کلکتہ : انصاف نیوز آن لائن
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر سخت حملہ کرتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ کیا پہل گام حملہ ’’مرکز نے کرایا‘‘ تھا؟ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امیت شاہ نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں دہشت گرد نیٹ ورک سرگرم ہیں۔
بنگال کے ضلع بانکوڑہ کے بیرسنگھ پور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مہابھارت کے دو منفی کرداروں دُشیاسن اور دُریودھن سے تشبیہ دی۔
ممتا بنرجی نے کہاکہ ’’دُشیاسن، جو شکنی کا شاگرد ہے، معلومات اکٹھی کرنے بنگال آیا ہے۔ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں، دُشیاسن اور دُریودھن نظر آنے لگتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 20 دسمبر کو بنگال کا دورہ کیا تھا، جبکہ امیت شاہ 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اس وقت ریاست کے تین روزہ دورے پر ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ کے اس دعوے پر کہ بنگال دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے، ممتا بنرجی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا،’’اگر جموں و کشمیر میں دہشت گرد نہیں ہیں تو پہلگام کیسے ہوا؟ کیا پہلگام کا حملہ آپ نے کروایا؟ دہلی میں جو واقعہ ہوا، اس کے پیچھے کون تھا؟‘‘
22 اپریل کو ہونے والے پہلگام حملے میں، جو پاکستان میں قائم لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں نے انجام دیا تھا،26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح نومبر میں پاکستان میں سرگرم جیشِ محمد کی مالی معاونت سے چلنے والے ایک ’’وائٹ کالر دہشت گرد ماڈیول‘‘ نے دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب ایک کار بم دھماکہ کیا، جس میں 15 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اس سے قبل دن میں امیت شاہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2026 کے بنگال اسمبلی انتخابات ’’دراندازی‘‘ کے مسئلے پر لڑے جائیں گے، اور ممتا بنرجی پر الزام لگایا کہ انہوں نے بنگلہ دیش سے متصل سرحد پر باڑ لگانے کے لیے زمین فراہم نہیں کی۔
امیت شاہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے دو ٹوک کہاکہ ’’تمام ریلوے منصوبے اس لیے ممکن ہوئے کیونکہ ریاست نے زمین فراہم کی۔ پیٹراپول اور چانگرا بندھا کی سرحدوں پر زمین پہلے ہی دی جا چکی ہے۔‘‘
الیکٹورل رولز کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) پر مرکز کے ساتھ اپنی محاذ آرائی کو مزید تیز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ اس عمل کے نام پر پورے بنگال میں عوام کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکام SIR کے تحت ڈیڑھ کروڑ ووٹروں کے نام حذف کرنےکی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اور خبردار کیا کہ راج بنشی، متوا اور آدیواسی جیسے حاشیے پر موجود طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی کو بنگالیوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔
ممتا بنرجی نے کہاکہ ایس آئی آر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یہ ایک بہت بڑا گھپلا ہے۔ صرف آپ (امیت شاہ) اور آپ کا بیٹا ہی بچیں گے۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے دوران کئی افراد، بشمول بوتھ لیول افسران (BLOs)، خودکشی کر چکے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سےایس آئی آر کے پہلے مرحلے کے بعد جاری کردہ مسودہ ووٹر فہرست میں 58 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ تاہم بنگال بی جے پی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ حتمی فہرست میں ڈیڑھ کروڑ ’’فرضی‘‘ ووٹروںکے نام کاٹے جائیں گے۔
ممتا بنرجی نے خبردار کیا کہ اگر ایک بھی جائز ووٹر کا نام فہرست سے حذف کیا گیا تو ترنمول کانگریس دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کا گھیراؤ کرے گی۔وزیراعلیٰ نے اڈیشہ، راجستھان اور اتر پردیش میں بنگالی مہاجر مزدوروں کے خلاف مبینہ مظالم کا معاملہ بھی اٹھایا۔ گزشتہ ہفتے اڈیشہ کے سمبل پور میں 19 سالہ مہاجر مزدور*جیول شیخ** کو ہجوم نے بنگلہ دیشی ہونے کے الزام میں پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔
ممتا بنرجی نے کہا،’’اگر ہم چاہتے تو کولکاتا میں اُتکل بھون کا گھیراؤ کر سکتے تھے،‘‘انہوں نے یہ بات اڈیشہ حکومت کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔بی جے پی کی جانب سے ممتا حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی جارحانہ مہم کے پیش نظر، انتخابی بنگال میں آنے والے مہینوں میں سیاسی درجۂ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
