کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے منگل کو صدرراج سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔نہ ہی انہوں نے کلکتہ میں میڈیا سے 68 منٹ کی بات چیت میں صدر راج کے نفاذ سے متعلق کوئی بھی اشارہ کیا۔اس کے باوجود بنگال میں صدرراج کے نفاذ کی گونج ہے۔کیوں کہ کہا جارہا ہے کہ بہت کچھ اس رپورٹ پر منحصر ہوگا جو گیانیش کمار دہلی واپس جا کر مرکز کو دیں گے۔
کلکتہ میں دو دن گزارنے کے بعد جہاں انہوں نے ریاستی افسران اور اعلیٰ پولیس افسران سے ملاقاتیں کیں، مندر کا بھی دورہ کیا اور سیاہ جھنڈے اور ”واپس جاؤ“کے نعروں کا سامنا کیا – اب ان کی رپورٹ اہم ہوگی۔
1977 میں سدھارتھ شنکر رائے کی حکومت کو 30 اپریل کو برخاست کر کے 52 دن تک صدر راج نافذ رہا۔بائیں محاذ کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعدصدر راج کاخاتمہ ہوگیا۔
اب 49 سال بعد جب ریاست اسمبلی انتخابات کی طرف بڑھ رہی ہے، ایک بڑا سوال اٹھ رہا ہے کہ’کیا بنگال میں راشٹرپتی شاسن نافذ ہو سکتا ہے؟
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا کہ چیف سیکریٹری، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور دیگر افسران نے یقین دلایا ہے کہ انتخابات پرتشدد اور دباؤ سے پاک ہوں گے۔ کمیشن کا سب سے بڑا ترجیحی کام بنگال میں انتخابات کو پرتشدد سے پاک کرنا ہے۔ جو اب تک ناممکن ثابت ہوا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر ریاست کی حکومت کو برخاست کر کے انتظامیہ سنبھال سکتے ہیں اگر گورنر کی رپورٹ سے مطمئن ہوں کہ ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جہاں ریاستی حکومت آئین کے مطابق چل نہیں سکتی۔ یہ قانون و نظم کی صورتحال سے جڑا ہے۔
ریاست میں فی الحال سب سے اہم کام ووٹر لسٹ کی خصوصی شدید نظرثانی (SIR) ہے۔ حتمی رولز شائع ہو چکے ہیں جن میں 6.44 کروڑ ووٹرز ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر تعینات جوڈیشل افسران ابھی 60 لاکھ سے زائد ناموں کے ‘adjudication’ (فیصلہ) کا فیصلہ کریں گے۔
منگل کی صبح سپریم کورٹ نے ریاست اور کمیشن دونوں کو ہدایت دی کہ جوڈیشل افسران کو مکمل تعاون دیں۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اطلاع دی کہ adjudication کی فہرست میں سے 16.10 لاکھ ناموں کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ کمیشن کے ذرائع کے مطابق پورا عمل مکمل ہونے میں دوماہ لگ سکتے ہیں۔
ایک ترنمول ایم پی (نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر) نے کہاکہ ایس آئی آر کیسے چل رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ بی جے پی راشٹرپتی شاسن کا راستہ دیکھ رہی ہے۔ اگر کمیشن چاہتا تو adjudication والوں کی تصدیق تیز کر سکتا تھا۔ یہ تاخیر جان بوجھ کر ہے۔ علامات اچھی نہیں لگ رہی ہیں۔ ہم خوفزدہ نہیں، لیکن شک کی گنجائش ہے۔
سی پی ایم نے کمیشن کو بتایا کہ 60 لاکھ سے زائد ووٹرز کے ناموں کا فیصلہ معلق ہونے کی صورت میں انتخابات نہیں ہو سکتے۔
ممتا بنرجی SIR کے خلاف دھرنے میں مصروف تھیں جب مرکز نے سی وی انند بوس کو ہٹا کر آر این روی کو بنگال کا گورنر مقرر کیا۔ چنئی میں راوی کا ڈی ایم کے حکومت سے تنازعہ رہا ہے۔ انتخابات قریب آتے ہی روی اور راج بھون کا کردار کیا ہوگا، یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔
بنگال بی جے پی صدر اور راجیہ سبھا ایم پی شیامک بھٹاچاریہ نے کہاکہ اصولاً بی جے پی کسی منتخب حکومت کو آرٹیکل 356 سے برخاست کرنے کے خلاف ہے۔ لیکن بنگال کے لوگ ممتا بنرجی کی حکومت کو برخاست کرنا چاہتے ہیں۔
