Friday, February 27, 2026
homeاہم خبریںجمہوریت کے مستقبل کو بھی دفن کر دیں گے۔ ملک کے قومی...

جمہوریت کے مستقبل کو بھی دفن کر دیں گے۔ ملک کے قومی اخبارات کی رائے

دہلی فسادات 2020کے معاملے میںگرفتار 7ملزمین میں سے پانچ افراد کو سپریم کورٹ نے ضمانت مل گئی ہے۔ جب کہ عمر خالد اور شرجیل کو ضمانت دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔ایک ہی معاملے میں گرفتار کچھ لوگوں کو رہائی مل جاتی ہے اور دوافراد کو ضمانت دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے 146صفحات پرمشتمل فیصلے پر کئی سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں ۔کیا سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کرکے اپنے ہی پرانے فیصلے سے انحراف کیا ہے ؟ اسی طرح احتجاج اور مظاہرے کو سازش کی تھیوری کے قبول کرکے سپریم کورٹ نے ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک کے نامور اخبارات نے اداریہ لکھا ہے۔جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

انڈین ایکسپریس ۔
انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریہ میں”سپریم کورٹ کے ضمانتی حکم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دہلی فسادات کے مقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی گرفتاری کے پانچ سال سے زیادہ عرصے کے بعد بھی ضمانت مسترد کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ، عدالت کے اپنے اس فرمان سے ایک تشویشناک پسپائی ہے جس میں عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ”ضمانت قاعدہ ہے اور جیل مستثنیٰ ہے“۔

دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہیں دینے کے فیصلے نے سنجیدہ آئینی اور جمہوری خدشات کو جنم دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ کے اپنے طے شدہ اصول ”ضمانت قاعدہ ہے اور جیل استثنا“ سے واضح انحراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ دونوں ملزمان پانچ سال سے زائد عرصے سے مقدمے کی سماعت کے بغیر قید میں ہیں۔اداریے کے مطابق، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت ضمانت حاصل کرنا پہلے ہی انتہائی مشکل ہے، تاہم سپریم کورٹ کے 142 صفحات پر مشتمل فیصلے نے ضمانت کی شرط کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اگرچہ پانچ شریک ملزمان کو ضمانت ملنا اس بات کا اعتراف ہے کہ طویل عرصے تک بغیر سماعت قید رکھنا قابل قبول نہیں، لیکن اسی منطق کو استعمال کرتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کو ایک مبہم اور متنازع بنیاد پر “زیادہ اہم کردار” ادا کرنے والا قرار دے کر ضمانت سے محروم رکھا گیا ہے۔
عدالت نے تسلیم کیا کہ دونوں کی قبل از سماعت قید کافی طویل ہے، لیکن ساتھ ہی یہ موقف اختیار کیا کہ یہ مدت ابھی آئینی عدم جواز کی حد کو نہیں پہنچی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک سال بعد دوبارہ ضمانت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گویا ایک اور سال کی قید کے بعد ہی آئینی حد پوری ہوگی۔
اداریہ میں امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ عدالت نے ملزمان کے کردار کے تعین میں ٹھوس شواہد کے بجائے استغاثہ کے کمزور بیانیے پر انحصار کیا، حالانکہ ضمانت کے مرحلے پر کسی قسم کی “منی ٹرائل” کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود عدالت نے ملزمان کے کردار کا تجزیہ کر کے عملی طور پر ٹرائل کورٹ کا کردار ادا کیا اور استغاثہ کو فائدہ پہنچایا۔

اداریے کے مطابق اس مقدمے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟۔ UAPA کی دفعہ 15 کے تحت دہشت گردی میں بم، دھماکہ خیز مواد، آتشیں اسلحہ یا ”کسی بھی دوسرے ذریعے“ کا استعمال شامل ہے، لیکن استغاثہ نے واٹس ایپ گروپس بنانا، پرامن احتجاج کی اپیل اور سڑکوں کی ناکہ بندی جیسے اقدامات کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں شامل کر دیا ہے۔اس کو سپریم کورٹ نے خاموشی سے قبول کر لیا ہے۔

اداریہ خبردار کرتا ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں اس طرح کی وسیع اور مبہم تشریح اختلافِ رائے اور پرامن احتجاج کو جرم بنانے کا خطرہ رکھتی ہے، جس پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

دی ہندو

د ی ہندو نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’ریاست کو طویل قید کو معمول بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے“۔
غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے، سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2020 کے دہلی فسادات کیس میں ملزمان کو ان کی”شرکت کے درجہ بندی شدہ کردار“ کی بنیاد پر تقسیم کیا ہے۔ عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کیا، جبکہ دیگر پانچ اپیل کنندگان گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی ہے۔

عدالت نے UAPA کی دفعہ 43D(5) پر زور دیا، جس کے تحت عدالتوں کو صرف یہ جانچنا ہوتا ہے کہ آیا الزامات بادی النظر میں درست ہیں یا نہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے طویل عرصے تک بغیر مقدمہ چلائے قید میں رکھے جانے کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کے لیے ضمانت کے امکانات محدود کر دیے۔

استغاثہ کا مستقل دعویٰ رہا ہے کہ دہلی فسادات ایک منظم منصوبے کا نتیجہ تھا، جس کی مبینہ پلاننگ احتجاجی نیٹ ورکس اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے کی گئی۔ حالانکہ پیغام رسانی ایپس پر احتجاج کی منصوبہ بندی کرنا ایک عام بات ہے اور بذاتِ خود مشکوک نہیں۔ اس کے باوجود ریاست نے عدالت کو قائل کر لیا کہ تنظیمی ڈھانچے سے متعلق شواہد دہشت گردانہ منصوبہ بندی کا ثبوت ہیں۔

عدالت نے UAPA کی دفعہ 15 کے تحت ”دہشت گردانہ کارروائی“کی تشریح کو محض کھلی تشدد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس میں خدمات کی فراہمی میں خلل ڈالنے کی دھمکی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس تشریح کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے حکومتوں کو یہ حوصلہ مل سکتا ہے کہ وہ UAPA کے تحت سخت حفاظتی حراست کے قوانین کا وسیع پیمانے پر استعمال کریں اور سیاسی مقدمات میں بغیر مقدمہ چلائے طویل قید کو معمول بنا دیا جاسکتا ہے۔

عدالت کی جانب سے ”شرکت کے درجہ بندی شدہ کردار“کی بنیاد پر دو افراد کے سوا سب کو راحت دینا اس وقت غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے، جب اس درجہ بندی کو ثابت کرنے والے شواہد کا ابھی عدالت میں مکمل طور پر جانچ بھی نہیں ہوا ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام نوجوانی میں گرفتار کیے گئے تھے اور اب وہ پانچ برس سے قید میں ہیں۔ وقت کا بوجھ نوجوانوں پر زیادہ گراں گزرتا ہے۔ اگر بعد میں عدالتیں یہ طے کریں کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ بنتا ہی نہیں، تو طویل قید سے ہونے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔

UAPA کی دفعات ریاست کو غیر معمولی اختیارات فراہم کرتی ہیں، جن کے ذریعے ملزمان کو طویل عرصے تک قانون کے شکنجے میں رکھا جا سکتا ہے اور ان کے لیے آسان رہائی کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ تاہم، ایسے اختیارات کے وجود کو الزامات کی نوعیت کے ساتھ توازن میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر 26/11 ممبئی حملوں کے مجرمین، جن کی بنیاد پر UAPA کے بعض حصے تشکیل دیے گئے، اور دہلی فسادات میں عمر خالد اور شرجیل امام کے مبینہ کردار کے درمیان واضح فرق ہے۔

ریاست نے اکثر UAPA کا استعمال کسی زمینی دہشت گردانہ کارروائی کے بغیر ہی اپنے فیصلوں کی مخالفت کو کچلنے کے لیے کیا ہے، جو اس کی اس گہری بے چینی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ آئینی حقِ احتجاج کو تسلیم کرنے کے بجائے اختلافِ رائے کو دبانا چاہتی ہے۔

عمر خالد اور دیگر کے خلاف مقدمے کی سماعت ابھی تک شروع نہیں ہو ئی ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیشن کورٹ نے تاحال فردِ جرم عائد نہیں کی ہے، اور اطلاعات کے مطابق اس مقدمے میں تقریباً 700گواہ یں۔دیگر پانچ ملزمان کو ضمانت دیے جانے کو ٹرائل کورٹس کے لیے ایک اشارہ سمجھا جانا چاہیے کہ وہ گواہوں کی فہرستوں کو معقول بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ دہلی فسادات سمیت تمام مقدمات کی سماعت بلا غیر ضروری تاخیر شروع ہو۔

ٹیلی گراف
انگریزی اخباردی ٹیلی گراف نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ”دہلی فسادات کیس میں سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہیں دیاہے ۔جب کہ پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دینے کا فیصلہ عام اور خصوصی قوانین، خصوصاً غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت دائر کی گئی ضمانت کی درخواستوں پر غور کے بعد کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی کچھ وجوہات خاصی منفرد ہیں۔

مثال کے طور پر عدالت نے اس مرحلے پر استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ مواد کو بادی النظر میں درست مانتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ مبینہ جرائم میں عمر خالد اور شرجیل امام کا کردار مرکزی نوعیت کا ہے، اس کی بنیاد پر انہیں دیگر ملزمان کے مقابلے میں “معیاری طور پر مختلف درجے” پر رکھا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ ملزمان کی قید طویل اور مسلسل رہی ہے، تاہم یہ آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی نہیں کرتی اور نہ ہی متعلقہ قانون کے تحت ضمانت پر عائد پابندی کو ختم کرتی ہے۔

عمر خالد اور شرجیل امام گزشتہ پانچ برسوں سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں۔ دفاع کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان طویل عرصے سے حراست میں ہیں، حالانکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہوں نے فسادات کے دوران اشتعال انگیزی کی ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ UAPA کے تحت درج مقدمات میں ٹرائل میں تاخیر کو ایسا “فیصلہ کن ہتھیار” نہیں مانا جا سکتا جو خود بخود قانونی تحفظات کو بے اثر کر دے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی آئندہ ضمانت کی درخواستوں پر اس وقت غور کیا جائے گا جب استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہو جائیں یا اس مخصوص حکم کی تاریخ سے ایک سال کی مدت گزر جائے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس فیصلے کو عوامی سطح پر اس تاثر کے طور پر نہ دیکھا جائے کہ عدالتی عمل ہی سزا بن گیا ہے۔

یہ پیش رفت محض اس ایک مقدمے تک محدود اثرات نہیں رکھتی ہے، بلکہ اس سے ایک بڑھتے ہوئے منقسم سیاسی ماحول میں UAPA جیسے قانونی انسدادی قوانین اور آزادی کے اصول کے درمیان موجود کشیدہ تعلق نمایاں ہو جاتا ہے۔ عدالت نے جہاں آئین کے آرٹیکل 21 میں درج آزادی کے اصول کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، وہیں یہ بھی کہا کہ آئینی ڈھانچہ آزادی کو تنہا اور مطلق حیثیت میں تسلیم نہیں کرتا۔

اسی تناظر میں UAPA کی دفعہ 43D(5) عام فوجداری قانون کے تحت ضمانت کے اصول سے ہٹ کر ضمانت پر غور کے لیے ایک مخصوص معیار مقرر کرتی ہے۔ آزادی اور UAPA کے درمیان اس نازک تعلق کے باریک نکات پر عدالتیں یقیناً مزید غور کریں گی، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تعلق جامد نہیں ہے۔ آزادی اور قانونی انسداد سے متعلق موجودہ تشریحات اپنے عہد کی عکاس ہیں۔

روزنامہ راشٹریہ سہارا
”عمر خالد کی قید اور عالمی ضمیر کا تازیانہ‘
اردو اخبارت روزنامہ راشٹریہ سہار ا نے اداریہ کا عنوان ”عمر خالد کی قید اور عالمی ضمیر کا تازیانہ‘ رکھا ہے۔اس اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ میں عمر خالد کا نام اس عدالتی جبر اورسیاسی انتقام کا استعارہ بن چکا ہے جو وطن عزیز کی جمہوری روح کو جھلسا رہا ہے۔ تہاڑ جیل کی کال کوٹھڑی میں گزرنے والے 1825 سے زائد ایام اس ا?ئین کی پامالی کے نوحے ہیں جس نے ہر شہری کوحیات و آزادی کی ضمانت دی تھی۔ ستمبر 2020 سے لے کرآج 2026 کے آغاز تک‘عمر خالد کو بغیر کسی ثابت شدہ جرم کے سلاخوں کے پیچھے رکھنا اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اب یہاں قانون کا راج نہیں بلکہ راج کا قانون رائج ہو چکا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جہاں ضمانت کو ایک رعایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور جیل کو ایک مستقل سزا بنا دیا گیا ہے‘حالانکہ ابھی ٹرائل کا باقاعدہ آغاز تک نہیں ہوا۔

بین الاقوامی افق پر اس معاملے نے جو ارتعاش پیدا کیا ہے‘ وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اب ہندستان کے داخلی معاملات میں انسانی حقوق کی پامالی کو عالمی سطح پر نظرانداز کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ 30 دسمبر 2025 کو آٹھ امریکی ڈیموکریٹک قانون سازوں جن میں جم میک گورن‘جیمی راسکن‘پرمیلا جے پال‘اور راشدہ طالب جیسے بلند آہنگ نام شامل ہیں ٍنے ہندستان کے سفیر ونئے موہن کواتراکو جو مکتوب لکھا‘وہ صرف ایک سفارتی خط نہیں بلکہ ہندستان کے نظامِ عدل پر ایک تازیانہ ہے۔ ان عالمی رہنماﺅں نے دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ یو اے پی اے (UAPA) جیسے سخت قوانین کا استعمال سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کیلئے کرنا کسی بھی مہذب جمہوریت کو زیب نہیں دیتا۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا عمر خالد کو ذاتی خط لکھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ نوجوان اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب‘حکمران جماعت بی جے پی کا ردعمل اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا ہے۔ اس عالمی تشویش کو راہل گاندھی کی بیرون ملک ملاقاتوں یا کسی بین الاقوامی سازش سے جوڑنا دراصل حقائق سے فرار کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ پردیپ بھنڈاری جیسے سیاست دانوں کا یہ واویلا کہ ملک کو بدنام کیا جا رہا ہے‘اس وقت مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے جب خود ملک کے اندر عدالتی عمل سست روی کا شکار ہو۔ اگر ثبوت اتنے ہی ٹھوس ہیں جتنے دہلی پولیس دعوے کرتی رہی ہے‘تو پھر پانچ سال تک ٹرائل شروع کیوں نہیں ہو سکا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یو اے پی اے کی دفعات کو ایک ایسے ا?ہنی پنجریکے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کی چابی انتظامیہ نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے اور عدلیہ محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔ 31 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا بے نتیجہ رہنا اس مایوسی میں مزید اضافہ کرتا ہے جو انصاف کے متلاشی خاندانوں کا مقدر بن چکی ہے۔

اعدادوشمار کی زبان میں بات کی جائے تو صورتحال مزید بھیانک نظر ا?تی ہے۔ فری اسپیچ کلیکٹو کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق‘ہندوستان میں اظہار رائے پر حملوں کی تعداد 14,875 تک جا پہنچی ہے۔ جب ایک ہی سال میں آٹھ صحافی قتل کر دیئے جائیں‘117 افراد کو محض اختلاف رائے پر پابند سلاسل کر دیا جائے اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاو?نٹس کو سنسرشپ کی بھینٹ چڑھا دیا جائے‘تودنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔ رپورٹرز ودا?و?ٹ بارڈرز اور ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہندستان میں صحافت کا دم گھونٹا جا رہا ہے اور غیر ملکیوں کیلئے بنائے گئے نئے ضوابط (امیگریشن اینڈ فارنرز ا?رڈر 2025) دراصل دنیا کی ا?نکھوں میں دھول جھونکنے کا ایک نیا حربہ ہیں۔

عمر خالد کا مقدمہ صرف ایک فرد کی آزادی کا سوال نہیں ہے‘ بلکہ یہ اس سوچ کے خلاف مزاحمت ہے جو اختلاف کو غداری قرار دیتی ہے۔ کیا ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں جے این یو جیسے تعلیمی اداروں سے اٹھنے والی سماجی انصاف کی ا?وازوں کو یو اے پی اے کی بھٹی میں جھونک دیا جائے گا؟ کیا عدلیہ اپنی اس تاریخی ذمہ داری سے عہدہ برا? ہوگی جس کا مقصد کمزور کی طاقتور سے حفاظت کرنا ہے؟ اگر ا?ج عمر خالد‘شرجیل امام اور خالد سیفی جیسے کارکنان کو منصفانہ ٹرائل اور ضمانت کا حق نہیں ملتا‘تو تاریخ یہ لکھنے پر مجبور ہوگی کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں انصاف صرف طاقتور کی لونڈی بن کر رہ گیا تھا۔ بین الاقوامی دباﺅ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دہائیاں اس وقت تک بے اثر رہیں گی جب تک ہندستان کا اپنا ضمیر بیدار نہیں ہوتا۔ وقت ا? گیا ہے کہ ریاست سیاسی انتقام کی عینک اتار کر ا?ئین کی روشنی میں فیصلے کرے‘ورنہ یہ قید خانے صرف انسانوں کو نہیں بلکہ جمہوریت کے مستقبل کو بھی دفن کر دیں گے۔
انگریزی اخبار دی ٹربیون میں مشہور وکیل سنجے ہیگڑے کا مضمونThe Court chose caution over courage

سنجے ہیگڑے نے لکھا ہے کہ کہ سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں جرات کے بجائے احتیاط کا راستہ اختیار کیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ صرف عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت تک محدود نہیںہے بلکہ اس کے اثرات ہندوستانی جمہوریت، اختلافِ رائے اور شہری آزادیوں پر کہیں زیادہ گہرے ہیں۔عدالت نے تسلیم کیا کہ بغیر ٹرائل کے طویل قید آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت مسئلہ ہے، لیکن اس اعتراف کے باوجود ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ پانچ یا اس سے زیادہ سال جیل میں بغیر مقدمہ چلے گزار دینا بھی ضمانت کے لیے کافی نہیں سمجھا جا رہا۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تحت عدالت صرف یہ دیکھتی ہے کہ الزامات بظاہر درست لگتے ہیں یا نہیں، شواہد کی گہرائی میں نہیں جاتی۔ اس سے تقریر، تحریر، اجلاس اور احتجاج جیسے جمہوری اعمال کو “سازش” اور “دہشت گردی” سے جوڑ دیا گیا ہے۔عدالت نے ملزمان کو “مرکزی سازشی” قرار دے کر یہ تصور مضبوط کیا کہ نظریاتی اظہار اور احتجاج بھی ریاست کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس منطق کے تحت جتنا زیادہ ریاست کسی کے خیالات کو خطرناک سمجھے، اتنی ہی کم اس کی آزادی کی اہمیت رہ جاتی ہے۔مصنف کے مطابق، یہ فیصلہ آزادی کو بنیادی حق کے بجائے ایک مشروط رعایت بنا دیتا ہے، اور قومی سلامتی کے نام پر ریاست کو زیادہ طاقت دے دیتا ہے۔ آخر میں مضمون یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ عدالت نے جمہوری اقدار کے دفاع کے بجائے مستقل ایمرجنسی جیسی زبان اختیار کی، جس سے اختلافِ رائے اور شہری ا?زادیوں کا مستقبل مزید غیر یقینی ہو گیا ہے۔—

متعلقہ خبریں

تازہ ترین