نئی دہلی:انصاف نیوز آن لائن
اس دلیل کے ساتھ کہ جمہوریہ کے 75 برس مکمل ہونے کے باوجود ہم ابھی تک آئینی اخلاقیات کے مقررہ معیار سے خاصے دور ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اُجّل بھویان نے کہا کہ ملک میں سماجی رویّے اکثر آئینی اقدار سے متصادم نظر آتے ہیں اور عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلے آئینی اصولوں کی بنیاد پر کریں، نہ کہ عوامی یا اکثریتی رائے کو پیشِ نظر رکھیں۔
حیدرآباد میںتلنگانہ ججز ایسوسی ایشن اور تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقدسیمینارجس کا موضو’’آئینی اخلاقیات اور ضلعی عدلیہ کا کردار‘‘سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے آئینی اقدار اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود خلیج کو واضح کرتے ہوئے اپنی بیٹی کے ایک مسلم دوست لڑکی کا واقعہ سنایا ۔ان کے مطابق ان کی بیٹی کی ایک دوست کو دہلی میں محض مسلم شناخت کی بنیاد پر کرائے کا مکان دینے سے انکار کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ خاتون جنوبی دہلی میں واقع ایک ورکنگ ویمنز ہاسٹل کی مالکن سے رہائش کے سلسلے میں ملاقات۔ ابتدا میں نام پوچھا گیا، جو بظاہر غیر واضح تھا، لیکن جب خاندانی نام بتایا گیا تو ان کی مسلم شناخت ظاہر ہو گئی۔ اس پر مالکن نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ رہائش دستیاب نہیں اور وہ کسی اور جگہ تلاش کریں۔جسٹس بھویان نے کہا کہ اگرچہ آئین نے مساوات اور انصاف کا واضح معیار مقرر کیا ہے، لیکن ’’ہم گھروں اور برادریوں کی سطح پر جس اخلاقیات پر عمل کرتے ہیں، وہ اکثر آئینی توقعات سے مختلف ہوتی ہے‘‘۔
انہوں نے اڈیشہ کی ایک مثال بھی پیش کی، جہاں بعض والدین نے اس بات پر اعتراض کیا کہ اسکولوں میں مڈ ڈے میل ایک دلت خاتون تیار کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا یہ پروگرام خاص طور پر دیہی علاقوں میں بچوں کو اسکول لانے اور بنیادی تعلیم کو فروغ دینے میں مؤثر رہا ہے، تاہم کچھ والدین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچے دلت خاتون کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھائیں گے۔
جسٹس بھویان نے زور دے کر کہا کہ ’’یہ دونوں صرف چند مثالیں ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ معاشرتی دراڑیں کتنی گہری ہیں۔ درحقیقت یہ ہمارے لیے آئینہ ہیں، جو بتاتی ہیں کہ جمہوریہ کے پچھتر سال گزر جانے کے باوجود ہم آئینی اخلاقیات کے معیار سے کتنے دور ہیں۔
انہوں نے عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں واضح کر چکی ہیں کہ عوامی اخلاقیات کو آئینی اخلاقیات کے مساوی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلےNaz Foundation v Goverment of NCT کا حوالہ دیا جسے بعد میں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے فیصلے نےتصدیق کی ۔انہوں نے Navtej Singh Johar v UNIn of India کا ذکر کیا، جن میں آئینی اصولوں کو اکثریتی رائے پر فوقیت دی گئی۔
جسٹس بھویان نے کہاکہ’’ہمارے نظام میں آئینی اخلاقیات کو عوامی اخلاقیات پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے، چاہے وہ اکثریتی رائے ہی کیوں نہ ہو۔ ایک آئینی عدالت کے لیے اس کے سامنے موجود مسئلے کی آئینیت اہم ہے، نہ کہ غالب یا مقبول رائے‘‘۔
