Thursday, March 5, 2026
homeاہم خبریںکیا بنگال کے مسلمان صرف 'ووٹ بینک' ہیں؟ راجیہ سبھا نامزدگی میں...

کیا بنگال کے مسلمان صرف ‘ووٹ بینک’ ہیں؟ راجیہ سبھا نامزدگی میں مسلم لیڈروں کی عدم موجودگی پر تنازع۔

کولکتہ: ترنمول کانگریس (TMC) کے چار امیدواروں—سابق آئی پی ایس افسر راجیو کمار، ریاستی وزیر بابل سپریو، معروف اداکارہ کوئل ملک اور سینئر وکیل مانیکا گوسوامی—نے اپنے پرچہ نامزدگی داخل کر دیے ہیں۔ دوسری جانب، بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے اپنے سینیئر لیڈر راہل سنہا کو میدان میں اتارا ہے، جنہوں نے بھی اپنی نامزدگی جمع کرا دی ہے۔

ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ ان امیدواروں کا انتخاب معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت شخصیات کو ایوانِ بالا (اپر ہاؤس) بھیجنے کی روایت کا تسلسل ہے، تاکہ سیاست میں تعلیم یافتہ طبقے کی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

تاہم، پارٹی کے اس فیصلے پر سیاسی حلقوں اور خود پارٹی کے اندر سے شدید تنقید کی لہر اٹھ رہی ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نچلی سطح پر کام کرنے والے مخلص کارکنوں اور لیڈروں کے بجائے ایسی شخصیات پر کیوں بھروسہ کیا جا رہا ہے جنہیں پارلیمانی سیاست کا تجربہ نہیں؟ ناقدین کا الزام ہے کہ یہ امیدوار محض ‘ربر اسٹامپ’ کے طور پر کام کریں گے۔

نامزد امیدواروں میں راجیو کمار کا نام سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے، جو شاردا چٹ فنڈ کیس اور رضوان الرحمان کیس جیسے معاملات کی وجہ سے تنازعات میں گھرے رہے ہیں۔ اسی طرح بابل سپریو، جن کا ماضی بی جے پی سے وابستہ رہا ہے، ان کی نامزدگی پر بھی بالی گنج کے مسلم ووٹرز میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مانیکا گوسوامی کی نامزدگی کو بھی سماجی اور روایتی اقدار کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اداکارہ کوئل ملک کی سیاسی اہلیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سب سے سنگین سوال بنگال کی 30 فیصد مسلم آبادی کی نمائندگی پر اٹھ رہا ہے۔ چار خالی ہونے والی نشستوں میں سے ایک مسلم رکن (موسم بے نظیر نور) کی تھی، لیکن ترنمول نے اس بار کسی بھی مسلم امیدوار کو نامزد نہیں کیا۔ اس فیصلے نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا بنگال کے مسلمان اب محض ایک ‘ووٹ بینک’ بن کر رہ گئے ہیں؟ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترنمول کے دورِ اقتدار میں مسلمانوں کی پارلیمانی اور اسمبلی نمائندگی میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین