Wednesday, March 25, 2026
homeاہم خبریںووٹر لسٹ کی تطہیر یا جمہوریت کی تطہیر؟ ---سپریم کورٹ میں ممتا...

ووٹر لسٹ کی تطہیر یا جمہوریت کی تطہیر؟ —سپریم کورٹ میں ممتا بنرجی کی پیشی اور الیکشن کمیشن کی ساکھ کا سوال

انصاف نیوزآن لاین
بھارت کی جمہوریت ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑی ہے، اور اس بار سوال صرف ووٹر لسٹوں کی “نظرثانی” کا نہیں بلکہ ووٹ کے حق کو منظم طریقے سے چھیننے کا ہے۔ مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) نے جس پیمانے پر ناموں کی کٹوتی کی ہے، وہ کسی انتظامی عمل سے زیادہ ایک سیاسی منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔

58 لاکھ ووٹروں کے ناموں کا حذف ہونا کوئی تکنیکی غلطی نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک آئینی سانحہ ہے۔ زندہ شہریوں کو مردہ قرار دینا، شادی کے بعد نام بدلنے والی خواتین کو “غیر موزوں” ٹھہرانا، اور نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا — یہ سب ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جو شمولیت کے بجائے اخراج پر یقین رکھتا ہے۔

اسی پس منظر میں وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کی سپریم کورٹ میں بطور عرضی گزار ذاتی پیشی محض ایک سیاسی منظرنامہ نہیں، بلکہ وفاقی ڈھانچے اور جمہوری حقوق کے دفاع کی علامت ہے۔ جب ایک منتخب وزیرِ اعلیٰ عدالت کے سامنے یہ کہنے پر مجبور ہو کہ “انصاف دروازے کے پیچھے رو رہا ہے”، تو یہ الزام نہیں بلکہ ایک سنگین انتباہ ہے۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ SIR کا نفاذ صرف مغربی بنگال میں کیا جا رہا ہے، جبکہ آسام سمیت دیگر ریاستیں، جہاں جلد انتخابات ہونے والے ہیں اور جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، اس عمل سے مستثنیٰ ہیں۔ کیا جمہوریت کی نگرانی کا پیمانہ ریاست در ریاست بدل سکتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر بنگال کو الگ کیوں رکھا گیا؟

الیکشن کمیشن کا طرزِ عمل بھی سوالات کے گھیرے میں ہے۔ آدھار کارڈ جیسے دستاویزات کو دیگر ریاستوں میں قبول کرنا، مگر بنگال میں مسترد کرنا، عدالتِ عظمیٰ کی ہدایات کے باوجود “منطقی تضادات” کے نام پر حذف جاری رکھنا، اور واٹس ایپ کے ذریعے ہدایات جاری کرنا — یہ سب مل کر الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سنگین دھبہ لگاتے ہیں۔ اسی لیے “واٹس ایپ کمیشن” کی اصطلاح محض طنز نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت کی عکاس ہے۔

8,000 مائیکرو آبزرورز کی تعیناتی نگرانی نہیں، نگرانی کے نام پر قبضہ ہے۔ یہ بوتھ لیول افسران کو روندنے، ریاستی انتظامیہ کو نیچا دکھانے اور براہِ راست کنٹرول قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اگر ریاست افسر فراہم کر رہی ہے تو متوازی ڈھانچہ کیوں؟ جواب واضح ہے: اعتماد نہیں، کنٹرول چاہیے۔

یہ معاملہ صرف ترنمول کانگریس یا مغربی بنگال تک محدود نہیں۔ آج اگر بنگال میں ووٹ حذف ہو رہے ہیں، تو کل کسی اور ریاست میں بھی ہو سکتے ہیں۔ آج اگر خواتین، مزدور اور غریب شہری ووٹر لسٹ سے غائب کیے جا رہے ہیں، تو کل یہ دائرہ اور وسیع ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنا اور حساسیت برتنے کی ہدایت دینا ایک خوش آئند قدم ہے، مگر یہ کافی نہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ ووٹ کا حق کوئی رعایت نہیں بلکہ شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی سیاسی یا انتظامی مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔

جمہوریت بیلٹ بکس سے نہیں، بلکہ بیلٹ بکس تک پہنچنے کے حق سے زندہ رہتی ہے۔ اگر ریاستی طاقت ووٹر کو ہی فہرست سے خارج کر دے، تو انتخابات محض ایک رسمی مشق بن کر رہ جاتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ممتا بنرجی نے عدالت میں کیا کہا۔

یہ معاملہ کسی ایک پارٹی یا ایک ریاست کا نہیں۔ آج بنگال تجربہ گاہ ہے، کل کوئی اور ریاست ہو سکتی ہے۔ آج 58 لاکھ نام ہیں، کل اس سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ووٹر لسٹ سے آغاز ہوتا ہے، اور ووٹ کے حق کے خاتمے پر اختتام۔

سپریم کورٹ کا نوٹس ایک قدم ہے، مگر جمہوریت کو بیساکھی نہیں، ڈھال چاہیے۔ عدالتِ عظمیٰ کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن کوئی مقدس گائے نہیں، اور اگر وہ آئین سے ہٹے گا تو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا حق نہیں،
ووٹ کے طور پر تسلیم کیے جانے کا حق ہے۔

اور جب ریاست ہی شہری کو فہرست سے غائب کر دے،
تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ الیکشن منصفانہ ہوں گے یا نہیں—
سوال یہ ہوتا ہے کہ
کیا جمہوریت اب بھی زندہ ہے؟

متعلقہ خبریں

تازہ ترین