انصاف نیوز آن لائن | 30 اپریل
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے 60ویں دن سے زائد گزرنے کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ جہاں ایک جانب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر لیا ہے، وہیں امریکہ اب ایران کے خلاف “مختصر اور طاقتور” فوجی کارروائیوں کے منصوبے بنا رہا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کی سخت دھمکی
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک تحریری پیغام میں امریکہ کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس میں امریکیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں، سوائے “پانی کی تہہ کے”۔ خامنہ ای نے مزید کہا کہ تہران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا تحفظ ہر قیمت پر کرے گا اور وہ خطے کو ‘دشمن کے اثرات’ سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کا نیا انتظام خطے میں سکون اور ترقی لائے گا۔
امریکی عسکری حکمت عملی اور ٹرمپ کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سینٹ کام (CENTCOM) کے چیف ایڈمرل بریڈ کوپر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے منصوبوں پر بریفنگ دینے والے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ منصوبے ‘مختصر اور طاقتور’ ہیں جن کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے ایران جنگ کے ناقدین کو “سب سے بڑا مخالف” قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں اور امریکہ ان کی نقل و حرکت پر 24/7 نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے امریکی اتحاد میں شامل ہوں۔
معاشی اثرات: عالمی منڈی میں تیل مہنگا، یورپ میں افراطِ زر
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
تیل کی قیمتیں: برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
افراطِ زر: یورپ میں افراطِ زر کی شرح 3 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس کی بڑی وجہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں 10.9 فیصد اضافہ ہے۔
اسرائیل-لبنان محاذ اور غزہ امدادی کشتیوں کا معاملہ
اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 8 قصبوں کے رہائشیوں کو فوری انخلاء کا حکم دیا ہے۔
دریں اثناء، اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی کشتیوں کے قافلے (Global Sumud Flotilla) کو روک لیا ہے اور تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ قافلے کے منتظمین نے اسے “بین الاقوامی پانیوں میں شہریوں کے اغواء” کے مترادف قرار دیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں ایران اپنے فوجی اثاثوں کے دفاع کا اعادہ کر رہا ہے، وہیں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی فوجی حکمت عملیوں پر غور کر رہا ہے۔
