Friday, May 8, 2026
homeاہم خبریںشوبھندو ادھیکاری مغربی بنگال کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے

شوبھندو ادھیکاری مغربی بنگال کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے

کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما شوبھندو ادھیکاری کو جمعہ کے روز مغربی بنگال اسمبلی میں بی جے پی مقننہ پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے ۔اس کےساتھ ہی وہ مغربی بنگال کے اگلےوزیر اعلیٰ ہوں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق کلکتہ میں منعقدہ مقننہ پارٹی کے اجلاس میں شوبھندو ادھیکاری کے نام کی تجویز پیش کی گئی، اس کا باضابطہ اعلان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نو منتخب بی جے پی اراکین اسمبلی اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں کیا۔

شوبھندو ادھیکاری مشرقی مدنی پور (پرُبا میدنی پور) ضلع سے تعلق رکھنے والے مغربی بنگال کے دوسرے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ اس سے قبل تملک کے اجوئے مکھرجی اس ضلع سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ادھیکاری مغربی بنگال کے نویں وزیر اعلیٰ ہوں گے۔

بی جے پی حکومت کی حلف برداری تقریب 9 مئی کو کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں منعقد ہوگی۔

ممتا بنرجی کے قریبی ساتھی سے سب سے بڑے سیاسی حریف تک

کبھی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اہم چہرے اور نندی گرام تحریک کے صف اول کے رہنما سمجھے جانے والے شوبھندوادھیکاری نے گزشتہ چند برسوں میں حیرت انگیز سیاسی تبدیلی دیکھی ہے۔ وہ نہ صرف ممتا بنرجی کے خلاف نندی گرام میں اپنی 2021 کی کامیابی دہرانے میں کامیاب رہے بلکہ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں اس سے بھی بڑی جیت درج کی۔

ادھیکاری نے بھوانی پور، جو ممتا بنرجی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں انہیں 15ہزار ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے نندی گرام سیٹ بھی 9ہزارووٹوں کے فرق سے جیت لی، جو ان کی سابقہ جیت کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا مارجن ہے۔

مگر یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ ان دونوں حلقوں میں بڑی تعداد میں مسلم ووٹروں کے نام حذف کئے ہیں اور ٹربیونل میں زیر غور ہیں ۔ان کی جیت میں ایس آئی آر کا بڑا کردار رہا ہے۔

بی جے پی قیادت کا اعتماد حاصل
سوبھندو ادھیکاری نے گزشتہ چند برسوں میں خود کو ممتا بنرجی کے سب سے طاقتور مخالف کے طور پر پیش کیا۔ ان کی جارحانہ سیاست، قانون و نظم، غیر قانونی دراندازی اور ریاستی حکومت کے خلاف سخت موقف نے انہیں بی جے پی کی ہندوتوا سیاست کا ایک نمایاں چہرہ بنا دیا۔

بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ادھیکاری نے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کی قیادت کا بھرپور اعتماد حاصل کیا اور پارٹی کے اہم ترین بنگالی لیڈروں میں شمار ہونے لگے۔

ترنمول کانگریس سے اختلافات کی کہانی

شوبھندو ادھیکاری نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کانگریس کے طلبہ ونگ چھاترا پریشد سے کیا تھا۔ بعد میں وہ اپنے والد شیشیر ادھیکاری کے ساتھ ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے۔

2007 کی نندی گرام زمین تحریک نے انہیں ریاستی سیاست میں غیر معمولی مقام دلایا۔ وہ جلد ہی ترنمول کانگریس کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہوگئے اور پارٹی کے یوتھ کانگریس صدر بنائے گئے۔

لیکن ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کے تیزی سے ابھرنے کے بعد ادھیکاری اور پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات بڑھنے لگے۔ ادھیکاری نے بعد میں الزام لگایا کہ انہیں پارٹی میں کبھی برابر کا ساتھی نہیں سمجھا گیا۔2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ترنمول کانگریس میں ان کا اثر کم کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے 2020 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔

ہندوتوا سیاست کی طرف جھکاؤ

ادھیکاری نے وقت کے ساتھ اپنی شبیہ ایک سیکولر عوامی لیڈر سے بدل کر بی جے پی کے ہندوتوا چہرے کے طور پر قائم کی۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے بارہا دعویٰ کیا کہ اگر ٹی ایم سی دوبارہ اقتدار میں آئی تو مغربی بنگال “مشرقی بنگلہ دیش” بن جائے گا۔ادھیکاری کے خلاف اس وقت تقریباً 25 فوجداری مقدمات درج ہیں، جن میں سے بیشتر ان کے ترنمول کانگریس چھوڑنے کے بعد قائم کیے گئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد ان مقدمات کا مستقبل بھی توجہ کا مرکز رہے گا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین