نئی دہلی :انصاف نیوز آن لائن
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز افراد کسی بھی برادری کو مذہب، ذات، زبان یا علاقے کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنا یاجاسکتا ہے کیونکہ یہ آئین کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کوئی بھی شخص یا گروہ تقاریر، میمز، کارٹون یا کسی بھی فنّی اظہار کے ذریعے کسی برادری کی توہین یا تضحیک نہیں کر سکتا ہے۔
یہ اہم تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیانات پر حالیہ دنوں میں تنازع پیدا ہوا ہے۔ حال ہی میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف مبینہ نفرت انگیز تقاریر پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواستوں پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی تھی۔

یہ تازہ تبصرہ جسٹس اُجّل بھویان نے ایک علاحدہ فیصلے میں کیا ۔ معاملہ نیٹ فلکس کی مجوزہ فلم ’’گھوش خور پنڈت‘‘کے عنوان کو چیلنج کرنے سے متعلق تھا۔ فلم کے ہدایت کار اور پروڈیوسرز نے عدالت میں حلف نامہ دے کر عنوان تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کی، اس کے بعد بنچ نے مقدمہ نمٹا دیا۔ بنچ میں جسٹس بی وی ناگرَتنا اور جسٹس اُجّل بھویان شامل تھے۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق جسٹس بھویان نے کہا کہ عنوان تبدیل کیے جانے کے بعد مزید فیصلہ دینے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم آئینی اصولوں کو دہرانا ضروری تھا تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
جسٹس بھویان نے فیصلے میں ’بھائی چارہ‘ کو آئین کی بنیادی قدر قرار دیا۔ آئین کی تمہید میں بھی بھائی چارے کو اہمیت دی گئی ہے جو قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے۔ آرٹیکل 51A(e) کے تحت ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ مذہبی، لسانی اور علاقائی تنوع سے بالاتر ہو کر ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دے۔
انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’بھائی چارے کا مطلب ہے ایک دوسرے کے لیے احترام اور عزت کا جذبہ۔ ذات، مذہب یا زبان سے قطع نظر ہر شہری کا احترام کرنا ہر ہندوستانی کا آئینی فریضہ ہے‘‘۔
عدالت نے واضح کیاکہ ’’آئین کے تحت کسی بھی برادری کی تضحیک یا بدنامی غیر آئینی ہے۔ چاہے ریاست ہو یا کوئی نجی فرد، تقاریر، میمز، کارٹون یا بصری فنون کے ذریعے ایسا نہیں کیا جا سکتاہے‘‘۔
عدالت نے کہا کہ یہ اصول خاص طور پر ان افراد پر زیادہ نافذ ہوتا ہے جو اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز ہیں اور آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا چکے ہیں۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ’’ گھوش خور پنڈت‘‘ جیسا عنوان کسی خاص طبقے کو منفی انداز میں پیش کرتا محسوس ہوتا ہے، اس لیے خدشات بے بنیاد نہیں تھے۔ فلم سازوں نے عنوان تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فلم سازوں کو آئین کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے۔ فن، طنز اور فلمیں جمہوریت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور محض اعتراض کی بنیاد پر انہیں دبایا نہیں جا سکتا۔
عدالت نے ایس رنگاراجن کیس، شریا سنگھل کیس، عمران پرتاپ گڑھی کیس اور پدماوت کیس سمیت متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کو مخالفت یا بدامنی کی دھمکیوں کا یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے کہا کہ کسی فلم کو ’’مناسب ناظر‘‘ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ حد سے زیادہ حساس افراد کے زاویے سے۔ سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن سے منظوری کے بعد عدالت کو عام طور پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے بیانات پر بحث جاری ہے۔ حال ہی میں آسام بی جے پی کی جانب سے جاری ایک اے آئی ویڈیو میں سرما کو ایک تصویر پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جس میں دو افراد ٹوپی پہنے نظر آ رہے تھے۔ ویڈیو میں “No Mercy to Bangladeshi” جیسے الفاظ بھی شامل تھے۔ شدید تنقید کے بعد پارٹی نے ویڈیو ہٹا دیا۔
جب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے درخواست گزاروں کو پہلے ہائی کورٹ جانے کی ہدایت دی اور کہا کہ عدالت کو سیاسی میدان جنگ میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔
درخواست گزاروں کا مطالبہ تھا کہ سرما کے خلاف پولیس کیس درج کیا جائے اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے ذریعے تحقیقات ہوں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے واضح پیغام دیا ہے کہ آئین کے تحت بھائی چارہ اور باہمی احترام بنیادی اقدار ہیں۔ کسی بھی برادری کو نشانہ بنانا غیر آئینی ہے، تاہم اظہارِ رائے کی آزادی بھی جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے۔ عدالت نے دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنے پر زور دیا ہے۔
