Tuesday, March 24, 2026
homeاہم خبریںایران اسرائیل جنگ: تہران کے قلب میں اسرائیلی بمباری، تل ابیب پر...

ایران اسرائیل جنگ: تہران کے قلب میں اسرائیلی بمباری، تل ابیب پر ایرانی میزائلوں کی بوچھاڑ

تل ابیب:ایجنسی

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے 25 ویں روز کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ منگل کے روز دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

تہران میں شدید بمباری: 50 سے زائد اہداف نشانہ
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فضائیہ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب تہران کے قلب میں سنگین کارروائیاں کی ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، شمال اور وسطی ایران میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز، بیلسٹک میزائل مراکز اور فضائی دفاعی نظام سمیت 50 سے زائد حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا ‘چینل 12’ نے مغربی ایران میں حملوں کی ایک نئی لہر کی بھی اطلاع دی ہے۔

تل ابیب پر ایرانی میزائل حملہ: متعدد زخمی
جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق، تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں سائرن بجنے کے بعد زوردار دھماکے سنے گئے۔ میزائلوں کے ٹکڑے تل ابیب کے 7 مختلف مقامات پر گرے، جس سے 3 عمارتیں تباہ اور کم از کم 6 افراد زخمی ہو گئے۔ دیمونا اور بئر السبع کے علاقوں میں بھی میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے میزائلوں نے اسرائیل کے جدید ترین دفاعی نظام کو ناکام بنا دیا ہے۔

توانائی کی تنصیبات پر حملے اور ٹرمپ کی دھمکی
اصفہان اور خرم شہر میں توانائی کی اہم تنصیبات اور گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہوئے جس میں انہوں نے ‘آبنائے ہرمز’ نہ کھولنے کی صورت میں ایرانی بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

امریکی مداخلت: ہزاروں میرینز کی آمد
عالمی میڈیا ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کے مطابق، صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہوتے ہی جمعہ تک ہزاروں امریکی میرینز مشرقِ وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔ ‘نیویارک ٹائمز’ نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ‘جزیرہ خارگ’ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے چھاتا بردار فوجیوں کے جنگی بریگیڈ کی تعیناتی پر بھی غور کر رہا ہے۔

پس منظر اور سیاسی تعطل
واضح رہے کہ 28 فروری سے جاری اس مشترکہ فوجی مہم میں تہران سمیت کئی ایرانی شہر روزانہ بمباری کا شکار ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی و امریکی ذرائع ایرانی اعلیٰ قیادت کی ہلاکتوں کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم تہران کی جانب سے ان کی تردید کی جا رہی ہے۔ سیاسی محاذ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ “بنیادی نکات” پر اتفاق کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ایرانی اسپیکر محمد باقر قاليباف نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین