ریاض/واشنگٹن (نیوز ڈیسک)
’’ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی ’شیطانی جوڑی‘ کی جارحیت اب سنگین صورت حال اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیل نے ایران کے سب سے بڑے توانائی کے ذخیرے کو نشانہ بنا کر مشرقِ وسطیٰ کے حالات کو دھماکہ خیز بنا دیا ہے۔ اس کے جواب میں جہاں ایران نے اسرائیل پر میزائل برسائے ہیں، وہیں خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں، جس سے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایک طرف جہاں عرب عوام میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ‘کس مرض کی دوا’ ہیں اور وہ ان کی حفاظت کیوں نہیں کر پا رہے؟ وہیں دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے ایران کے حالیہ حملوں پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔”
حالیہ کشیدگی کا سب سے بڑا محرک اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس (South Pars) گیس فیلڈ پر کیا جانے والا حملہ ہے۔ یہ خلیج فارس میں واقع دنیا کی سب سے بڑا گیس فیلڈ ہے ۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق ایران کی 80 فیصد بجلی قدرتی گیس سے تیار ہوتی ہے۔ ‘ساؤتھ پارس فیلڈ پر حملے نے ایران کی توانائی اور بجلی کی فراہمی کے نظام کو براہِ راست مفلوج کر دیا ہے، جس سے ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی اور ‘ہیٹنگ سسٹم کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو اور سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ اسرائیل ‘ساؤتھ پارس پر حملہ کرنے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قطر کی توانائی تنصیبات پر ہونے والے حملے پر بھی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اتنی بڑی تباہی نہیں چاہتے۔ انہوں نے لکھا کہ: **”اسرائیل اب ساؤتھ پارس یا ایران کے دیگر توانائی مراکز پر مزید حملے نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اس درجے کی تباہی کی اجازت نہیں دینا چاہتے کیونکہ اس کے ایران کے مستقبل پر طویل مدتی اور انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم، انہوں نے ایران کو سخت لہجے میں خبردار بھی کیا کہ اگر اس نے قطر یا دیگر اتحادیوں کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بند نہ کیا، تو امریکہ خود حرکت میں آئے گا اور پوری گیس فیلڈ کو ملیا میٹ کر دے گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان اگر سچ ہے تو یہ نظریہ (Theory) درست ثابت ہو رہا ہے کہ ایران پر جارحیت کا فیصلہ بنیادی طور پر اسرائیل کا تھا اور ٹرمپ محض اسرائیلی دباؤ میں آکر اس کا حصہ بنے۔ اسرائیل کی فسطائیت خود امریکہ کے لیے مصیبت بنتی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ بیشتر یورپی ممالک نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ عالمی رہنماؤں کے ردِعمل پر ایران نے یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ جو ممالک ایران کی جوابی کارروائی کی مذمت کر رہے ہیں، وہ اس وقت کیوں خاموش تھے جب اسرائیل نے ہمارے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا؟
ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں سعودی عرب پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے بعد سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے سخت ترین موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ’’ایران کے حملے ‘‘سوچے سمجھے اور منصوبہ بندی کے تحت ہیں۔سعودی عرب اب بھی سفارتی حل چاہتا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر براہِ راست فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔سعودی وزارتِ دفاع نے ریاض کی فضاؤں میں ایران کے 4 میزائل اور 6 ڈرونز مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔
ایران کے ڈرون حملوں نے کویت کی دو بڑی ریفائنریوں مینا عبداللہ اور مینا الاحمدی کو نشانہ بنایا جہاں آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی ‘حبشان گیس تنصیب کو حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان اس ‘انرجی وار نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ کی مداخلت کے باوجود حملے نہ رکے تو عالمی معیشت بڑے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
