Thursday, February 26, 2026
homeاہم خبریںعظیم پریم جی یونیورسٹی میں بی جے پی حامی طلبا کا ہنگامہ،...

عظیم پریم جی یونیورسٹی میں بی جے پی حامی طلبا کا ہنگامہ، کشمیر پر تقریب کے دوران غنڈہ گردی

بنگلور : انصاف نیوز آن لائن

بی جے پی حامی طلبا تنظیم اے بی وی پی کے تقریباً 20 ارکان نے سرجا پور روڈ، بنگلورو میں واقع عظیم پریم جی یونیورسٹی کے اے پی یو کے کیمپس میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ ’اسپارک اے پی یو ریڈنگ سرکل‘ کی جانب سے 23 فروری 1991 کو کپواڑہ کے گاؤں کونن پوش پورہ میں مبینہ بھارتی مسلح افواج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کے مبینہ اجتماعی عصمت دری کے واقعے پر مباحثے کے لیے منعقد کی جانے والی تقریب ’’ملک دشمن نظریات‘‘کو فروغ دیا گیا ہے۔

تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح کیا کہ ایسی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی تھی اور مظاہرین ’’غلط فہمی‘‘کا شکار تھے۔

تقریب کو ’’ملک دشمن‘‘ اور ’’کشمیر علیحدگی پسند‘‘ قرار دیتے ہوئے اے بی وی پی کارکنان نے مرکزی دروازے کے باہر یونیورسٹی کے نام کے بورڈ پر سیاہی پھینکی، کیمپس کی دیواروں پر اسپارک پر پابندی عائد کرو کے نعرے تحریر کیے، املاک کو نقصان پہنچایا اور نعرے بازی کی۔ انتظامیہ کے مطابق بعض سیکورٹی گارڈز اور طلبہ کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی۔
’اسپارک‘ طلبا کارکنوں کا ایک میگزین ہے، جبکہ ’اسپارک اے پی یو ریڈنگ سرکل‘ کا تعلق All India Students Association (آئیسا) سے بتایا جاتا ہے، جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) لبریشن کا طلبہ ونگ ہے۔ 23 فروری کو مبینہ واقعے کی یاد میں بعض حلقوں کی جانب سے ’کشمیری خواتین کے یومِ مزاحمت‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بھارتی افواج الزامات کی تردید کرتی رہی ہے، تاہم سپریم کورٹ نے 2013 میں دائر ایک درخواست پر دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

یونیورسٹی کے ترجمان نے کے ایک بیان جو انہوں نے انگریزی ویب سائٹ دی وائر کو دیا ہے کے مطابق “مظاہرین نے نعرے لگائے، املاک کو نقصان پہنچایا اور ہمارے چند سیکورٹی گارڈز اور طلبہ کے ساتھ بدسلوکی کی۔ احتجاج کرنے والے تمام افراد بیرونی تھے۔ انہیں ’اسپارک اے پی یو‘ کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے گمراہ کیا گیا۔ یہ ہینڈل یونیورسٹی سے منظور شدہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی طور پر یونیورسٹی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس تقریب کے لیے یونیورسٹی سے کوئی اجازت طلب نہیں کی گئی تھی۔ ہماری پالیسی کے مطابق ایسی کسی بھی تقریب کے انعقاد کے لیے پیش گی اجازت ضروری ہے۔ مزید برآں، مذکورہ تقریب منعقد ہی نہیں ہوئی تھی۔

ترجمان کے مطابق واقعے کی اطلاع فوری طور پر سرجا پورہ پولیس اسٹیشن کو دی گئی، اسکے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 18 افراد کو حراست میں لے لیا۔

بدھ (25 فروری) کو جاری بیان میں آئیسا نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کوئی “فوری یا مؤثر اقدام” نہیں کیا۔ تنظیم نے کہاکہ ’’اے بی وی پی کی جانب سے کیمپس جمہوریت اور طلبہ برادری پر بار بار حملے دراصل مباحثے، اختلافِ رائے اور تنقیدی فکر کی فضا کو دبانے کی منظم کوشش کا حصہ ہیں‘‘۔

دوسری جانب، اے بی وی پی بنگلورو یونٹ نے شہر کے تمام کیمپسز میں آئیسا اور اس سے وابستہ ’اسپارک‘ پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے توڑ پھوڑ کی ویڈیوز جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران آئیسا کے ارکان نے کشمیر سے متعلق علیحدگی پسند نعرے لگائے اور قومی پرچم کی بے حرمتی کی۔

اس کے برعکس، ’اسپارک اے پی یو‘ سے وابستہ افراد نے الزام لگایا کہ“اے بی وی پی کارکنوں نے پولیس کی موجودگی میں طلبہ پر چپلیں پھینکیں تاکہ انہیں اشتعال دلایا جاسکے، اور بعد میں سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا کہ طلبہ نے قومی پرچم پر چپلیں پھینکیں۔”سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کی بس میں سوار کچھ افراد بس کے اندر سے طلبہ کی جانب چپلیں پھینک رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین