کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن
چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر میں داخل ہونے سے پہلے ابھیشیک بنرجی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’چوری پکڑی گئی ہے‘‘۔ دفتر سے باہر نکلنے کے بعد انہوں نے الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کی اور چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دفتر کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج جاری کریں۔ بنرجی کا الزام ہے کہ پیر کے روز بی جے پی کے لوگ بوریوں میں بھر کر ‘فارم-6’ لے کر کمیشن کے دفتر میں داخل ہوئے۔ ان کا مبینہ مقصد بہار اور اتر پردیش کے ووٹرز کو غیر قانونی طور پر مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ میں شامل کرنا ہے۔
پیر کی سہ پہر ابھیشیک بنرجی کی آمد سے قبل ہی ریاستی وزراء چندریما بھٹاچاریہ، ششی پانجا، رکن اسمبلی نینا بنرجی اور سابق رکن پارلیمنٹ شانتنو سین اسٹینڈ روڈ پر واقع شپنگ کارپوریشن بلڈنگ پہنچ چکے تھے۔ ابھیشیک نے اندر جاتے وقت دعویٰ کیا کہ ایک بڑی چوری پکڑی گئی ہے۔ کافی دیر بعد باہر نکل کر انہوں نے پریس کانفرنس کی اور کمیشن پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔
ابھیشیک بنرجی کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی اپنی جیت یقینی بنانے کے لیے بیرونی ریاستوں کے ووٹرز کو بنگال کی فہرست میں جگہ دلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی لیڈر امت مالویہ کی ہدایت پر یہ نام فہرست میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، تقریباً 30 ہزار ‘فارم-6’ جمع کرائے گئے ہیں۔ کمیشن کے قواعد کے تحت اگر اتنی بڑی تعداد میں فارم جمع ہوں تو کم از کم 600 افراد کا ذاتی طور پر موجود ہونا ضروری ہے۔ ابھیشیک نے کہا: “ہم نے کمیشن سے پچھلے 24 گھنٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سچائی واضح ہو جائے، لیکن کمیشن کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔”
واضح رہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے ‘فارم-6’ استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارم وہ لوگ بھرتے ہیں جو پہلی بار ووٹر بن رہے ہوں یا ایک حلقے سے دوسرے حلقے میں منتقل ہوئے ہوں۔ اس کے ساتھ عمر اور رہائش کا ثبوت دینا لازمی ہوتا ہے۔
ابھیشیک بنرجی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر طنز کرتے ہوئے کہا: ’’وہ کہتے ہیں کہ بنگال کا آبادیاتی تناسب (Demography) بدل رہا ہے، دراصل وہ اس طرح بدلا جا رہا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی کا طریقہ کار یہی ہے کہ کچھ پرانے ووٹرز کے نام کاٹ دو اور کچھ نئے شامل کر دو؛ اسی طرح انہوں نے مہاراشٹر، ہریانہ اور دہلی میں کامیابی حاصل کی ہے اور اب بنگال میں بھی یہی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی شیڈول کے اعلان کے دو ہفتوں کے اندر 395 سرکاری افسران کا تبادلہ کرنے کے باوجود جب فائدہ نہیں ہوا، تو اب یہ راستہ اپنایا گیا ہے۔
ابھیشیک بنرجی نے اعلان کیا کہ وہ اس ‘فارم-6 اسکینڈل’ کو سپریم کورٹ تک لے جائیں گے۔ انہوں نے چیف الیکٹورل آفیسر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم ان کے دفتر میں سی سی ٹی وی کہاں ہے، جبکہ وہ بنگال کے 80 ہزار بوتھوں پر سی سی ٹی وی لگانا چاہتے ہیں!
دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کمیشن کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں دفتر کی منتقلی کی وجہ سے پرانے دفتر سے فائلیں اور سامان لایا جا رہا تھا اور ابھیشیک بنرجی کے الزامات درست نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ریاست میں ووٹرز کی کل تعداد 7 کروڑ 66 لاکھ تھی، جس میں سے تصحیح کے دوران 58 لاکھ نام نکال دیے گئے تھے۔ 28 فروری کو شائع ہونے والی حتمی فہرست میں 7 کروڑ 8 لاکھ نام شامل تھے، جبکہ تقریباً 60 لاکھ نام ‘زیرِ غور’ (Under consideration) فہرست میں تھے۔ ان ناموں پر سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ججز کام کر رہے ہیں اور ابھیشیک بنرجی اسی معاملے کی وضاحت کے لیے کمیشن کے دفتر گئے تھے۔
