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔انجمن اسلام احمد سیلر کے اساتذہ نے اس تعلق کو حضرت مفتی ؒ کی زندگی کے آخری لمحے تک قائم رکھا ۔انتقال کے بعد تعزیت کیلئے آنے والے اساتذہ کو ماضی کی شفقتوںاورمحبت اور باتوں کو یاد کرتے ہوئے اشکبار ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔انجمن اسلام احمد سیلر میںان کی وابستگی دینیات اور عربک کے ٹیچر کے طور پرتھی ۔بحالی ہونے کے بعد کئی سالوں تک اسکول انتظامیہ اور حکومت نے انہیں مستقل نہیں کیا ، بہت ہی معمولی تنخواہ تھی۔اس دور میں وہ کاروبار بھی کرتے تھے، انجمن اسلام احمد سیلر کو دئیے جانے والے وقت کو اگر وہ کاروبار میں صرف کرتے تو مالی اعتبار سے ان کیلئے زیادہ نفع بخش ہوتا مگر ان کیلئے انجمن احمد سیلر ہائی اسکول کی مدرسی ذریعہ معاش سے زیادہ دینی خدمت کا ذریعہ تھا۔نونہالوں میں دینی شعور پیدا کرنے پیدا کرنے میں ان میں تڑپ تھی۔نتقال کے بعد کئی رفیق کار نے بتایا کہ ان کی طرح کئی ایسے اساتذہ تھے جو انتظامیہ کی لاپرواہی کے شکار تھے وہ ہر ایک کیلئے جدو جہد کرتے تھے مگرکبھی کبھی اپنا مقدمہ پیش نہیں کیا خاموشی سے تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ۔ان کے عزت نفس کے خلاف تھا وہ اپنے لئے انصاف کی گہار لگاتے ۔

آج’’ خطابت‘‘ دعوت و تبلیغ سے زیادہ پیشہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔جلسوں میں شرکت کیلئے نذرانے پہلے سے طے کئے جاتے ہیں ۔سودے بازیاں ہوتی ہیں ۔مگر حضرت مفتی مظفر عالم قاسمی کیلئے خطابت ’’دعوت و تبلیغ ‘‘ ،دین کی اشاعت اور قوم کی خدمت کا ذریعہ تھا۔نصف صدی زائد عرصے میں ہزاروں سے خطابات کئے ہوں گے، ممبئی شہر ، مہاراشٹر اور ملک کے دیگر حصوں میں خطابت کےلئے بلائے گئے مگر کہیں بھی انہوں نے نذرانہ قبول نہیں کیا ۔اگر منتظمین نے اصرار کیا تو شکریہ کے ساتھ کسی مستحق کے درمیان تقسیم کردینے کی فرمائش کے ساتھ واپس کرتے تے ۔انہیں اس کی پرواہ نہیں تھی کہ ان کیلئے گاڑی بھیجی جائے گی یا نہیں بلکہ وہ وعدے کے مطابق جلسے میں وقت پر پہنچ جاتے ۔ موقع و محل کے اعتبار سے ان کی تقریر اس قدر جامع ہوتی تھی کہ مجمع پر وہ چھاجاتے تھے۔موقع و محل کے اعتبار سے تقریر کرنا اور پھر قصہ کہانیوں ، لن ترانیوں سے گریز اور ترش اور سخت باتوں سے مجمع پرسحر طاری کرنے کے بجائے ان کے خطابت داعیانہ مزاج حاوی ہوتا تھا۔ایک داعی کی حیثیت سے ان کی گفتگو میں سامعین کیلئے محبت ، شفقت کا عنصر حاوی ہوتا تھا۔کم و بیش 40سالوں تک ممبئی شہر کے قلب ناگپاڑہ اور بھنڈی بازار کے درمیان واقع چوکی محلہ کی مسجد میں جمعہ کی خطابت کی اور درس قرآن دیا ۔اسی طرح ممبئی شہر کے مشہور تعلیمی ادارہ انجمن اسلام کے صحن میں عیدین کی امامت کی ۔مگر یہ دونوں خدمات ان کیلئے نہ کبھی شہرت کا ذریعہ تھی نہ پی آر اوکو مضبوط کرنے کا اور نہ ہی اقتصادیات کا ذریعہ تھا۔انہوں نے للہ فی اللہ اس خدمت کو انجام دی ۔چناں چہ چوکی محلہ مسجد کے ٹرسٹی جب اپنے اندرونی انتشار کے شکار ہوئے تو انہوں نے 40سالہ خدمات سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنے میں ایک منٹ وقفہ نہیں لیا۔اپنی ذات کو انتشار و تفریق کا ذریعہ نہیں بننے دیا ۔خاموشی سے جمعہ کی خطابت سے دستبردار ہوگئے۔جب کہ ان کی امامت و خطابت پر نہ مسجد کے ٹرسٹیز اور نہ ہی مصلیوں نے اعتراض کیا تھا۔ٹرسٹیوں کے درمیان آپسی اختلافات تھے۔انجمن اسلام میں عیدین کی امامت بھی ضعف و نقاہت کی بنیاد پر الگ ہوگئے ۔مگر اگلے امام کی حوصلہ افزائی ، ان کی رہنمائی کیلئے کئی سالوں تک انجمن اسلام میں ہی عیدین کی نماز پڑھتے تھے جب کہ جائے مسکن سے انجمن اسلام کی مسافت 50کلومیٹرسے زائد کی دوری تھی۔ مزاج میں استغنا کی وجہ سے حق و جرأت و بے باکی ان کی زندگی کا لازمہ بن گیا تھا۔چناں کہ وہ حق کے اظہار میں ذرہ برابر بھی گریز نہیں کرتے تھے۔اس کی پرواہ کئے بغیر ان کی باتوں سے کسی کو تکلیف ہوسکتی ہے۔بقول علامہ اقبال
دارا و سکندر سے و ہ مرد فقیر اولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی
آئین جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

ان کی شخصیت کی تشکیل میں بہار اورمہاراشٹر کی عظیم شخصیت ،سابق مفتی اعظم مہاراشٹر مولانا عبدالعزیز بہاری ؒ کی خصوصی توجہ اور تربیت کا بہت ہی اہم رول ہے۔کم سنی میں ہی اپنے بڑے چچا مولانا عبد العزیز بہاری کی تربیت میں آگئے اور ان کی نگرانی میں ہی ابتدائی اور عربی درجات کی تعلیم ممبئی شہر میں حاصل کی اور پھر ان کی ہدایت پر ہی دارالعلوم دیوبند میں اپنے وقت عظیم اساتذہ گرام شیخ الحدیث مولانا فخرالدین ، مولاناابرہیم بلیاوی، مولانا حسین احمد بہار ی اورحکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبب رحمہا اللہ سے علم حدیث اور دیگر علوم دینہ کی تعلیم حاصل کی ۔مولانا عبد العزیم بہاری ؒکی وجہ سے اساتذہ دارالعلوم دیوبند کے خصوصی توجہ مستحق ٹھہرے ۔مولانا عبدالعزیز بہار یؒ دارالعلوم دیوبند کے عظیم فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ ممبئی شہر میں اپنی دینی و علمی خدمات کی وجہ سے حلقہ دیوبند میں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔مولانا عبدالعزیز بہاریؒ کی دعوت پر ہی پہلی مرتبہ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ سابق مہتمم درالعلوم دیوبند ممبئی میںجلسہ سیر ت النبی ؐسے خطاب کیا ۔ اس جلسے کے انعقاد کی راہ میں بڑی بڑی بڑی روکاوٹیں کھڑی کی گئیں ، جاہلانہ تہذیب و تمدن کے پروردہ افراد نےہر ممکن کوشش کی کہ یہ پروگرام ناکام ہوجائے۔مگر مولانا عبدا لعزیز بہاریؒ کی مساعی جمیلہ نے ان ہی شرپسند عناصر میں چند افراد کے دل نرم کردئیے اور صنم خانہ سے کعبہ پاسباں مل گیا۔اور ایک قبرستان میں حضرت قاری محمد طیبؒ کا مشہور زمانہ خطاب ہوا ، ایہ پروگرام صرف ایک دن ہونا تھا مگر سات دنوں تک یہ پروگرام ہوتا رہا ۔مفتی مظفر عالم قاسمی میں فولادی عزم اور دین کی تڑپ انہیں اپنے بڑی چچا حضرت مولانا مولانا عبد العزیز بہاری ؒوراثت میں ملی تھی۔دارالعلوم دیوبند سے فراغت ابتدائی سالوں میں اپنے چچا کی نگرانی میںہی ممبئی شہر کےقدیم تعلیمی ادارہ مدرسہ امدادیہ سے وابستہ ہوئے اور کئی سالوں تک تدریسی خدمات انجام دی۔مولانا عبدالعزیز بہاری ؒہی دارالعلوم امدادیہ ممبئی کے بانی ان ہی کوششوں سے یہ ادارہ قائم ہوا اور آج ممبئی شہر میں علوم دینیہ کا مرکزہے ۔اسی طرح ممبئی شہر میں جمعیہ علمائے ہند کے قیام میںمولانا عبدالعزیز بہاریؒ نے کلیدی کردار ادا کیا ۔مگر عہدہ اور شہرہ کبھی بھی ان کے پیش نظر تھا ۔گمنامی میں رہ کر خلوص و للہیت کے ساتھ دین کی خدمت مولانا عبد العزیز براری ؒ کا بہترین مشعلہ تا۔مفتی مظفر عالم کا عہد طفولیت اور عنفوان شباب مولانا بہاری کی صحبت و معیت میں گزرا تھا اور انہوں نے ان ی تربیت بھی اسی انداز میں کی تھی چناں چہ یہ تمام خوبیاں ان میں منتقل ہوئی ۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا

اس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز
نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
نُقطۂ پرکارِ حق، مردِ خدا کا یقیں
اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز
حضرت مفتی مظفرعالم قاسمی ؒ کی زندگی کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کو اجتماعی اور قومی مفادات پر ترجیح نہیں دی اور فتنہ کا سبب نہیں بنے۔انہوں نے اپنے آبائی گائوں برار میں 80کی دہائی میں درس گاہ تعلیم الدین کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔دراصل یہ ادارہ ان کے بڑے چچا مولانا عبد العزیز بہاری ؒ کی دلی خواہش اور آرزو کی تکمیل تھی۔30سالوں تک اس مدرسے کی آبیاری کی ،کوئی معاوضہ نہیں لیا، مدرسے کے نظام کوچلانے کیلئے شورائی نظام قائم کیا جس میں گائوں کے سرکردہ اور ممبئی شہر میں مقیم اہل خیرحضرات پر مشتمل افراد شامل تھے۔مدرسہ کے نظام کو لے کر گائوں کے چند افراد نے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی اور نظام میں دخل اندازی کرنا چاہا تو انہوں نے فوری طور پر خود کو مدرسے سے الگ کرلیا اور مدرسہ کا نظا م گائوں کے نوجوان علما کے حوالے کردیا۔اسی طرح چوکی محلہ مسجد جہاں 40برسوں تک جمعہ کی خطابت اور تفسیر قرآن مجید کی خدمت انجام دی وہاں علاقائی بچوں کی تربیت اور دینی تعلیم کیلئے مقامی افراد کے تعاون سے ’’مدرسہ ذاکرین رسول اللہ ‘‘ قائم کیا اور یہ ادار ہ بھی کی سالوں تک دینی تعلیم کا مرکز رہا۔چوں کہ یہ مسجد پانچ وقتہ نماز کیلئے شافعی مصلیٰ اور اس کے ٹرسٹی حضرات کا تعلق کوکنی کمیونیٹی سے ہونا لازمی ہے ۔چند سال قبل مسجد کے پانچ وقتہ امام اور مسجد کے ٹرسٹیاں کے درمیان اختلافات رونما ہوئے تو مفتی صاحبؒ نے ضعف کا حوالہ دیتے ہوئے کسی اور عالم دین کو جمعہ کی خطابت کی ذمہ داری سونپنے کی درخواست کرتے ہوئے خود کو اس سے الگ کرلیا۔ دراصل ان کے پیش نظر اپنی ذات نہیں تھی ، نہ وہ ان دینی خدمات کیلئے کوئی ذاتی مفادات وابستہ تھے ۔ان کی زندگی کا مشن تاریکی کاخاتمہ اور اس کیلئے چراغ روشن کرنا تھا۔بقول کلیم عاجز

مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا
تری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا
کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا

زندگی کے آخری دس سال میں کئی ذاتی سانحوں سے انہیں گزرنا پڑا۔اہلیہ کا انتقال ، دو دو جواں سال بہوئوں کے انتقال نے گھریلو زندگی کو تہس نہس کردیا، چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیا ں ماں کے انتقال کی وجہ سے بے سہارا ہوگئے ، ان بچوں کا عمر کے اس حصے میں سامنا کرنا سوہان روح سے کم نہیں رہاہو گا۔2018میں چھوٹے بھائی ، ممبئی شہر کے مشہور عالم دین اور دارالعلوم عزیزیہ میرا روڈ کے بانی و سابق مہتمم حضرت مولانا مظہر عالم قاسمی ؒ کے انتقال کا بھی صدمہ برداشت کرنا پڑا ۔گرچہ ان سانحات پر انہوں نے کبھی کبھی بات نہیں کی۔ان کا تکیہ کلام تھا’’اللہ مالک ‘‘ ہے۔دراصل یہ ان کی زندگی کا فلسفہ تھا اور اس جملے کے سہار ے بڑے سے بڑے حادثے ، شدید قسم کی تکلیف، اپنوں کی بے وفائی کے غم کوبرداشت کرلیتے تھے۔کئی سال قبل آنکھ کے موتیا بن کا آپریشن کرایا گیا مگر وہ آپریشن ناکام رہا، آنکھ کی روشنی بتدریج کم ہوتی رہی اور آخر کار 2021میں مکمل طور پر روشنی ختم ہوگئی ۔کورونا وبا نے بھی اپنے کرتب دکھا ئے اور پھیپھرے کو شدید نقصان پہنچایا۔اس کی وجہ سے سانس کی تکلیف ہوگئی تھی مگر کبھی بھی اپنی بیماری کا گلہ نہیں کیا ۔ہم لوگ پوچھتے کہ کیسی طبیعت ہےوہ خاص انداز میں کہتے ہیں’’ ٹھیک ہوں معمولی نقاہت ‘‘ہے۔ آنکھوں کی بینائی ختم ہونے پر نہ صرف صبر کیا بلکہ زندگی کے اس تکلیف دہ اوقات کو اپنے بچوں بالخصوص پوتے اور پوتیوں کی تربیت کیلئے استعمال کیا۔پچوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی ، بچوں سے قرآن کی تلاوت سنتے تھے اور ان سے حدیث کتابیں پڑھواتے اور ضرورت محسوس کرتے تو اس کی تشریح بھی کرتے تھے۔زندگی کی دوڑ دھوپ ، مشغولیات اور دعوت و تبلیغ کے پروگرام کی وجہ سے عمومی طور پر گھرپر توجہ نہیں ہوپاتی ہے۔اسی وجہ سے بسااوقات چراغ تلے اندھیرا ہوجاتا۔ مگرحضرت مفتی ؒ کورونا وبا اور پھر صحت کی خرابی کی وجہ سے گھر میں محصور ہوئے تو اپنی پوری توجہ بچوں کی تربیت اور اپنے دل و دماغ کو مکمل یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف موڑدیا۔آخری دوسال ان پرخاموشی چھائی ہوئی تھی۔دنیاوی مسائل، تنازعات اور اس سے متعلق کسی بھی قسم کی گفتگو بالکل پسند نہیں تھی ۔نہ وہ اس میں حصہ لیتے تھے۔بلکہ رجل قلبہ معلق فی المساجد کے مصداق بن گئے تھے۔ہروقت نماز کی فکر تھی ۔آذان سے قبل ہی نماز کی فکر کرنے لگتے ، بچوں کوآواز دینے لگتے اور آذان ختم ہوئی اور سنت کیلئے کھڑے ہوجاتے ۔یہ سلسلہ آخری وقت جار ی رہا۔آخری دوماہ اٹھنے بیٹھنے سے معذور ہوگئے، مکمل طور پر صاحب فراش اور آکسیجن پر منتقل ہوگئے مگر نماز کا اہتمام ختم نہیں ہوا۔یہ کیفیت اسپتال میں بھی رہتی تھی کہ مجھے نماز پڑھائو ۔نسیان کا غلبہ ہوجانے کے بعد نماز کو نہیں بھولے بلکہ یہ بھول جاتے تھے نماز پڑھ لی ہے۔فرمائش کرتے کہ نماز باقی ہے ۔نماز پڑھنی ہے۔ میرے خیال سے یہی حسن خاتمہ ہے اور یہی مقصود زندگی ہے بند ہ اللہ کے حضور میں اس طرح حاضر ہو کہ ان کی زندگی کا محور صرف ذات باری تعالی ہوجائے ۔آنکھ بینائی ختم ہونے پر صبر کرنے سے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔

عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول إن اللہ قال إذا ابتلیت عبدی بحبیبتیہ فصبر عوضتہ منہما الجنۃ یرید عینیہ
(بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ، ۴/۶ حدیث: ۵۶۵۳)
ترجمہ :´´ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں :میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رب تعالی فرماتا ہے :جب میں اپنے کسی بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں کے ذریعے ازمائش میں مبتلا کروں پھر وہ صبر کرے تو میں اس کے عوض اسے جنت دونگا ۔( دومحبوب چیزوں سے مراد اس کی دونوں انکھیں ہیں)
باتیں طویل ہوگئی ہیں مگر ان کی زندگی کا فسانہ حیات کے کئی پہلو آنے باقی ہیں ۔انشا اللہ کتابی شکل میں تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی ۔اس وقت کیلئے ہم دعا کرتے ہیں –
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے