کلکتہ کے مسلم ادارے :اپنوں کی بے حسی اور حکومت کی بے توجہی کا شکار

0
671

نوراللہ جاوید
16اگست 1946کو محمد علی جناح کے ذریعہ ’ڈائریکٹ ایکشن پلان(ہڑتال)کے اعلان کے ساتھ ہی کلکتہ میں فرقہ وارانہ فسادات کا جوسلسلہ شروع ہوا تھا وہ ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی جاری رہا ۔ہزاروں جانیں تلف ہوگئیں اور کروڑوںکی جائدادیں تباہ وبرباد ہوگئیں ۔کلکتہ شہر میں مسلمانوں کی آبادی 40فیصد کے قریب تھی ۔مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ اوربڑی تعداد میں تاجر طبقہ یہاں آباد تھے ۔فسادات اور تقسیم کی وجہ سے 20فیصد آبادی مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)منتقل ہوگئی۔مسلمانوں میں جائدادیں وقف کرنے اور فلاحی و تعلیمی اداروں کے قیام کارجحان عہد ماضی میں بہت ہی زیادہ تھا ۔چناں چہ کلکتہ شہر کے پرائمر لوکیشن پر کروڑوں کی ایسی وقف جائدادیں ہیں جس پراب قبضہ ہوچکا ہے یا پھر وقف بورڈکو معمولی کرایہ مل رہا ہے ۔ماضی میں بڑی تعداد میں مسلمانو ں نے تعلیمی و فلاحی ادارہ قائم کیے تھے ۔1806میں حاجی محمد محسن نے مسلمانوں میں تعلیمی و فلاحی کاموں کےلئے وقف جائداد کی بنیاد رکھی ۔جس میں ہگلی میں محسن کالج ، ہگلی مدرسہ اور امام باڑہ و اسپتال شامل ہیں۔اس دور میں ان کے وقف کردہ جائداد کی کل مالیت’’ ایک لاکھ چھپن ہزار ٹاکا ‘‘تھی جس کی آج کی مارکیٹ ویلو کئی سو کروڑ روپے ہوتی ہے ۔اسی طرح ہندوستان کی آزادی سے کئی دہائی قبل مسلمانان کلکتہ نے یتیم خانہ اسلامیہ، انجمن مفیدالاسلام، اسلامیہ اسپتال ،مسلم انسی ٹیوٹ ،خلافت کمیٹی ، سخاوت میموریل اسکول جیسے تعلیمی وفلاحی ادارے قائم کئے تھے۔
مگر المیہ یہ ہے کہ آج ان میں سے بیشتر مسلم ادارے زبوں حالی کے دور سے گزررہے ہیں ۔کچھ ادارے حکومت کی تحویل میں چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے مسلم طلبا و طالبات کو خاطر خواہ فائدہ نہیں مل رہا ہے اورکچھ ادارے سیاست دانوں کے نرغے میں ہونے کی وجہ سے اپنی افادیت کھوتی جارہی ہے ۔ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلمانان کلکتہ نے نئے فلاحی و تعلیمی ادارے کے قیام کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی ۔گزشتہ 70سالوں میں مسلمانان کلکتہ نے جو چند ادارے قائم کئے وہ آج چاپلوسی ، خوشامدپسندی اور خود غرضی کی وجہ سے تباہی وبربادی کے دہانے پر ہیں ۔
دوسری طرف بنگال کے دیہی علاقے ہیں جہاں آزادی سے قبل مسلم ادارے شاز و نادر ہی تھے وہاں آج درجنوں معیاری ادارے قائم ہوچکے ہیں ۔جس میں الامین مشن، الفلا ح مشن ،انٹر نیشنل اسلامک اکیڈمی ،رحمانی اکیڈمی ،الازہر مشن ،الرحمان اکیڈمی ،العالم مشن ،المصطفی مشن اور فرنٹ پیج جیسے ادارے شامل ہیں ۔ان ادارو ں سے ہرسال درجنوں بچے میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر پیشہ وارانہ کورسوں میں داخلہ لیتے ہیں
ہندوستان کی آزادی سے قبل 1905میں پوپلے فیملی نے مسلم بچیوں میں تعلیم کے فروغ اور امپاورمنٹ کےلئے انجمن مفیدالاسلام کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا ۔ اس ادارے کے تحت مرکزی کلکتہ پارک سرکس، تانتی باغ، جان نگراور آس پاس جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں تین گرلس ہائی اسکول قائم کئے گئے ۔جہاں سیکڑوں مسلم بچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں اس کے علاوہ لڑکیوں کے امپاورمنٹ کےلئے سلائی سنٹرکلکتہ شہر کے مختلف علاقے میں قائم کیا گیا۔چوں کہ اس علاقے میں کوئی کالج نہیں تھا جہاں غریب بچیاں خوشگوار ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں ۔چناں چہ 80کی دہائی میں اس علاقے کے باشعور مسلمانوں نے ملی ایجوکیشن آرگنائزیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا اور اس کے تحت ایک گرلس کالج بنانے کےلئے زمین کے حصول کی کوشش کی گئی ۔اسی علاقے کے ایک غیر مسلم ڈاکٹر نے اس شرط پر کہ اس زمین لڑکیوں کی تعلیم کےلئے کالج قائم کیا جائے گا تو انہوں نے بہت ہی معمولی قیمت زمین ملی ایجوکیشن کے نا م کردیا ۔اس کالج کی تعمیر کےلئے کلکتہ کے مقامی مسلمانوںسے چندہ جمع کیا گیا ۔ا ۔ فنڈ کی قلت اور سرمایہ دار مسلمانوں کی عدم توجہی کی وجہ سے کالج کی عمارت کی تعمیر میں کئی سال لگ گئے اور اس کے بعد حکومت سے کالج کی منظوری ملنے میں بھی تاخیر ہوئی ۔ کلکتہ یونیورسٹی سے منظوری ملنے کے بعد 2000میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا ۔بائیں محاذ کے دور حکومت میں اقلیتی اداروں کے اقلیتی کردار دینے کےلئے کوئی ادارہ قائم نہیں تھا اس کی وجہ سے کالج کا اقلیتی کردارکا معاملہ معلق رہا ۔2004میں مرکز میں یوپی اے کی حکومت قائم ہونے کے بعداقلیتوں کے ذریعہ قائم ہونے والے اداروں کو قانونی شکل دینے کےلئے نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشن قائم کیا گیا۔آخر کار 21اکتوبر 2008کونیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشن نے ملی الامین کالج کو اقلیتی ادارہ کا درجہ قرار دیدیا۔
اقلیتی کردار درجہ ملنے کے بعد بھی افسر شاہی او ر مسلم اداروں کےتئیں تعصب کی وجہ سے نیشنل کمیشن فار مائنا ریٹی ایجوکیشن کے فیصلے پر عمل درآمد پر کئی سال لگ گئے ۔2010تک وزارت تعلیم ،وزارت اقلیتی امور نے نو آبجیکشن دیا اور کلکتہ یونیورسٹی نے منظوری دیدی ۔مگر قبل اس کہ کارروائی مکمل ہوتی 2011کا انتخاب آگیا اور حکومت تبدیل ہوگئی۔مغربی بنگال میں بائیں محاذ کے اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ بھی مسلم اداروں پر بھی قبضہ کی مہم شروع ہوئی اور ایک خاص لابی نے کلکتہ کے تمام مسلما اداروں کو ترنمول کانگریس کے زیر کنٹرول کردیا۔ممبر اور عہدہ کےلئے ترنمول کانگریس کا وفادار ہونا اولین شرط بنادی گئی۔چناں چہ ملی الامین کالج پر بھی مخصوص لابی نے قبضہ کرلیا ۔ادارے کے صدر و سابق ممبر اسمبلی و بانی ممبر محمد نظام الدین نے بھی اس امید کے ساتھ کنارہ کشی اختیار کرلی کہ حکمراں جماعت کے لیڈران کے آنے سے کالج کے کام کاج جلد سے جلد مکمل ہوجائیں گے۔
اس درمیان انتظامیہ کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے کالج کی چند خاتون پروفیسروں کے آپسی تنازع میں مداخلت اور غلط طریقے سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے تین خاتون اساتذہ کو برطرف کردیا گیا۔یہ تینوں اساتذہ ہائی کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کرتے ہوئے دلیل دی کہ کالج کو اقلیتی کردار کا درجہ غیر قانونی طریقے سے دیا گیا ہے۔یہ بھی طرفہ تماشا ہے کہ خاتون کے پیروکاروکلا میں حکمراں جماعت کے حامی وکلاشامل تھےاور حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے پبلک پراسیکوٹر نے بھی خاتون پروفیسروں کی دلیل کی حمایت کردی کہ کالج کو اقلیتی کردار کا درجہ دیاجانا غیر قانونی ہے ۔2016میں کلکتہ ہائی کورٹ کی یک رکنی بنچ نےکالج کے اقلیتی کردار کو مسخ کرتے ہوئے ان تینوں خاتون پروفیسروں کی معطل کو رد کرتے ہوئے بحال کرنے کا حکم دیدی۔اس فیصلے کو کلکتہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ میں چیلنج کرنے کے بجائے کالج انتظامیہ نے ممتا بنرجی کے تحریری یقین دہانی کے بجائے صرف زبانی یقین دہانی کی بنیاد پر اعتماد کرلیا ۔2018میں سپریم کو رٹ میں بنگال کے ایک دوسرے اقلیتی ادارہ جو عیسائیوں کا ہے کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے نیشنل کمیشن فارمائناریٹی کے ذریعہ اس معاملے میں مداخلت کی وجہ سے ملی الامین کالج کا اقلیتی کردار بحال کردیا گیا ۔مگر اس فیصلے کو بھی دو سال ہوچکے ہیں ۔ اب تک ملی الامین کالج کی شکل وصورت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔کالج انتظامیہ کی متضادات بیانی اور حکومت کی بے توجہی کی وجہ سے مسلم بچیوں کو یہ ادارہ فیض پہنچانے میں ناکام ہوچکا ہے۔جب کہ شروع سے ہی اس کالج کی انتظامیہ میں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈران شامل رہے ہیں ۔اس کے باوجود کالج کواس کا حق نہیں مل سکا ہے۔اب تو پرائیوٹ انگلش میڈیم اسکول میں تبدیل کرکے کالج کے کردار کو ہی تبدیل کرنے کی کوشش کی جاری ہے ۔جس دور میں کلکتہ شہرمیں ملی الامین کالج کے قیام کےلئے اردو برادری کوشش کررہی تھی اسی دور میںہوڑہ کے ایک اسکول ہیڈ ماسٹر نورالاسلام ملی الامین مشن قائم کررہے تھے ۔30سالوں کے بعد ملی الامین مشن مغربی بنگال کا ہی ہندوستان کا ایک معتبر ادارہ بن چکا ہے اور جہاں کل 20ہزار بچے پڑھتے ہیں اور ہر سال سو سے زاید بنگالی بچے ملی الامین مشن میں کوچنگ کے بعد میڈیکل اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں وہیں کلکتہ شہر کا ملی الامین کالج اپنے وجود کی لڑائی لڑرہا ہے ۔
یہ کہانی صرف ملی الامین کالج کی نہیں ہے بلکہ کلکتہ شہر کے دوسرے مسلم اداروں کا بھی یہی حال ہے ۔یتیم خانہ اسلامیہ ، اسلامیہ اسپتال، انجمن مفیدالاسلام اور مسلم انسی ٹیوٹ جیسے ادارے جو ہندوستان کی آزادی کے قبل قائم ہوئے وہ حکمراں جماعت کے لیڈروں اور ورکروں کا آماجگاہ چکا ہے ۔۔ملت کے ان اداروں کے ذریعہ سیاسی اثر و رسوخ کا اظہار تو کیا جاتا ہے مگر ان اداروں کی فلاح وبہودکےلئے کچھ بھی اقدا نہیں کئے گئے ہیں ۔یتیم خانہ اسلامیہ کی کئی جائدادپر غیر قانونی قبضہ ہیں مگر اس کو حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے ۔کم وبیش یہی صورت حال اردو اسکولوں کا ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ اردو میڈیم اسکولوں کی صورت حال بد ترین ہوتی جارہی ہے ،اساتذہ کی قلت کی وجہ سے اسکولوں کا معیار سب سے نیچے سطح پر پہنچ چکا ہے اور کوئی اپنے بچوں کو اردو میڈیم اسکولوں میں تعلیم دلانے کو تیار نہیں ہے ۔گزشتہ چار سالوں سے سنٹرل کلکتہ میںواقع اسلامیہ اسپتال کی نئی عمارت تعمیر ہورہی ہے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ آزادی سے قبل اسی شہرکے سرکردہ مسلمانوں نےاپنے خرچ پر مرکزی کلکتہ میںکئی منزلہ اسپتال تعمیر کیا تھا اور شہرکے مختلف علاقوں میں زمین وقف کیا تھا مگر اب اسی شہر کے مسلمان اپنے طور پر اسلامیہ اسپتال کی تعمیرنو کرانے سے قاصر ہے ۔محض تین کروڑ روپے کے گرانٹ کی خاطر کالج کی خودمختاری سےدست بردار ہورہےہیں اور کالج پی پی پی ماڈل کا حصہ بن چکا ہے۔پہلے اسلامیہ اسپتال بنگال کے غریبوں کےلئے مختص تھا اور اب اس اسپتال کو بزنس کا ذریعہ بنایا جارہاہے ۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا