Monday, March 23, 2026
homeاہم خبریںایس آئی آر کی مسودہ فہرست نے ’’مسلم درانداز‘‘ کے پروپیگنڈے...

ایس آئی آر کی مسودہ فہرست نے ’’مسلم درانداز‘‘ کے پروپیگنڈے کی ہوا نکال دی—مسلم اکثریتی حلقوں میں سب سے کم ’’نان میپنگ‘‘ ووٹرز پائے گئے

کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن

’’دراندازی‘‘ کا ایشو بی جے پی کے لیے ہمیشہ ایک ”انتخابی ایجنڈا”” رہا ہے۔ جب جھارکھنڈ میں انتخاب ہوتا ہے تو بی جے پی اسے بڑا مسئلہ بنا دیتی ہے، مگر انتخاب ختم ہوتے ہی خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ بہار میں بھی یہی حکمتِ عملی اپنائی گئی۔ بڑے بڑے دعوے کیے گئے، مگر بہار میں ہوئے ایس آئی آر کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ کشن گنج، ارریہ اور کٹیہار جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں ایک بھی درانداز نہیں پایا گیا۔

مغربی بنگال کے حوالے سے بھی دراندازوں کو لے کر بڑے دعوے کیے جا رہے تھے، مگر آج 16 دسمبر کو ایس آئی آر کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد جب انتخابی ووٹر لسٹ کا ”مسودہ”” جاری کیا گیا، تو ان دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ مسودہ فہرست کے مطابق مسلم اکثریتی علاقوں میں سب سے کم تعداد میں ’’نان میپنگ‘‘ ووٹرز پائے گئے، یعنی ایسے ووٹرز جن کا 2002 کی ووٹر لسٹ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے۔

درحقیقت الیکشن کمیشن نے مسودہ فہرست میں شامل ووٹرز کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے:

1- خود کی میپنگ:

وہ ووٹر جن کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں شامل تھا۔ مسودہ فہرست میں ایسے ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 93 لاکھ 69 ہزار 188 ہے۔

2- نسلی میپنگ:
وہ ووٹر جن کا نام 2002 میں شامل نہیں تھا، مگر ان کے والدین یا کسی قریبی خونی رشتہ دار کا نام اس فہرست میں موجود تھا۔ ایسے ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 84 لاکھ 55 ہزار 939 ہے۔

3-نان میپنگ:


وہ ووٹر جن کا یا جن کے کسی رشتہ دار کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں تھا۔ ایسے ووٹرز کی کل تعداد تقریباً 30 لاکھ ہے۔

مغربی بنگال کی معروف تنظیم ”صبر انسٹی ٹیوٹ”” نے مسودہ فہرست کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ پر ایک مختصر نوٹ میں بتایا ہے کہ زیادہ مسلم آبادی والے اسمبلی حلقوں میں ’’نان میپنگ‘‘ ووٹرز کی تعداد سب سے کم ہے۔ ڈومکل اور سوجاپور، جہاں مسلم آبادی سب سے زیادہ ہے، وہاں ’’نان میپنگ‘‘ ووٹرز کی تعداد انتہائی کم پائی گئی۔

صبر انسٹی ٹیوٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار ’’کروڑوں مسلم درانداز‘‘ کے نظریے کی براہِ راست تردید کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، سب سے زیادہ ’’نان میپنگ‘‘ ووٹرز متوا اکثریتی اسمبلی حلقوں میں پائے گئے، نہ کہ کسی مسلم اکثریتی علاقے میں۔ متوا اکثریتی حلقوں میں ’’نان میپنگ‘‘ ووٹرز کی اوسط شرح 9.43 فیصد ہے، جو کہ ریاستی اوسط 3.99 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ کلکتہ اور اس کے آس پاس کے اسمبلی حلقوں میں بھی ’’نان میپنگ‘‘ ووٹرز کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔

صبر انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں ایک عمر رسیدہ آبادی اور دوسری بہار، جھارکھنڈ، اتر پردیش اور دیگر پڑوسی ریاستوں سے طویل مدتی مہاجر مزدوروں کی آمد شامل ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران 2002 کی ووٹر لسٹ میں والدین یا رشتہ داروں کے ناموں کی بنیاد پر اولاد کی نقشہ سازی اور نئے ووٹرز کی شناخت کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ ایس آئی آر کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، تاہم کمیشن جمع کرائے گئے فارموں کی مسلسل کراس چیکنگ اور جانچ پڑتال کر رہا ہے۔

ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس عمل کے دوران کئی ’’منطقی تضادات‘‘ کی نشاندہی ہوئی ہے۔ کمیشن کے مطابق 85 لاکھ 1 ہزار 486 ووٹرز کے والد کے نام یا تو غلط ہیں یا آپس میں مماثلت رکھتے ہیں، جو کل ووٹرز کا 11.09 فیصد بنتا ہے۔

اسی طرح 24 لاکھ 21 ہزار 133 ایسے ووٹرز پائے گئے جن کے بچوں کی تعداد 6 سے زیادہ ہے۔ تاہم یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ مسلم، قبائلی اور دیہی علاقوں میں کئی خاندانوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس بنیاد پر ووٹرز کو مشکوک قرار دیا جائے تو سب سے زیادہ زد مسلم ووٹرز پر پڑ سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق والدین اور بچوں کے درمیان عمر کے فرق میں بھی بڑی بے قاعدگیاں دیکھی گئی ہیں۔ 11 لاکھ 95 ہزار 230 کیسز میں والدین کے درمیان عمر کا فرق 15 سال سے کم ہے، جبکہ 8 لاکھ 77 ہزار 736 کیسز میں یہ فرق 50 سال سے زیادہ ہے، جو دونوں ہی غیر حقیقی ہیں۔

اس کے علاوہ 3 لاکھ 29 ہزار 152 کیسز میں دادا یا دادی اور ووٹر کے درمیان عمر کا فرق 40 سال سے کم پایا گیا، جس سے خاندانی تعلقات کے بارے میں شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ 45 سال سے زائد عمر کے باوجود 20 لاکھ 74 ہزار 256 ووٹرز کو نئے ووٹرز کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

صنفی معلومات میں بھی تضادات سامنے آئے ہیں۔ 13 لاکھ 46 ہزار 918 ووٹرز کے صنفی اندراج میں غلطیاں پائی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ووٹر کی شناخت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

اگرچہ ان ووٹر درخواستوں کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے، تاہم الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ایسے ووٹرز کو نوٹس جاری کر کے سماعت کے لیے بلایا جائے گا۔ یہ ڈیٹا بیس اب ریاست کے تمام اضلاع کے انتخابی افسران اور بلاک سطح کے عملے کو فراہم کر دیا گیا ہے تاکہ تصدیق اور تصحیح کا عمل تیزی سے مکمل کیا جا سکے۔ دعووں اور اعتراضات کے مرحلے میں عام ووٹرز کو بھی اپنی تفصیلات درست کرانے کا موقع دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین