کولکتہ: انصاف نیوز آن لائن
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے فاراکا (Farakka) حلقے سے کانگریس کے امیدوار مہتاب شیخ، جن کا نام فروری میں حتمی انتخابی فہرستوں میں “زیرِ سماعت مقدمات” (Adjudication cases) کی فہرست میں ڈال دیا گیا تھا، اب اطمینان کا سانس لے رہے ہیں۔ اتوار (5 اپریل) کو ٹریبونل نے ان کے نام کی بحالی کا تاریخی حکم جاری کر دیا۔
کولکتہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مہتاب شیخ نے کہا: “بالآخر انصاف کی جیت ہوئی۔ میرا نام کلیئر ہو کر بحال ہو چکا ہے، اب میں اپنی نامزدگی کا عمل بلا روک ٹوک آگے بڑھا سکتا ہوں۔” واضح رہے کہ مرشدآباد ضلع کا فاراکا حلقہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے، جہاں اس بار اقلیتی جماعتوں کی فعالیت کے باعث سخت مقابلے کی توقع ہے۔
الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق، یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے جو کسی امیدوار کے حوالے سے “منطقی تضاد” (Logical Discrepancy) کے معاملے پر دیا گیا۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ٹی ایس سیواگنم کی سربراہی میں قائم ٹریبونل نے یہ فیصلہ سنایا۔ مہتاب شیخ نے بتایا کہ ان کا نام اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) کے عمل کے دوران تکنیکی بنیادوں پر کاٹ دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ آفیشل امیدوار ہونے کے باوجود کاغذات جمع نہیں کروا پا رہے تھے۔
ٹریبونل میں سماعت کے دوران مہتاب شیخ نے آدھار کارڈ، پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس جیسے دستاویزی ثبوت پیش کیے۔ ان کے وکیل نے دلیل دی کہ والد کے نام کے ہجوں میں معمولی فرق امیدوار کی اپنی شناخت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ عدالت نے اس دلیل کو قبول کرتے ہوئے اتوار کی رات ہی ضمنی فہرست میں ان کا نام شامل کرنے کی ہدایت دی۔
اس فیصلے نے فاراکا کی سیاسی صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ سب کی نظریں اب موجودہ ایم ایل اے منیر الاسلام پر ہیں، جنہیں ترنمول کانگریس نے اس بار ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ انہوں نے احتجاجاً کانگریس کا رخ کیا تھا، لیکن مہتاب شیخ کی بحالی کے بعد ان کی پوزیشن غیر یقینی ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کو ایک ریلی کے دوران منیر الاسلام کو بالواسطہ انتباہ دیا ہے کہ اگر انہوں نے پارٹی کے خلاف جا کر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تو انہیں معطل کر دیا جائے گا۔ فاراکا میں نامزدگی کی آخری تاریخ 6 اپریل ہے، اور ٹریبونل کے اس فیصلے نے مہتاب شیخ کے لیے انتخابی میدان صاف کر دیا ہے۔
