عالیہ یونیورسٹی کا 19واں یومِ تاسیس: تعلیمی پسماندگی دور کرنے اور معیارِ تعلیم کی بلندی کا عزم
کلکتہ: انصاف نیوز آن لائن
عالیہ یونیورسٹی کے 19ویں یومِ تاسیس کے موقع پر وائس چانسلر **پروفیسر رفیق الاسلام** نے یونیورسٹی کو معیاری بنانے اور اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالیہ یونیورسٹی نے 2008 میں چند فیکلٹی ممبران کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، لیکن گزشتہ 18 سالوں میں اس ادارے نے تحقیق، پبلیکیشنز اور طلبہ کی پلیسمنٹ میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔
واضح رہے کہ 1780 میں قائم کردہ تاریخی ’کلکتہ مدرسہ‘‘کو 2008 میں بائیں محاذ کی حکومت نے یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا۔ کلکتہ مدرسہ نے بنگال کے مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ میں ہمیشہ تاریخی ورثے کا حامل اور اہم کردار ادا کیا ہے۔ پروفیسر رفیق الاسلام نے اس تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالیہ یونیورسٹی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں بااختیار بنانے کے مقصد پر قائم ہے۔ ریاستی اقلیتی یونیورسٹی کے طور پر یہ ادارہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھا رہا ہے، بلکہ شمولیت، تنوع اور تعلیمی فضیلت کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نومبر 2024 میں نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) سےB+ گریڈ حاصل کر کے یونیورسٹی نے اپنے تعلیمی معیار کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔

یونیورسٹی کے نیو ٹاؤن کیمپس میں اتوار کے روز یومِ تاسیس انتہائی علمی وقار اور جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ یہ موقع یونیورسٹی کے دو دہائیوں پر محیط علمی سفر، ہمہ جہت ترقی اور سماجی خدمات کی علامت بن گیا۔ اس پروقار تقریب میں مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، سابق و موجودہ بیوروکریٹس اور مدارس کے سربراہان نے شرکت کی۔جن میں شیخ ابو طاہر قمر الدین** (صدر مغربی بنگال بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن)،احمد حسن عمران (چیئرمین مغربی بنگال مائنارٹی کمیشن)،پروفیسر آشوتوش گھوش(وائس چانسلر کلکتہ یونیورسٹی)،پروفیسر ابو طالب خان (وائس چانسلر بسوا بنگلہ وشو ودیالیہ)،پوتر سرکار (سابق وائس چانسلر رابندر بھارتی یونیورسٹی)شامل تھے
تقریب کے ثقافتی حصے میں طلبہ نے اسکیٹس، ڈرامہ، مائم (Mime) اور موسیقی کے ذریعے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ یومِ تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ ہفتہ وار مقابلوں (کوئز، تقریر، ترانہ وغیرہ) کے فاتحین میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر تعلیمی سیشن 2024-25 کی سالانہ رپورٹ اور نیوز لیٹرکا اجراء کیا گیا، اور یونیورسٹی کی تاریخ پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔
یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل، این ایس ایس (NSS) اور این سی سی (NCC) نے اپنی کارکردگی کو اجاگر کرنے کے لیے اسٹالز لگائے۔ آرٹ گیلری شرکاء کی توجہ کا خاص مرکز رہی، جہاں شعبہ تعلیم کے طلبہ اور اساتذہ کے فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔

سابق وائس چانسلر پروفیسر ابو طالب خان نے کرائے کے کیمپس سے مستقل کیمپس تک کے چیلنجنگ سفر کو یاد کرتے ہوئے موجودہ انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ “معیارِ تعلیم ایک مسلسل عمل ہے، یہ راتوں رات حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مسلسل کوششیں درکار ہوتی ہیں۔” کلکتہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر آشوتوش گھوش نے بھی اساتذہ اور طلبہ کی لگن کی تعریف کی۔
تقریب کے اختتام پر فیکلٹی آف ہیومینٹیز کے ڈین اور آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین **پروفیسر سیف اللہ** نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی علمی بلندیوں اور سماجی شمولیت کے مشن کو جاری رکھے گی۔
