Tuesday, March 24, 2026
homeاہم خبریںسپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: مذہب کی تبدیلی کے بعد درج فہرست...

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: مذہب کی تبدیلی کے بعد درج فہرست ذات (ایس سی) کا درجہ ختم ہو جائے گا

نئی دہلی:انصاف نیوز آن لائن

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ہندو، سکھ یا بدھ مت کے علاوہ کسی دوسرے مذہب (جیسے عیسائیت یا اسلام) کو اختیار کر لیتا ہے، تو وہ ‘درج فہرست ذات’ (Scheduled Caste) کی حیثیت سے ملنے والے تمام مراعات، فوائد اور قانونی تحفظات کا حق کھو دیتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ آئین (درج فہرست ذات) آرڈر، 1950 کی شق 3 کے تحت ‘ایس سی’ (SC) کا درجہ صرف ان افراد تک محدود ہے جو ہندو، سکھ یا بدھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ کسی دوسرے مذہب میں شمولیت کے ساتھ ہی یہ درجہ فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ عیسائیت اختیار کرنے والا شخص ‘درج فہرست ذات و قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ’ (SC/ST Act) کے تحت کسی کارروائی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

یہ فیصلہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے چنتھاڑا آنند کے کیس میں آیا ہے۔ مذکورہ شخص نے عیسائیت اختیار کر لی تھی اور وہ بطور پادری (Pastor) خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس نے کچھ افراد کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرایا، جس پر ملزمان نے موقف اختیار کیا کہ شکایت کنندہ اب عیسائی ہے، لہٰذا وہ اس ایکٹ کے تحت تحفظ کا اہل نہیں ہے۔

آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے 30 اپریل 2025 کو فیصلہ دیا تھا کہ چونکہ عیسائیت میں ذات پات کا نظام موجود نہیں ہے، اس لیے مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایس سی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کے **جسٹس پرشانت کمار مشرا** اور **جسٹس منموہن** پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔

عدالت نے کہا کہ اگرچہ شکایت کنندہ کے پاس تحصیلدار کا جاری کردہ ‘ہندو-مڈیگا’ ذات کا سرٹیفکیٹ موجود ہے ، لیکن شواہد سے ثابت ہوا کہ وہ فعال طور پر عیسائی مذہب پر عمل پیرا تھا۔ عدالت نے کہا کہ محض پرانا سرٹیفکیٹ کسی شخص کو ایس سی کا رکن ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں اگر وہ عملی طور پر دوسرا مذہب اپنا چکا ہو۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص دوبارہ اپنے اصل مذہب (ہندو، سکھ یا بدھ مت) میں واپس آ جائے اور اس کی برادری اسے قبول کر لے، تو وہ ایس سی کے حقوق دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔

مذہب کی تبدیلی کے ساتھ ہی تعلیمی و ملازمت میں ریزرویشن، مخصوص سیاسی نشستوں پر حق اور اسکالرشپس جیسے سرکاری فوائد فوری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔

ایس سی (SC) اور ایس ٹی (ST) میں فرق

عدالت نے یاد دلایا کہ درج فہرست قبائل (ST) کے لیے یہ اصول مختلف ہے۔ ایس ٹی کی حیثیت مذہب کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتی کیونکہ یہ شناخت ‘مذہب’ کے بجائے ‘نسل اور ثقافت’ پر مبنی ہوتی ہے۔

بالاکرشنن کمیشن کی اہمیت
واضح رہے کہ دلت عیسائیوں اور دلت مسلمانوں کو ایس سی کا درجہ دینے کا معاملہ اب بھی زیرِ بحث ہے۔ حکومتِ ہند نے سابق چیف جسٹس کے جی بالاکرشنن کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا ہے جو اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم، جب تک اس کمیشن کی رپورٹ اور پارلیمنٹ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں آتا، موجودہ قانون (تبدیلیِ مذہب = ایس سی حیثیت کا خاتمہ) نافذ العمل رہے گا۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 1950 کے صدارتی آرڈر کی قانونی پوزیشن کو مزید مستحکم کرتا ہے کہ عیسائیت یا اسلام جیسے مذاہب اختیار کرنے پر درج فہرست ذات کا درجہ قانونی طور پر ختم تصور کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین