Friday, April 10, 2026
homeاہم خبریں# انتخابات صرف ہار جیت کا نام نہیں بلکہ ایک سبق بھی...

# انتخابات صرف ہار جیت کا نام نہیں بلکہ ایک سبق بھی ہوتاہے–بالی گنج سے سی پی آئی (ایم) کی پُرعزم امیدوار آفرین بیگم بنگال کی سیاست کا ابھرتا ہوا چہرہ

نور اللہ جاوید
کلکتہ:
ایک ایسے وقت میں جب نہ صرف بنگال بلکہ ملک کی سیاست زوال پذیر ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں، بالی گنج سے آفرین بیگم کی صورت میں امید کی ایک کرن نظر آتی ہے۔ بالخصوص مسلم کمیونٹی میں، جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سیاسی قیادت کا فقدان رہا ہے اور خاندانی سیاست یا مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد حاوی رہے ہیں، وہاں جادھو پور یونیورسٹی کی یہ پی ایچ ڈی اسکالر ایک نئی روایت قائم کر رہی ہیں۔

آفرین بیگم، جو ”نئی تعلیمی پالیسی“ (NEP) پر تحقیق کر رہی ہیں، روایتی جذباتی نعروں کے بجائے تعلیم، صحت، سماجی انصاف اور انسانی وسائل جیسے ٹھوس موضوعات پر بات کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ”میں بالی گنج کی بیٹی ہوں، یہیں پیدا ہوئی اور یہیں سے تعلیم حاصل کی۔ سیاست میں نئی ضرور ہوں، مگر طلباء تنظیم (SFI) اور سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے اس حلقے سے میرا رشتہ ہمیشہ قائم رہا۔“

ایس آئی آر (SIR) اور ممتا بنرجی کا کردار
بنگال میں 90 لاکھ ووٹروں کے نام خارج ہونے اور سی پی آئی (ایم) پر ”اچھا ایس آئی آر“ کی حمایت کے الزام پر آفرین بیگم دو ٹوک موقف رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ”انتقال کر جانے والے یا منتقل ہونے والے شہریوں کے نام فہرست سے نکالنا ایک قانونی ضرورت ہے، مگر جس طرح سے یہ ایس آئی آر (SIR) کیا گیا، وہ ایک سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے۔“ انہوں نے ممتا بنرجی کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے افسران فراہم کرنے میں کوتاہی برتی، جس کا فائدہ اٹھا کر بی جے پی نے باہر سے افسران لا کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی۔ ان کا الزام ہے کہ ترنمول کانگریس ظاہری طور پر تو بی جے پی کی مخالفت کرتی ہے، لیکن پردے کے پیچھے ان کی سہولت کاری کر رہی ہے۔

بالی گنج ایک ہائی پروفائل حلقہ ہے جہاں اس بار مقابلہ انتہائی دلچسپ ہے۔ ٹی ایم سی کے سوبھندیب چٹوپادھیائے، کانگریس کے روہن مترا، بی جے پی کی شتروپا اور سی پی آئی (ایم) کی آفرین بیگم میدان میں ہیں۔ بی جے پی امیدوار کے علاوہ (جنہوں نے 2011 میں الیکشن لڑا تھا)، کسی بھی امیدوار نے گزشتہ الیکشن میں اس حلقے سے قسمت آزمائی نہیں کی۔

حلقے کی صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف ‘بھدرلوک’ کے ترقی یافتہ علاقے ہیں تو دوسری طرف وارڈ نمبر 60 جیسے مسلم اکثریتی علاقے کئی دہائیوں سے پینے کے صاف پانی، صفائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے جوجھ رہے ہیں۔ 2022 کے ضمنی انتخاب میں سائرہ شاہ حلیم کی کارکردگی (صرف 10 ہزار ووٹوں کا فرق) نے ثابت کیا تھا کہ یہاں اصل مقابلہ ٹی ایم سی اور سی پی آئی (ایم) کے درمیان ہی ہے۔

مذہبی بائنری بمقابلہ عوامی مسائل
آفرین بیگم کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نے کبھی مذہب کی سیاست نہیں کی۔ وہ بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست اور ٹی ایم سی کے ترقیاتی فقدان—دونوں کے خلاف میدان میں ہیں۔ ان کے مطابق، بالی گنج میں 23 ہزار ووٹ کاٹے گئے جن میں سے 18 ہزار مسلمانوں کے ہیں، لیکن انہیں امید ہے کہ موجودہ ووٹرز بی جے پی کی شکست کو یقینی بنائیں گے۔

تعلیمی پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحقیق کے مطابق نئی تعلیمی پالیسی (NEP) طلباء کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے ممتا بنرجی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقلیتوں کے ووٹ تو لیتی ہیں، لیکن راجیہ سبھا میں بی جے پی کے لائے گئے اہم بلوں (جیسے وقف بل اور تعلیمی پالیسی) پر ان کا رویہ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ان کے الفاظ میں: ”ترنمول اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔“

بغیر کسی سیاسی پس منظر کے میدان میں اترنے والی اس نوجوان امیدوار کا عزم ہے کہ الیکشن کا نتیجہ جو بھی ہو، وہ عوامی خدمت اور سیاست میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین