جودیب سرکا
مغربی بنگال میں ایک منحوسیت کا بادل منڈلا رہا ہے۔ یہ کوئی کمیونزم یا انقلاب نہیں ہے۔ کبھی مارکسسٹوں کا گڑھ رہنے والا یہ صوبہ، جو سیکولر اور نظریاتی سیاست کے لیے جانا جاتا تھا، اب مذہبی تقسیم کی طرف خطرناک رخ اختیار کر رہا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان بے لگام سیاسی جنگ میں مذہبی شناخت کو ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لیے ہتھیار بنایا جا رہا ہے، جو 2026 کے اسمبلی انتخابات کے قریب آتے ہی ریاست کے سیاسی بیانیے کو بدل رہا ہے۔
اب وہ دن گئے جب طبقاتی جدوجہد یا ترقیاتی پالیسیاں بحثوں پر چھائی رہتی تھیں۔ اب ہندو اکثریت پسندی اور اقلیتوں کو خوش کرنے جیسے نعرے مغربی بنگال کے سیاسی مکالمے کے دو اہم محرک بن چکے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے مباحثوں سے لے کر گلیوں تک، مذہبی شناخت کی باتیں تعلیم، صحت اور روزگار جیسے موضوعات کو دبا رہی ہیں۔
بنگال بھر میں ایک نئی اور چونکا دینے والی چیز نظر آ رہی ہے: بی جے پی کارکنوں کے لگائے گئے بھگوا جھنڈوں والے بینرز جن پر لکھا ہے ”ہندو-ہندو، بھائی-بھائی”، جو اس بدلتے سیاسی منظر نامے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ نعرہ شاعر قاضی نذرالاسلام کے اس تصور کے بالکل برعکس ہے کہ ہندو اور مسلمان ”ایک تنے کے دو پھول” ہیں، اور بنگال کی تکثیری وراثت کو ایک خاموش ثنائی میں بدل دیتا ہے۔
یہ بی جے پی کی کامیاب حکمت عملی ہے۔ہریانہ، مہاراشٹر اور دہلی میں انتخابی کامیابی کے بعد بی جے پی ایک بار پھر اپنی آزمودہ حکمت عملی پر زور دے رہی ہے یعنی مسلم دشمنی – اس بار بنگال میں دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پارٹی کی جارحانہ ہندو اتحاد کی حکمت عملی گزشتہ ہفتے عروج پر پہنچ گئی جب بی جے پی رہنما شوبھندو ادھیکاری، جو کبھی افطار پارٹیوں میں شرکت کرتے نظر آتے تھے، نے وعدہ کیا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو ترنمول کانگریس کے مسلم ممبران اسمبلی کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔اس دھمکی کا فوری جواب ترنمول کانگریس کے ہمایوں کبیر نے دیا، جو 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا اور اب پارٹی بدل چکے ہیں، انہوں نے کہاکہ میرے لیے میری پارٹی دوسرے نمبر پر ہے – میری برادری پہلے ہے۔ اگر میری برادری پر حملہ ہوا تو میں خاموش نہیں بیٹھوں گا۔’
یہ بیان بازی بنگال کی سیاست میں گہرے ہوتے ہوئے فرقہ وارانہ شگاف کو عیاں کرتا ہے۔ یہ بی جے پی کی شدت پسند ہندتو نظریہ اور ترنمول کانگریس کے دوہرے رویے کے درمیان مقابلہ آرائی جاری ہے، جو خود کو اکثریت پسندی کے خلاف محافظ کے طور پر پیش کرتی ہے اور ساتھ ہی بھگوا علامتوں کے ذریعے ہندو ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
تجربہ کار صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سدیپتا سین گپتا کہتے ہیں کہ مغربی بنگال کی سیاست کبھی نظریات سے تقسیم ہوتی تھی، مذہب سے نہیں۔ آج اسمبلی میں طاقت کا مظاہرہ اور فرقہ وارانہ بیان بازی کے ذریعہ کیا جارپاہے۔ بی جے پی اور ترنمول دونوں ایوان سے باہر کشیدگی بھڑکا رہے ہیں اور جوابدہی سے بچ رہے ہیں۔ یہ وحشت کی طرف اترنا تشویشناک ہے
ریاستی حکومت کی نفرت انگیز تقاریر پر خاموشی حیران کن ہے، خاص طور پر جب اس کے مقابلے میں فلموں پر پابندی یا سوشل میڈیا پوسٹس پر شہریوں کی گرفتاری کے لیے اس کا جوش دیکھا جائے۔ دو دیگر سیاسی طور پر کمزور اپوزیشن جماعتیں، کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) (سی پی آئی ایم)، جن کے پاس اسمبلی میں نمائندگی نہیں، شوبھندوادھیکاری اور ہمایوں کبیر کے خلاف مقدمات درج کرنے کے لیے آگے آئی ہیں۔
سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سیکرٹری محمد سلیم کہتے ہیں کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسمبلی کے اندر ہی تقسیم کی دانستہ کوشش شروع ہو گئی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، زراعت، صنعت اور مجموعی ترقی جیسے اہم مسائل پر بات کرنے کے بجائے، توجہ مکمل طور پر فرقہ وارانہ تقسیم کا کارڈ کھیلنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ موہن بھاگوت نے کلکتہ کے دورے کے دوران اس حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا تھا، اور اب اس پر عمل ہو رہا ہے،۔
مذہبی بیان بازی میں تیزی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بنگال کے 10 روزہ دورے کے بعد آئی ہے۔ان کے دورے کا مقصد ہندو حمایت کو مضبوط کرنا تھا۔ بی جے پی رام نومی سے ہی اپنی مہم تیز کر رہی ہے، جو چند سال پہلے تک بنگال کے محدود علاقوں میں منایا جاتا تھا لیکن اب فرقہ وارانہ تنازع کا مرکز اور مذہبی طاقت کا مظاہرہ بن گیا ہے۔ ادھیکاری نے اعلان کیا کہ ایک کروڑ ہندو ریاست بھر میں 20,000 سے زائد جلوسوں میں حصہ لیں گے۔
ترنمول کانگریس بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتی اور اس نے رام نومی کو اپنے سیاسی کھیل کے حصے کے طور پر جارحانہ طور پر اپنایا ہے۔ گزشتہ سال پارٹی نے اس موقع کو سرکاری چھٹی قرار دے کر اس تبدیلی کا اشارہ دیا – جو بنگال کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ 2023 کے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران، بیر بھوم سے ممبر پارلیمنٹ و بنگلہ اداکارہ شتابدی رائے، جادو پور کی سایونی گھوش اور گھٹال کے دیپک ادھیکاری (دیب) جیسے نمایاں امیدواروں نے پارٹی کے جھنڈوں کے ساتھ بھگوا رنگ کے جلوسوں میں حصہ لیا۔
ماہر بشریات اور مصنف سومان ناتھ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہترنمول کانگریس نے کم مشہور ثقافتی تہواروں میں تماشہ شامل کرنا شروع کیا، لیکن پھر بی جے پی سے سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، جو شناخت کی سیاست کو فروغ دیتی ہے۔ بی جے پی کے عروج کے ساتھ، مسلمانوں نے ترنمول کانگریس کو اپنا نیا محافظ پایا۔ اس کے نتیجے میں مقابلاتی فرقہ وارانہ تعصب بڑھا، جو ان دونوں پارٹیوں کی ترقی میں ظاہر ہوتا ہے، جبکہ روایتی ‘سیکولر’ بلاکس جیسے لیفٹ اور کانگریس کو نقصان ہواہے۔
ممتا بنرجی کی زیر قیادت حکومت نے ساحلی شہر دیگھا میں اڑیسہ کے جگن ناتھ مندر کے طرزپرمندر کی تعمیر کیلئے ریاستی خزانے سے 250 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جس کا افتتاح 30 اپریل کو ہندو مبارک دن اکشے تریتا پر ہوگا۔ ایودھیا کے رام مندر کے تقدیس کے تماشے کی نقل کرتے ہوئے، 29 اپریل کو پرن پرتشٹھہ تقریب منعقد ہوگی۔
ادھیکاری جو ہمیشہ اشتعال انگیزی میں آگے رہتے ہیں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ مندر پوری کی طرح غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی لگائے گا، جبکہ انہوں نے اپنے نندی گرام حلقے میں رام مندر بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔
آگ میں ایندھن ڈالتے ہوئے، فرفرہ شریف کے بااثر مسلم مذہبی خاندان سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیت پیرزادہ طحہ صدیقی نے حال ہی میں دیگھا میں مندر منصوبے کے ”توازن“ کے لیے مسجد بنانے کا مطالبہ کیا۔ فرفرہ شریف کے پیرزادہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے اہم حصوں پر، جیسے ہگلی، ہوڑہ، مرشد آباد، مالدہ اور جنوبی 24 پرگنہ، میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ رمضان کے دوسرے ہفتے میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس مقدس مقام کا دورہ کیا اور افطار پارٹی میں شرکت کی۔ممتا بنرجی 9برس بعد فرفرہ شریف پہنچی تھیں۔
سابق کانگریس ایم پی ادھیر رنجن چودھری نے الزام لگایا کہ بی جے پی کھلم کھلا لوگوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم کر رہی ہے، جبکہ ترنمول لیڈر فرفرہ شریف جا کر اقلیتی برادری کے اعتماد کو جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ ایک اسٹریٹجک کھیل کھیل رہی ہیں – نہ صرف اقلیتی ووٹ کو محفوظ کرنے کے لیے بلکہ یہ دیکھنے کے لیے بھی کہ وہ ہندو ووٹ کو کتنا توڑ سکتی ہیں۔
ممتا بنرجی کہتی ہیں کہ ہولی کے موقع پر جب میں نے سب کو مبارکباد دی تو کوئی سوال کیوں نہیں اٹھا؟ جیسے میں نے ہولی پر سب کو مبارکباد دی، ویسے ہی رمضان پر سب کو مبارکباد دیتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ سب کی دعائیں قبول ہوں۔
2021 میں، فرفرہ شریف بااثر خاندان کے فرد پیر زادہ عباس اور نوشاد صدیقی نے انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) قائم کیا تاکہ ترنمول کانگریس کو چیلنج دیا جائے، اور لیفٹ-کانگریس اتحاد کے ساتھ مل گئے۔ اگرچہ آئی ایس ایف کو محدود انتخابی کامیابی ملی، صدیقی برادران ناراض مسلم ووٹروں کے ایک حصے کو متاثر کیا جو علامتی اشاروں پر جوابدہی مانگتے ہیں۔ دونوں بھائی ممتا بنرجی کے حالیہ فرفرہ شریف دورے کے دوران غائب تھے
نوشاد صدیقی کہتے ہیں کہ ”اقلیتیں اکیلے نہیں، تمام شہری مصائب میں ہیں۔ ترنمول اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ 2026 میں ان کے خلاف وسیع اتحاد کی ضرورت ہے۔ سچر رپورٹ نے 2011 سے اقلیتوں کے پسماندگی کو بے نقاب کیا، پھر بھی بحثیں مذہب کے ہاتھوں یرغمال ہیں“۔
آبادیاتی نمونوں کی بنیاد پر، ریاست کی 294 اسمبلی سیٹوں میں سے تقریباً 125-130 سیٹوں پر مسلم موجودگی نمایاں ہے (25 فیصد سے زیادہ ووٹ فیصد ہے)۔ ترنمول کانگریس کا اس بلاک پر مکمل غلبہ رکھا ہے، جو ریاست کی آبادی کا 30 فیصد سے زیادہ ہے، حالانکہ اس میں کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اب خطرہ اسدالدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم کے اعلان سے بڑھ گیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں تمام 294 سیٹوں پر مقابلہ کرے گی، جو مسلم ووٹوں کو تقسیم کر کے ٹی ایم سی کے بی جے پی کے خلاف دیوار کو کمزور کر سکتی ہے۔
2026 کا اسمبلی انتخابات ترنمول کانگریس کیلئے بقا کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔اس لئے ایک طرف وہ خود کو مسلمانوں کا واحد محافظ کے طور پر پیش کرتی ہے۔دوسری طرف بی جے پی کے طرز پر ہندؤتک کی رسائی کی کوشش۔اس کیلئے تقسیم کی سیاست اور بنگال کو فرقہ وارانہ عروج تک پہنچایا جارہا ہے۔