Wednesday, March 11, 2026
homeاہم خبریںایس آئی آر: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو جوڈیشل افسران کے...

ایس آئی آر: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو جوڈیشل افسران کے کام میں مداخلت کرنے سے روک دیا۔اپیلٹ ٹریبونل کی تشکیل کا حکم

کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن

مغربی بنگال کے ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج کے معاملے پر ریاستی حکومت کی درخواست پر چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ ان جوڈیشل افسران کے کام میں مداخلت نہ کرے جو ”ایڈجوڈیکیشن“ (فیصلہ سازی) کی فہرست میں شامل ووٹرز کے مقدمات دیکھ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس عمل سے متعلق تمام حتمی فیصلے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجوی پال کی نگرانی میں ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ کمیشن کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے جوڈیشل افسران کی کارروائی میں خلل پڑے۔ کسی بھی ہنگامی اقدام کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریاستی وکیل مینکا گرو سوامی کی طرف سے جوڈیشل افسران کے طریقہ کار پر اٹھائے گئے سوالات پر ناراضگی کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ عدالتی وقار کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک خصوصی ٹریبونل تشکیل دینے کا حکم دیا ہے، جس میں سابق چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے دو سے تین جج شامل ہوں گے۔ یہ ٹریبونل جوڈیشل افسران کے فیصلوں (خصوصاً نام حذف ہونے) کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کرے گا۔

ریاستی وکیل کے مطابق، تقریباً 57 لاکھ ووٹرز کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ اب تک16.10لاکھ کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ اس عمل کے لیے بنگال سے 500اور پڑوسی ریاستوں (اڑیسہ، جھارکھنڈ) سے 200 جوڈیشل افسران تعینات ہیں۔
لاگ ان آئی ڈیز میں خرابی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالی گئی، جسے فوری درست کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے اضافی ووٹر لسٹ کی اشاعت کا فیصلہ بھی کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے اختیار میں دے دیا گیا ہے۔عدالت نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی قانونی ووٹر کا نام فہرست سے نہیں نکالا جائے گا۔
عدالت نے دورانِ سماعت الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت، دونوں فریقین کی نیت اور دیانتداری پر تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ سماعت ظاہر کرتی ہے کہ 2026کے اسمبلی انتخاباتسے قبل ووٹر لسٹوں کی درستی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عدلیہ انتہائی متحرک ہے۔ ریاست اور الیکشن کمیشن کے درمیان عدم اعتماد کی فضا میں سپریم کورٹ کی یہ مداخلت ‘غیر جانبدارانہ انتخابی عمل’ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین