Thursday, March 12, 2026
homeاہم خبریںکلکتہ کے ریستوراں میں ایل پی جی کا شدید بحران: مینیو محدود...

کلکتہ کے ریستوراں میں ایل پی جی کا شدید بحران: مینیو محدود کرنے اور بندش کا خطرہ

کلکتہ: انصاف نیوزآن لائن

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سپلائی چین میں رکاوٹ کے باعث کلکتہ کی فوڈ انڈسٹری ایک بڑے بحران کی زد میں آگئی ہے۔ کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں کمی نے شہر کے مشہور ریستورانوں اور کیفے مالکان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ریستوراں مالکان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو انہیں اپنے مینیو محدود کرنے یا عارضی طور پر کچن بند کرنے پڑ سکتے ہیں۔

مشہور ریستوراں چین ‘6 بالی گنج پلیس’ کے ڈائریکٹر سشانت سین گپتا نے صورتحال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو دنوں سے ہم جتنے سلنڈروں کا آرڈر دے رہے ہیں، ہمیں اس کا صرف 50 فیصد مل رہا ہے۔ یہ کورونا وبا کے بعد اب تک کا سب سے بڑا بحران ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران سے نہ صرف روزمرہ کے گاہک بلکہ 14 اور 15 مارچ کو ہونے والی بینکویٹ بکنگز اور آؤٹ ڈور کیٹرنگ کی تقریبات بھی متاثر ہو سکتی ہیں جن کی ایڈوانس ادائیگیاں لی جا چکی ہیں۔

کلکتہ کے بیشتر ریستورانوں کے کچن گیس پر مبنی ہیں اور ان کے پاس الیکٹرک یا انڈکشن کوکنگ کا انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ ‘دی ڈیلی’ کی مالکہ ارویکا کنوئی کا کہنا ہے کہ سپلائرز کے پاس اسٹاک ختم ہو چکا ہے اور ریستوراں مالکان اب ایک دوسرے سے مدد مانگ رہے ہیں۔ اگر گیس فراہم نہیں کی گئی تو ریستوراں بند کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

حکومت نے مشرقِ وسطیٰ سے ایل این جی (LNG) کی ترسیل میں رکاوٹ کے بعد گھریلو صارفین، اسپتالوں اور سی این جی (CNG) کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کشیدگی کی وجہ سے کمرشیل صارفین کے لیے گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔

”چومین“اور اودھ1590′ کے ڈائریکٹر دیبادتیا چودھری نے بتایاکہ ہم احتیاطی اقدامات کے طور پر ہنگامی میٹنگ کر رہے ہیں۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو ہمیں کچن آپریشنز جاری رکھنے کے لیے مینیو میں کمی کرنی پڑ سکتی ہے۔’

دوسری طرف، ‘فلوریز’ (Flurys) جیسے ادارے جن کا کچن بجلی پر چلتا ہے، اس بحران سے محفوظ ہیں، لیکن شہر کے 90 فیصد چھوٹے بڑے ریستوراں اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین