محمد وجیہ الدین جمال
مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام اردو میڈیم آبادی کے طلبہ کے لیے چلائے جانے والے کوچنگ سینٹرز انتظامی غفلت اور بدحالی کی تصویر بن گئے ہیں۔ ریاست میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز جنوری سے ہو چکا ہے، لیکن مارچ کا مہینہ شروع ہونے کے باوجود تاحال ان مراکز میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز نہیں ہو سکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان مراکز میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ گزشتہ پانچ ماہ سے اپنی تنخواہوں (مشاہرے) کے منتظر ہیں۔
تعلیمی سیشن میں تاخیر اور طلبہ کا نقصان
ضلع مغرب بردوان میں اردو اکیڈمی کے کل 9 کوچنگ سینٹرز منظور شدہ ہیں، جہاں مادھیامک سطح کے طلبہ کو مختلف مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے۔ گزشتہ سال فروری کے دوسرے ہفتے میں کلاسز شروع ہو گئی تھیں، لیکن رواں سال 2026 میں اب تک صرف طلبہ کے داخلے لینے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ باضابطہ تدریس کے حوالے سے کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔ مقامی ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ مارچ گزرنے کے بعد اچانک خانہ پری کے لیے کلاسز شروع کرنے کا حکم دیا جائے گا، جس سے طلبہ کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
اساتذہ کی کسمپرسی اور مالی بحران
ان مراکز میں پڑھانے والے بیروزگار نوجوان اساتذہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ پانچ ماہ سے تنخواہیں بقایا ہونے کی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت ہے۔ ماہِ رمضان کا مقدس مہینہ جاری ہے اور عید قریب ہے، ایسے میں واجبات کی عدم ادائیگی نے ان کی خوشیوں کو ماند کر دیا ہے۔
فنڈز کی موجودگی اور انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اردو اکیڈمی کے لیے تقریباً 18 کروڑ روپے کا سالانہ فنڈ مختص کیا ہے، لیکن اکیڈمی کے بعض ذمہ داران کی ترجیحات تعلیمی فلاح کے بجائے دیگر امور معلوم ہوتی ہیں۔ الزام لگایا جا رہا ہے کہ سیمینارز اور گرانٹ کے نام پر فنڈز کا استعمال تو ہو رہا ہے، لیکن زمینی سطح پر غریب بچوں کی تعلیم اور اساتذہ کے حقوق کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
کولکتہ میں اردو اکیڈمی کے کوچنگ سینٹرز کا حال ابتر، شفافیت پر اٹھے سوالات
کولکتہ میں مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام چلنے والے کوچنگ سینٹرز کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ذرائع کے مطابق، کئی مراکز کو تعلیمی مقصد کے بجائے مبینہ طور پر ‘سیاسی انعام’ کے طور پر مخصوص پارٹی ورکروں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم کا معیار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ماضی میں ان کوچنگ سینٹرز کا باقاعدہ سالانہ آڈٹ کیا جاتا تھا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و مراکز کو انعامات سے نوازا جاتا تھا تاکہ تعلیمی مسابقت برقرار رہے۔ تاہم، اب یہ حوصلہ افزا روایت دم توڑ چکی ہے اور اکیڈمی کی جانب سے نگرانی کا کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آتا۔
اردو اکیڈمی کے اربابِ حل و عقد اس اہم سوال کا جواب دینے سے مسلسل گریز کر رہے ہیں کہ اس وقت کولکتہ میں کل کتنے کوچنگ سینٹرز فعال ہیں اور وہ کن مقامات پر چلائے جا رہے ہیں۔ ان مراکز کے ذمہ داران کون ہیں اور وہاں زیرِ تعلیم طلبہ کی کارکردگی کیا ہے؟ اس حوالے سے اکیڈمی کی خاموشی کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اکیڈمی ان مراکز کی فہرست اور کارکردگی رپورٹ منظرِ عام پر لائے تاکہ عوامی فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
آسنسول دفتر کی بے بسی
جب اس سلسلے میں ضلع کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آسنسول دفتر مکمل طور پر کولکتہ ہیڈ آفس کا محتاج ہے۔ وہاں سے کوئی ہدایت نہ ملنے کی وجہ سے وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ سامنے ریاستی اسمبلی کے انتخابات بھی ہیں، جس کے پیشِ نظر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد یہ معاملہ مزید طول پکڑ سکتا ہے۔
اربابِ اقتدار سے اپیل
مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی چیئرپرسن خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ہیں اور وائس چیئرمین رکنِ پارلیمان ندیم الحق ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کی سیاسی مصروفیات کا فائدہ اٹھا کر نچلی سطح کے افسران اردو زبان اور غریب بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طور پر نئے سیشن کی کلاسز شروع کی جائیں اور اساتذہ کے بقایا جات ادا کیے جائیں تاکہ تعلیمی نظام مزید ابتری کا شکار نہ ہو۔
