انصاف نیوز آن لائن
گروگرام/بھرت پور:ہریانہ میں نام نہاد ‘گؤ رکشکوں’ کے ہاتھوں دو مسلمان نوجوانوں کے لرزہ خیز قتل کے ملزم اور ہندوتوا لیڈر مونو مانیسر کو ہفتے کی شام بھرت پور سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد جب وہ گروگرام میں اپنے آبائی گاؤں پہنچا، تو حامیوں نے ڈھول تماشوں اور پھولوں کے ہاروں کے ساتھ اس کا والہانہ استقبال کیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس موقع پر مونو مانیسر نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔
25 سالہ ناصر اور 35 سالہ جنید 15 فروری 2023 کو لاپتہ ہوئے تھے۔ ایک روز بعد ہریانہ کے ضلع بھیوانی کے علاقے لوہارو میں ایک جلی ہوئی گاڑی سے ان کی کوئلہ بنی ہوئی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ پولیس تحقیقات کے مطابق، گؤ رکشکوں نے انہیں مویشیوں کی مبینہ اسمگلنگ کے شبہ میں اغوا کیا تھا، تاہم جب گاڑی میں کوئی مویشی نہیں ملا تو ملزمان نے ان دونوں پر وحشیانہ تشدد کیا اور ثبوت مٹانے کی نیت سے انہیں زندہ جلا دیا۔ تفتیش میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ جنید کو فیروز پور جھرکہ میں قتل کیا گیا جبکہ ناصر کا گلا بھیوانی میں گھونٹا گیا، جس کے بعد پیٹرول چھڑک کر گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔
راجستھان ہائی کورٹ کے جسٹس انیل کمار اپمن کی سربراہی میں قائم بنچ نے 5 مارچ کو مونو مانیسر کی ضمانت منظور کی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں درج ذیل نکات کو بنیاد بنایا:
ملزم دو سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہے۔
اس طویل مدت کے دوران استغاثہ (Prosecution) کے 74 گواہوں میں سے ایک کا بیان بھی قلمبند نہیں کیا جا سکا ہے۔
سپریم کورٹ اسی کیس کے ایک اور ملزم انیل کمار کو پہلے ہی ضمانت دے چکی ہے۔
مونو مانیسر کے وکلاء نے دلیل دی کہ ان کے موکل کو اس کیس میں محض ‘سہولت کار’ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے اور وہ مرکزی ملزم نہیں ہیں۔ دوسری جانب، پبلک پراسیکیوٹر وجے سنگھ اور سینئر ایڈووکیٹ سید شاہد حسن نے جرم کی سنگینی اور موجود شواہد کی بنیاد پر ضمانت کی سخت مخالفت کی، تاہم عدالت نے ٹرائل میں تاخیر اور طویل حراست کو جواز بنا کر رہائی کا حکم جاری کیا۔
عدالت نے مونو مانیسر کو ایک لاکھ روپے کا ذاتی مچلکاء اور 50،000 روپے کی دو ضمانتیں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ نیز، اسے ہر تین ماہ بعد متعلقہ تھانے میں حاضری لگانے اور دورانِ ضمانت کسی بھی دوسرے مجرمانہ فعل میں ملوث نہ ہونے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
یہ کیس اگست 2023 میں اس وقت شدید سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا جب راجستھان کی اس وقت کی اشوک گہلوت حکومت اور ہریانہ کی منوہر لال کھٹر حکومت کے درمیان ٹھن گئی تھی۔ گہلوت نے ہریانہ پولیس پر ملزم کو پناہ دینے اور عدم تعاون کا الزام عائد کیا تھا۔
انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مئی 2023 میں، جب مرکزی ملزم مونو مانیسر مفرور تھا، راجستھان پولیس نے مقتولین کے رشتہ دار حافظ جابر کو گرفتار کر لیا تھا، جو اپنے بھائیوں کے لیے انصاف کی آواز بلند کر رہے تھے۔ مزید برآں، پولیس نے مقتولین کے خاندان کے ایک درجن سے زائد افراد کے خلاف بھی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے تھے۔ آخر کار، مونو مانیسر کو ستمبر 2023 میں ہریانہ پولیس نے حراست میں لے کر راجستھان پولیس کے حوالے کیا تھا۔
