Friday, March 20, 2026
homeخصوصی کالمبے چین دنیا کے نام عید کا پیغام: آج 'فتحِ مکہ کے...

بے چین دنیا کے نام عید کا پیغام: آج ‘فتحِ مکہ کے نسخۂ کیمیا’ کی ضرورت کیوں ہے؟

غزہ میں جاری نسل کشی اور ایران پر بڑھتی ہوئی جنگی یلغار کے درمیان، عید الفطر کا یہ پیغام فرقہ واریت کے خلاف ایک اجتماعی بیداری کی پکار ہے۔ ایک طرف جہاں عالمی طاقتیں ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنا رہی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روند رہی ہیں، وہیں 'سیرتِ طیبہ ﷺ' انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ایک ابدی نمونہ پیش کرتی ہے۔ گرتے ہوئے عالمی نظام کے اس دور میں، یہ تحریر ایٹمی ہتھیاروں کے بجائے اخلاقیات کی طاقت کو انصاف کے واحد راستے کے طور پر اجاگر کرتی ہے۔

نوراللہ جاوید

ایک ماہ کے طویل تربیتی عمل اور تزکیہ نفس کے بعد مسلمانانِ عالم عید الفطر کا عظیم تہوار منا رہے ہیں۔ تاہم دیگر اقوام کے روایتی تہواروں کے برعکس، عید کا یہ مقدس دن محض جشن و طرب یا عیش و عشرت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایثار، ہمدردی، شکر گزاری اور اجتماعی بیداری کا ایک عظیم پیغام ہے۔اگرچہ امتِ مسلمہ برسوں سے کٹھن آزمائشوں اور داخلی انتشار کا شکار ہے اور استعماری قوتیں اسلامی تہذیب و تمدن اور روحِ محمدی ﷺ کے آفریں جذبے مٹانے کے درپے ہیں، لیکن امسال حالات کی سنگینی ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی شیطانی جوڑی ایران پر یلغار ہے ایک اور مسلم ریاست کے مستقبل کو تاریک کرنے پر تلا ہے، تو دوسری طرف غزہ کے معصوم بچے فاقہ کشی اور بدترین نسل کشی کا شکار ہیں۔ ’گریٹر اسرائیل‘ کے مذموم خواب کی تعبیر کے لیے مسلم ممالک کو یکے بعد دیگرے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دراصل عراق، شام، لیبیا، سوڈان اور صومالیہ کی تباہی کی ہولناک داستان کو دہرانے کا عمل جاری ہے۔

ان سنگین حالات میں جہاں مسلم امہ کو عالمی فسطائیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا چاہیے تھا، وہیں بدقسمتی سے مسلکی اور علاقائی اختلافات کو ہوا دے کر ہمیں مزید کمزور کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں اس سال عید الفطر کا یہ موقع ہمیں انعامِ خداوندی پر شکر گزار ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی محاسبے، دشمن کی سازشوں کی ناکامی اور سسکتی ہوئی انسانیت کو جینے کی امید دینے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتا ہے۔مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسلامی تعلیمات، بالخصوص غزوۂ بدر، غزوۂ احد اور فتحِ مکہ کے وہ سنہری اصول مشعلِ راہ ہیں جن کے ذریعے محسنِ انسانیت حضرت محمد ﷺ نے جنگ کے دوران بھی انسانیت کا درس دیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف ان اسباق کو یاد رکھیں، بلکہ جدید تہذیب و تمدن کے جھوٹے دعویداروں کو ان کی بربریت کا آئینہ بھی دکھائیں اور ثابت کریں کہ حقیقی امن صرف اسلامی نظامِ عدل و رحمت میں ہی پنہاں ہے۔

’’یہ ایک عجیب اور ایمان افروز اتفاق ہے کہ اسلامی تاریخ کے تین عظیم معرکے غزوۂ بدر (17 رمضان)، فتحِ مکہ (20 یا 26 رمضان) اور غزوۂ احد (5 شوال)عید الفطر کے قریبی ایام میں پیش آئے۔ ان تینوں غزووں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں، لیکن ان کے پیغامات انسانیت کے لیے ابدی اور آفاقی ہیں۔
غزوۂ بدر جہاںہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ عظیم الشان فتح اور معاشی غلبے کے باوجود انسانی اقدار کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے۔ فتح کے نشے میں چور ہونے کے بجائے وہاں قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور دشمن کے انسانی حقوق کے احترام کی وہ مثال قائم کی گئی جو رہتی دنیا تک بے مثال ہے۔وہیں غزہ احد جو عید کے فوراً بعد پیش آیا، ہمیں آزمائش میں ثابت قدمی کا سبق دیتا ہے۔ اس معرکے میں مسلمانوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، سید الشہداء حضرت حمزہؓ کی شہادت کا عظیم صدمہ درپیش تھا اور خود محسنِ انسانیت ﷺ زخموں سے چور تھے۔

مگر اس بظاہر شکست پر مایوس ہونے کے بجائے آپ ﷺ نے اپنی صفوں میں موجود خامیوں کی نشاندہی فرمائی اور شکست کے محض پانچ دن بعد، زخموں سے نڈھال لشکر کو دوبارہ منظم کر کے کفارِ مکہ کا تعاقب کیا۔ آپ ﷺ کی اس بے مثل حکمتِ عملی نے دشمن کو، جو مدینہ پر دوبارہ حملے کا ارادہ رکھتا تھا، راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ سبق ہے کہ عید کے بعد کی خوشی ہمیں غافل نہ کرے بلکہ دشمن کی سازشوں کے خلاف ہمیشہ چاق و چوبند رکھے۔

فتحِ مکہ کا موقع تو انسانی تاریخ کا وہ معجزہ ہے جہاں دشمنوں کی دو دہائیوں پر محیط اذیتوں، سازشوں اور مسلمانوں کو پہنچنے والے ناقابلِ بیان جانی و مالی نقصانات کا حساب لینے کا بھرپور موقع تھا۔ لیکن اس دن رحمت و رافت کا وہ سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا جس کی نظیر تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ انتقامی کارروائیوں کے بجائے عام معافی کا اعلان کر کے آپ ﷺ نے ثابت کر دیا کہ اسلام طاقت کے بل پر نہیں بلکہ اخلاق اور انسانیت کے ذریعے دلوں کو فتح کرنے آیا ہے۔

آج کی دنیا خود کو ‘ترقی یافتہ ہونے کی دعویدار ہے اور یہ زعم بھی عام ہے کہ انسانی اقدار و تہذیب تکمیل کے مراحل طے کر چکی ہے۔ بلاشبہ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات نے انسانی زندگی کے ڈھانچے کو یکسر بدل دیا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ان ایجادات کا استعمال انسانی فلاح و بہبود سے زیادہ انسانیت کی تخریب کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت ایسے تباہ کن ہتھیار تخلیق کر لیے گئے ہیں جو چشمِ زدن میں ہنستے بستے شہروں کو نگلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آج ‘قانون کی حکمرانی کا تصور دم توڑ چکا ہے۔ دنیا کی وہ نام نہاد ‘سپر پاور جو پوری دنیا میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سالانہ رپورٹیں جاری کرتی ہے، اس کا وزیرِ دفاع شیطانی سوچ اور وحشیانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے برملا اعلان کرتا ہے کہ “وہ صرف جنگ جیتنا چاہتا ہے”۔ اس فسطائی فکر کے نزدیک انسانی زندگی، اخلاقی ا قدار اور جنگی قوانین کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ عالمی ضمیر کی خاموشی ہے۔ اس سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کسی میں نہیں کہ ‘تمہارے بلند و بانگ دعووں کا کیا ہوا؟

    یہی وہ طاقتیں ہیں جنہوں نے ایران پر حملے کا جواز یہ پیش کیا کہ وہاں انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں، مخالفین کو کچلا جاتا ہے اور خواتین کی آزادی سلب کی جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج غزہ میں 40 ہزار معصوم بچوں کی ہلاکت کا کیا جواز ہے؟ کس عالمی قانون کے تحت ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر بم برسا کر 150 سے زائد بچیوں کو لقمۂ اجل بنا دیا گیا؟ وہ لوگ جو لڑکیوں کی تعلیم اور آزادی کے فریبی نعرے لگاتے تھے، آج ان معصوم طالبات کے خون پر خاموش کیوں ہیں؟ خواتین کے وقار کا ڈھونگ رچانے والے ‘جیفری ایپسٹین جیسے کرداروں اور ان کے نیٹ ورک میں شامل سفید پوشوں کی درندگی پر دنیا شرمندہ کیوں نہیں ہوتی؟ یہ منافقت ثابت کرتی ہے کہ جدید تہذیب محض ایک چمکتا ہوا غلاف ہے جس کے اندر وحشت اور درندگی کا وہی پرانا نظام چھپا ہوا ہے۔

    مغربی تہذیب کا المیہ یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ خود کو “انسانیت کا مسیحا” بنا کر پیش کیا، لیکن تاریخ کے اوراق اس کے ہاتھوں کو بے گناہ انسانی خون سے رنگا ہوا دکھاتے ہیں۔ مغرب خود کو آزادی کا علمبردار کہتا ہے، مگر اس کی اپنی تاریخ براعظموں پر قبضے اور نسل کشی سے عبارت ہے۔ امریکہ میں 10 کروڑ ریڈ انڈینز اور آسٹریلیا میں 45 لاکھ ایب اوریجنز (Aborigines) کا قتلِ عام اس ‘مہذب دنیاکے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔ وہ اسلام کو “جنگ پسند” کہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 600 سالوں میں مغرب نے دنیا کو 2,600 سے زائد جنگوں کا “تحفہ” دیا، جن میں صرف دو عالمی جنگوں کے دوران 12 کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ مغرب کی ‘امن پسندی محض ایک سیاسی ڈھونگ ہے۔مغرب کے لیے جمہوریت صرف تب تک قابلِ قبول ہے جب تک نتائج اس کے مفاد میں ہوں۔

    الجزائر میں ‘اسلامک سالویشن فرنٹ کی کامیابی ہو، ترکی میں نجم الدین اربکان کی حکومت، فلسطین میں حماس کی انتخابی جیت ہو یا مصر میں صدر مرسی کی آئینی حکومت—مغرب نے ہر اس جگہ جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا جہاں اسلام پسندوں کو عوامی تائید حاصل ہوئی۔ آج جمہوریہ ایران کی منتخب حکومت کے جواز پر سوال اٹھا کر حملہ آور ہونا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مغرب کے نزدیک ‘سیکولر آمریت تو قبول ہے لیکن ‘اسلامی جمہوریت نہیں۔اقوامِ متحدہ کے نام پر قائم کردہ عالمی نظام دراصل پانچ بڑی طاقتوں کی “غنڈہ گردی” کا ادارہ بن چکا ہے، جہاں ‘ویٹو پاور کے ذریعے پوری دنیا کی رائے کو روند دیا جاتا ہے۔ غزہ میں ہسپتالوں اور اسکولوں پر تباہ کن بمباری اور اب ایران کے اسکول پر وحشیانہ حملہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ مغرب کی “انسان پرستی” صرف اس کے اپنے مخصوص شہریوں تک محدود ہے۔

    ’’طاقت کی اس اندھی کشمکش نے خود مغرب کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اب مغربی ممالک کے اندر سے بھی ان جنگی اقدامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسپین نے تو کھلے عام ان مظالم کی اطاعت سے انکار کرتے ہوئے دو ٹوک کہا ہے کہ ‘وہ بچوں کی ہلاکت پر تالیاں نہیں بجا سکتا ہے۔ کل تک جو یورپی ممالک امریکہ کے ایک اشارے پر جنگ کے شعلوں میں کود پڑتے تھے، آج ایران پر حملے کے پندرہ روز بعد وہ بھی لیت و لعل کا شکار ہیں۔ روس اور یوکرین کی طویل جنگ نے انہیں تھکا دیا ہے اور اب وہ اس بربریت سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماضی میں امریکی اڈے تحفظ اور سیکیورٹی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے، مگر آج خود امریکہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی کو تحفظ دینے کا اہل نہیں رہا۔عالمی سیاست میں آنے والی یہ تبدیلی اس تاریک ماحول میں امید کی ایک شمع روشن کرتی ہے۔

    عید الفطر کے اس مبارک موقع پر دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ بذاتِ خود ‘جنگ کوئی بری شے نہیں ہے، بلکہ سارا فرق ‘مقصد کا ہے۔ اگر جنگ انصاف کے قیام، انسانیت کی تکریم اور قانون کی بالادستی جیسے عظیم اہداف کے لیے لڑی جائے تو یہی جنگ انسانیت کے زخموں کا مداوا بن جاتی ہے (جیسا کہ فتحِ مکہ کی صورت میں دیکھا گیا)۔ لیکن جب جنگ اپنی بالادستی کے زعم اور معاشی استعمار کے لیے برپا کی جائے، تو یہ انسانیت کی بربادی کا بدترین ذریعہ بن جاتی ہے۔

    غزوۂ بدر ہو یا غزوۂ احد، یہ اقدامی نہیں بلکہ دفاعی معرکے تھے جن کا مقصدِ عظیم انسانی حقوق کا تحفظ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں جانی نقصان نہ ہونے کے برابر تھا اور دنیا پہلی بار انسانی حقوق کے اس اصلی چارٹر سے متعارف ہوئی کہ جنگ کے سنگین ترین حالات میں بھی معصوم بچوں، خواتین، بوڑھوں اور میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

    غزوۂ بدر کے موقع پر، جب صرف 313 مسلمان ایک طاقتور لشکر کے سامنے کھڑے تھے، حضور ﷺ نے انہیں صرف جنگی چالیں نہیں سکھائیں بلکہ سچائی، صبر اور توکل کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے میدانِ جنگ میں مساوات کی ایسی مثال قائم کی کہ سواری کے لیے اونٹ پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ باری باری سوار ہوئے اور فرمایا: ’’نہ تم مجھ سے زیادہ طاقتور ہو اور نہ میں ثواب سے بے نیاز ہوں”۔ بدر کے قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی یہ حالت تھی کہ مدینہ میں غلے کی قلت کے باوجود مسلمانوں نے خود کھجوریں کھائیں لیکن قیدیوں کو کھانا کھلایا۔ اسی طرح جب دو صحابہ (حضرت حذیفہ بن یمانؓ اور ان کے والد) نے دشمن سے جنگ میں حصہ نہ لینے کا وعدہ کیا تھا، تو حضور ﷺ نے انہیں قتال کی اجازت نہ دے کر ثابت کیا کہ مسلمان کسی حال میں وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

    غزوۂ احد کے موقع پر مسلمانوں کو پہنچنے والے جانی نقصان اور سید الشہداء حضرت حمزہؓ کے جسدِ مبارک کے ساتھ دشمنوں کی بے حرمتی (مثلہ) نے آپ ﷺ کو بے حد غمزدہ کر دیا۔ آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے جب بدلے کے الفاظ نکلے، تو فوراً وحی نازل ہوئی:

    وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ ۝ وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ
    > اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی جتنا تم پر ظلم کیا گیا، لیکن اگر تم صبر کرو تو یقیناً صبر کرنے والوں کے لیے یہی بہتر ہے” (النحل: 126)۔
    > اس الٰہی ہدایت کے بعد رحمتِ عالم ﷺ نے بدلے کا ارادہ ترک کر کے صبر کو اختیار فرمایا اور دشمن کے لیے بھی اخلاقی حدود متعین کر دیں۔
    فتحِ مکہ کے دن وہ کٹر دشمن مجرم بن کر سامنے کھڑے تھے جنہوں نے آپ ﷺ کو لہولہان کیا اور مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ ایک طاقتور فاتح کے پاس بدلہ لینے کے تمام اسباب موجود تھے، لیکن انسانیت کے اس عظیم لیڈر نے لا تثریب علیکم الیوم (آج تم پر کوئی گرفت نہیں) کا اعلان کر کے وہ چارٹر پیش کیا جس کی نظیر جینوا کنونشن بھی پیش نہیں کر سکتا۔ یہ جنگ زمین جیتنے کے لیے نہیں، بلکہ دلوں کی تسخیر اور باطن کے انقلاب کے لیے تھی۔

    اس روشن تاریخ کے برعکس، آج کی نام نہاد “سپر پاورز” کا کردار دیکھئے جنہوں نے پوری دنیا کو معاشی غلام بنانے کے لیے انسانیت کی تذلیل کی انتہا کر دی ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو معصوم بچوں اور خواتین کا مقتل بنا دیا ہے۔ جہاں فتحِ مکہ کے موقع پر درخت کاٹنے تک کی ممانعت تھی، وہاں آج ہسپتالوں، سکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر تباہ کن بمباری کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے ایران پر ظالمانہ پابندیوں اور حالیہ بربریت کے ذریعے ایک پوری قوم کا جینا محال کر رکھا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی سے لے کر افغانستان، عراق اور اب غزہ تک—مغرب کی تاریخ صرف خون خرابے اور منافقت سے عبارت ہے۔ وہ لوگ جو انسانی حقوق کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں، ان کا اصل چہرہ غزہ کے ملبے تلے دبے بچوں کی چیخوں نے پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

    اسلامی تاریخ کے عظیم واقعات محض قصے کہانیاں نہیں بلکہ انسانیت کا وہ عظیم سرمایہ ہیں جو ہر دور میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اسلام دراصل ایک ایسی آفاقی تحریک (Movement) ہے جو انسانی زندگی کو خالقِ کائنات کے دیے ہوئے اصولوں پر استوار کرنا چاہتی ہے۔ اس تحریک کی رہنمائی ہر دور میں انبیاء کرام علیہم السلام نے کی۔ اگرچہ قدیم انبیاء کی زندگیوں کے تفصیلی نقوش زمانے کی گرد میں اوجھل ہو چکے ہیں، لیکن اس الٰہی تحریک کے آغاز، اس کی جدوجہد اور ارتقاء کو سمجھنے کے لیے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ سب سے واضح، مستند اور مکمل نمونہ فراہم کرتی ہے۔

    آپ ﷺ کی زندگی میں ہمیں اس تحریک کے ابتدائی دعوتی مرحلے سے لے کر ریاست کے قیام، داخلی و خارجی چیلنجز اور حکومتی معاملات تک ہر موڑ کی تفصیل ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ ہر حال میںچاہے خوشی ہو یا غم، امن ہو یا جنگ، غربت ہو یا عیش و عشرت—ہمارے لیے واحد مشعلِ راہ ہے۔لیکن یہ ایک المناک سچائی ہے کہ آج مسلمانوں نے خود سیرتِ طیبہ ﷺ سے منہ موڑ لیا ہے۔ جب ہم نے خود اس مشعلِ راہ کو پسِ پشت ڈال دیا، تو ہمیں یہ حق کیسے حاصل ہے کہ ہم دنیا کو انسانیت کا درس دیں؟ آج ہم جن عالمی حالات اور ذلت و رسوائی سے دوچار ہیں، وہ کہیں ہماری اپنی کوتاہیوں اور تباہی کا نتیجہ تو نہیں؟ قرآنِ کریم کا پیغام واضح ہے:
    وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ
    تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، جبکہ اللہ تو بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔” (الشورٰی: 30)

    آج دشمن کی قوتیں ہمیں نگلنے کو تیار ہیں، ہماری صفوں میں انتشار ہے اور ہمیں نسلی، علاقائی اور مسلکی تعصبات میں الجھا کر تباہ کیا جا رہا ہے۔ بھارت سمیت دنیا بھر میں مسلمان سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں عید کے ارد گرد پیش آنے والے تین عظیم غزوے (بدر، احد اور فتحِ مکہ) ہمیں وہ بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں جو ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہے۔

    ان جنگوں کے ذریعے جہاں ہم دنیا کو انسانی اقدار کا سبق پڑھا سکتے ہیں، وہیں مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کو بھی یہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے غیر ملکی طاقتوں کو فوجی اڈے فراہم کرنا کوئی دانش مندی نہیں۔ آج ان طاقتوں نے جنگ تو چھیڑ دی ہے، لیکن چونکہ اس جارحیت کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا، اس لیے اب شکست خوردگی اور مایوسی ان کا مقدر بن چکی ہے۔ اگر ان ممالک نے ہتھیاروں اور غیروں کے سہارے کے بجائے سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اپنے دفاعی و اخلاقی نظام کو مستحکم کیا ہوتا، تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
    بقولِ اقبال:
    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    عالمی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مغرب کا تہذیبی و سیاسی ڈھانچہ ابلیس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے، کیونکہ یہ ظلم و ستم کو “امن، ترقی اور انسانی حقوق” کے خوشنما غلاف میں لپیٹ کر بیچتا ہے۔ مسلمانوں کو اس فریب سے نکل کر اپنی اس روشن تاریخ کی طرف لوٹنا ہوگا جو طاقت کے عروج پر بھی “رحمت و رافت” کا درس دیتی ہے۔

    عید الفطر کے اس موقع پر ہمیں یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ اسلام صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ’’نظامِ عدل و رحمت‘‘ ہے۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا کہ ‘طاقت کا اصل مقصد دوسروں کو کچلنا نہیں بلکہ مظلوم کو انصاف دلانا ہے، جیسا کہ فتحِ مکہ کے موقع پر ثابت ہوا۔ موجودہ دور کی نفرتوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں سیرتِ طیبہ سے عفو و درگزر کا سبق سیکھنا ہوگا۔ہماری عید تب تک حقیقی خوشی نہیں بن سکتی جب تک ہم غزہ کے مظلوموں اور دنیا بھر کے ستم رسیدہ انسانوں کے لیے آواز بلند نہ کریں۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی امن چاہتی ہیں، تو انہیں ایٹم بموں کے انبار لگانے کے بجائے ’’فتحِ مکہ کے نسخۂ کیمیا‘‘کو اپنانا ہوگا۔ آج مسلمانوں کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ اس پاکیزہ مشن کے داعی بنیں گے جہاں انقلاب طاقت کے بل پر نہیں بلکہ اخلاق اور انسانیت کے بل پر لایا جاتا ہے۔ عید کا پیغام دراصل اسی’’رحمتِ عالمی‘‘ کا تسلسل ہے جو دشمن کو بھی سینے سے لگا لینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین