انصاف نیوز آن لاین
بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 157ویں نمبر پر آ گیا ہے، اس کا اسکور 31.96 ہے۔ یہ 2025 میں 151ویں نمبر کے مقابلے میں مزید تنزلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، “ہندو قوم پرست نظریہ ایک غالب قوت بن چکا ہے- اور متعدد میڈیا ادارے مذہبی مواد کو غیر متناسب کوریج دیتے ہیں، جو بعض اوقات”کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتے ہیں
ریپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک پہلی بار “مشکل” یا “انتہائی سنگین” زمرے میں آگئے ہیں، جبکہ 180 ممالک کا عالمی اوسط اسکور گزشتہ 25 برسوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک صورت حال مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں دیکھی گئی ہے، جسے RSF نے صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین خطہ قرار دیا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 220 سے زائد فلسطینی صحافی ہلاک ہو چکے ہیں، اس کے نتیجے میں اس خطے کے 19 میں سے 18 ممالک “انتہائی سنگین” یا “مشکل” زمرے میں شامل ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت میں پریس کی آزادی ایک پیچیدہ قانونی، معاشی، سماجی اور سیکیورٹی ماحول سے متاثر ہے، اس کے باعث صحافیوں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں پریس کی آزادی بحران کا شکار ہے، جہاں 2014 سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی حکومت قائم ہے۔
رپورٹ میں خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن ہراسانی اور منظم مہمات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کشمیر یا ماحولیاتی تنازعات جیسے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو گرفتاری اور تشدد سمیت سنگین خطرات کا سامنا ہے۔
قانونی سطح پر، اظہارِ رائے کی آئینی ضمانت کے باوجود، حکومتیں نوآبادیاتی دور کے قوانین جیسے غداری (sedition)، ہتکِ عزت (defamation) اور ریاست مخالف دفعات کو میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال بھی اب صحافیوں کے خلاف بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں حالیہ قوانین، جیسے 2023 کا ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی (ترمیمی) قواعد، اور ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، ان کے ذریعے ریاست کو میڈیا مواد پر زیادہ کنٹرول حاصل ہو رہا ہے۔
معاشی طور پر، بھارتی میڈیا اشتہارات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جن میں حکومت ایک بڑا ذریعہ ہے، جس سے ادارتی آزادی متاثر ہوتی ہے—خصوصاً چھوٹے میڈیا اداروں کی۔
میڈیا کی ملکیت چند بڑے گروپس تک محدود ہوتی جا رہی ہے، جن میں گوتم اڈانی سے منسلک ادارے بھی شامل ہیں۔ NDTV کا حصول اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جسے تنقیدی صحافت کے دائرے میں کمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سماجی و ثقافتی سطح پر، رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا ملک کے تنوع کی مکمل عکاسی نہیں کرتا، اور اعلیٰ ذات کے ہندو مرد قیادت کے عہدوں پر غالب ہیں۔
مزید برآں، ہندو قوم پرست بیانیے میڈیا ڈسکورس کو متاثر کر رہے ہیں، اس کی وجہ سے اختلافی آراء اور اقلیتوں کی آوازوں کے لیے جگہ محدود ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس، خبر لہریہ جیسے پلیٹ فارمز کو زیادہ جامع صحافت کی مثال قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، “خصوصاً ہندی ٹی وی میڈیا اپنے نشریاتی وقت کا بڑا حصہ مذہبی موضوعات پر صرف کرتا ہے، جو بعض اوقات مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دیتا ہے۔”
تحفظ کے حوالے سے، RSF نے بھارت کو صحافیوں کے لیے خطرناک ممالک میں شمار کیا ہے، جہاں ہر سال اوسطاً دو سے تین صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں۔
حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو اکثر ہراسانی، دھمکیوں، گرفتاریوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو سیاسی گروہوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور آن لائن نیٹ ورکس کی جانب سے کیا جاتا ہے۔
“سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والی مہمات منظم انداز میں چلائی جاتی ہیں، خاص طور پر خواتین صحافیوں کے خلاف، جن کا ذاتی ڈیٹا بھی لیک کیا جاتا ہے۔”
رپورٹ میں کشمیر اور ماحولیاتی موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی صورتحال کو خاص طور پر تشویشناک قرار دیا گیا ہے، جہاں انہیں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے ہراسانی کا سامنا رہتا ہے، اور بعض اوقات طویل عرصے تک حراست میں رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2001 کے بعد قومی سلامتی سے متعلق قوانین میں توسیع نے معلومات تک رسائی کے حق کو مزید محدود کیا ہے۔
گزشتہ ایک سال میں عالمی سطح پر صحافت کے قانونی ماحول میں تیزی سے تنزلی دیکھی گئی ہے، جو میڈیا کی مجرمانہ کاری کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
مجموعی طور پر 100 ممالک میں پریس فریڈم اسکور میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یورپ اور وسطی ایشیا میں یورپی یونین کے ممالک اب بھی سرفہرست ہیں، تاہم صورتحال یکساں نہیں۔ اسٹونیا دوسرے سے تیسرے نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ بیلاروس، آذربائیجان، روس اور ترکمانستان اب بھی نچلی سطح پر موجود ہیں۔
امریکہ 7 درجے تنزلی کے بعد 64ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
ایشیا پیسیفک خطے میں زیادہ تر ممالک کو “مشکل” یا “انتہائی سنگین” زمرے میں رکھا گیا ہے، جبکہ سب صحارا افریقہ میں بھی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ اریٹیریا اس فہرست میں آخری نمبر پر ہے۔
مجموعی طور پر، 2026 کا انڈیکس دنیا بھر میں آمریت کے بڑھتے رجحان، سیاسی دباؤ اور کمزور میڈیا نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔
