نور اللہ جاوید
بارہویں صدی میں مسلمانوں کے عہد سے قبل، بنگال اپنی جغرافیائی حدود میں مقید ایک ایسی ریاست تھی جس کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع تھا۔ سین خاندان کی سخت گیر پالیسیوں نے بنگال کو ایک ایسے جزیرے میں تبدیل کر رکھا تھا جہاں دوسری تہذیب و تمدن سے استفادہ کرنے کی خواہش مفقود تھی اور پورا معاشرہ ذات پات کے سخت نظام میں جکڑا ہوا تھا۔ سماجی انصاف، رواداری اور ہم آہنگی، جو آج بنگالی معاشرے کی پہچان ہے، اس وقت بالکل نہیں تھی۔
بنگال طویل عرصے تک پال خاندان (Pala Dynasty) کے زیرِ اثر رہا جو بدھ مت کے پیروکار تھے۔ بدھ مت کی تعلیمات میں مساوات اور رواداری کی وجہ سے مقامی آبادی، جنہیں ’’نشاد‘‘ یا قدیم قبائل کہا جاتا ہے، کافی حد تک پرسکون تھی۔ لیکن گیارہویں صدی میں جب جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ‘سین خاندان نے اقتدار سنبھالا، تو انہوں نے بدھ مت کو جڑ سے اکھاڑنے اور برہمنیت کے احیاء کی مہم شروع کی۔ سین حکمرانوں نے بنگال میں ایک ایسا سخت گیر ’’ورنا‘‘ (Varna) نظام نافذ کیا جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ سماج کو اچھوت اور اعلیٰ ذاتوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اعلیٰ ذات (برہمن و کشتریہ) وہ لوگ تھے جو باہر سے ہجرت کر کے آئے تھے اور تمام سیاسی و مذہبی حقوق پر قابض تھے۔ مقامی آبادی (شودر و اچھوت) جنہیں ‘ملیچھ’’یا ‘چندال‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا، انہیں تعلیم حاصل کرنے، مندروں میں داخل ہونے اور یہاں تک کہ معزز پیشے اختیار کرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔
نہارنجن رائے جیسے مورخین کے مطابق، اس دور میں اڑتالیس سے زائد ذیلی ذاتیں بنائی گئی تھیں جن کا مقصد صرف نچلی ذاتوں کا استحصال تھا۔ جب کسی قوم کو اس کی اپنی ہی زمین پر ‘اجنبی اور ‘ناپاک قرار دے دیا جائے، تو وہاں بغاوت کے بیج خود بخود پنپنے لگتے ہیں۔ یہی وہ سماجی گھٹن تھی جس نے اسلام کے لیے زمین ہموار کی۔ جب بختیار خلجی کے سپاہی اور ان کے پیچھے آنے والے صوفیائے کرام نے ’’اللہ کے سامنے سب برابر ہیں‘‘ کا نعرہ لگایا، تو یہ نعرہ پسے ہوئے کسانوں اور کاریگروں کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کے لوگوں نے، جو برہمنیت کے جبر سے سب سے زیادہ متاثر تھے، اسلام کو ایک ‘نجات دہندہ (Saviour) مذہب کے طور پر قبول کیا۔ رچرڈ ایم ایٹن کی تحقیق بتاتی ہے کہ اسلام کی اشاعت تلوار کے زور پر نہیں، بلکہ اس ‘سماجی آزادی(Social Liberation) کے ذریعے ہوئی جو مسلم حکمرانوں نے فراہم کی۔ سین خاندان کا زوال دراصل اس فرسودہ سماجی نظام کا زوال تھا جو انسانوں کے درمیان تفریق پیدا کرتا تھا۔
بنگال کی تاریخ میں 1204ء سے 1338ء تک کا عرصہ دہلی سلطنت کے زیرِ اثر رہا، لیکن تیرہویں صدی کے وسط سے ہی بنگال کے گورنروں نے اپنی آزادانہ شناخت کی تڑپ دکھانی شروع کر دی تھی۔ اس کا حتمی نتیجہ شمس الدین الیاس شاہ کی شکل میں نکلا، جنہوں نے 1342 میں ‘سلطنتِ بنگالہ کی بنیاد رکھی اور خود کو ‘شاہِ بنگالہ کہلوایا۔ الیاس شاہی خاندان نے پہلی بار بنگال کے تینوں بڑے حصوں (لکھنوتی، سونارگاؤں اور ستگاؤں) کو ایک پرچم تلے متحد کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بنگال نے دہلی کے سیاسی دباؤ سے خود کو آزاد کر کے اپنی خارجہ پالیسی مرتب کی۔ بنگال کے سلاطین نے چین کے منگ (Ming) خاندان اور خراسان کے تیموریوں کے ساتھ براہِ راست سفارتی تعلقات استوار کیے۔
مسلم حکمرانوں نے گوڑ (Gaur) اور پانڈوا (Pandua) جیسے شہروں کو عالمی معیار کے مطابق آباد کیا۔ ابنِ بطوطہ، جس نے اس دور میں بنگال کا دورہ کیا تھا، اپنے سفرنامے میں لکھتا ہے کہ: ’’اس نے دنیا میں اتنا سستا اور نعمتوں سے بھرا ہوا خطہ کہیں نہیں دیکھا۔ شہروں میں چوڑی سڑکیں، پختہ نالیاں، عظیم الشان مساجد اور سرائے تعمیر کی گئیں، جنہوں نے بنگال کو ایک جدید تمدن سے روشناس کرایا‘‘۔ بنگال کی معاشی خوشحالی کا اصل راز اس کی صنعت و حرفت میں پوشیدہ تھا۔ مسلم حکمرانوں نے نہ صرف زراعت کو فروغ دیا بلکہ صنعت گری کو شاہی سرپرستی فراہم کر کے اسے بین الاقوامی برانڈ بنا دیا۔
بنگال کی ‘ململ قرونِ وسطیٰ کی سب سے قیمتی اور نایاب شے سمجھی جاتی تھی۔ ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح اور مرشدآباد میں تیار ہونے والی یہ نفیس پارچہ بافی اس قدر باریک تھی کہ ایک پورا تھان ایک انگوٹھی سے گزارا جا سکتا تھا۔ مسلم سلاطین نے ڈھاکہ میں ‘شاہی کارخانےقائم کیے جہاں ماہر کاریگروں کو بہترین مراعات دی جاتی تھیں۔ یہ کپڑا روم، مصر، ترکی اور یورپ کے شاہی گھرانوں کی زینت بنتا تھا۔ اسے اس دور کا ‘سفید سونا’ کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی قیمت چاندی اور سونے کے برابر وصول کی جاتی تھی۔
ململ کے ساتھ ساتھ بنگال کا ریشم (Silk) بھی دنیا بھر میں مشہور تھا۔ کیسنبازار (Cossimbazar) اور مالدہ ریشم کی پیداوار کے بڑے مراکز تھے۔ ایرانی اور عرب تاجر ان اشیاء کی خریداری کے لیے بنگال کی بندرگاہوں پر قطاریں لگاتے تھے۔ مسلم دور میں ‘آبادکاری’ کی ایک منظم تحریک چلائی گئی۔ صوفیاء اور مقامی مبلغین نے گھنے جنگلات کو صاف کر کے انہیں قابلِ کاشت زمینوں میں بدلا۔ چاول کی تین فصلیں لینے کا رواج اسی دور میں عام ہوا، جس کی وجہ سے بنگال میں کبھی قحط نہیں پڑا اور یہ خطہ پورے ہندوستان کے لیے ‘اناج کا گودام بن گیا۔ بنگال کی معیشت کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کی کرنسی ‘ٹکا(چاندی کا سکہ) بین الاقوامی تجارت کی مستحکم ترین علامت تھی۔ سکوں پر درج عبارات اور ڈھلائی کا معیار اس وقت کے معاشی استحکام کی گواہی دیتا ہے۔
آج جب بنگال کی تاریخ پر بحث ہوتی ہے، تو اکثر اس معاشی احسان کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگال کی متمول ثقافت اور اس کی معاشی خوشحالی کی عمارت مسلم دور کی محنت اور وژن پر کھڑی ہے۔ مسلمانوں نے بنگال کو ایک بنجر زمین سے نکال کر “سونار بنگلہ” (سونے کا بنگال) بنانے میں اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ مسلمانوں نے بنگال کو “قوموں کا خزانہ” بنایا۔ مسلمانوں کی آمد سے قبل کی معیشت کے مقابلے میں مسلم دور کی معیشت زیادہ منظم، صنعتی اور عالمی تھی۔ اگر مسلم دور میں یہ معاشی استحکام اور صنعتی بنیادیں نہ رکھی جاتیں، تو شاید بنگال کبھی وہ “سونار بنگلہ” نہ بن پاتا جس پر آج پوری دنیا کی نظریں ہیں۔
کسی بھی معیشت کی ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور متحد جغرافیہ ضروری ہے۔ مسلمانوں سے پہلے بنگال ’’رادھ‘‘، ’’ونگا‘‘ اور ’’گوڑ‘‘ جیسی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا، جہاں مسلسل جنگیں معیشت کو نقصان پہنچاتی تھیں۔ شمس الدین الیاس شاہ نے ان تمام حصوں کو متحد کر کے ایک مرکزی انتظامیہ قائم کی۔ اس اتحاد نے تاجروں کے لیے محفوظ راستے اور یکساں ٹیکس کا نظام (ٹکہ کی صورت میں) فراہم کیا، جس سے تجارت میں تیزی آئی۔ صوفیاء اور مسلم آباد کاروں نے مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کے گھنے دلدلی جنگلات کو صاف کر کے انہیں قابلِ کاشت بنایا۔ مسلمانوں نے نہر سازی اور آبپاشی کے وہ طریقے متعارف کرائے جو وسطی ایشیا اور ایران میں رائج تھے۔ اس کے نتیجے میں چاول، گنا اور جوٹ کی پیداوار اتنی بڑھی کہ بنگال پورے جنوبی ایشیا کو اناج فراہم کرنے لگا۔
مسلم دور میں بنکروں (Weavers) کو مراعات دی گئیں اور کارخانے قائم کیے گئے۔ مغل دور میں بنگال اکیلا پوری دنیا کی ٹیکسٹائل کی مانگ کا ایک بڑا حصہ پورا کرتا تھا۔ قرونِ وسطیٰ میں بنگال محض ایک زرعی خطہ نہیں تھا، بلکہ یہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں کا مرکز بن چکا تھا۔ مسلم سلاطین نے بنگال کی بندرگاہوں کو وہ وسعت عطا کی کہ اسے ’’مشرق کی دکان‘‘ کہا جانے لگا۔ بنگال کی دو بڑی بندرگاہیں، چٹاگانگ(Porto Grande) اورستگاؤں، عالمی تجارت کی شہ رگ تھیں۔ چٹاگانگ کے ذریعے خلیجِ بنگال کا رابطہ جنوب مشرقی ایشیا، چین اور مالدیپ سے تھا۔ عرب اور ایرانی تاجر یہاں سے چاول، ململ، چینی اور ادرک خرید کر عدن اور ہرمز کی منڈیوں تک پہنچاتے تھے۔ پرتگالی مورخین نے چٹاگانگ کی رونق کو دیکھ کر اسے ’’عظیم بندرگاہ‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ پندرہویں صدی میں الیاس شاہی خاندان کے دور میں بنگال اور چین کے منگ (Ming) خاندان کے درمیان قریبی تعلقات استوار ہوئے۔ چینی سیاح ماہوان (Ma Huan) اور بحری قزاق سے ایڈمرل بننے والے ژینگ ہے (Zheng He) نے بنگال کا دورہ کیا۔ چینی دستاویزی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ بنگال کے سلطان نے چینی شہنشاہ کو افریقی زرافے اور بیش قیمت تحائف بھیجے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بنگال کی سیاسی اور تجارتی پہنچ افریقہ سے لے کر مشرقِ بعید تک پھیلی ہوئی تھی۔
بنگال کی معیشت، جو کبھی مغل سلطنت کا 50 فیصد جی ڈی پی (GDP) فراہم کرتی تھی، برطانوی پالیسیوں کی وجہ سے محض چند دہائیوں میں قحط اور غربت کا شکار ہو گئی۔ اس تباہی کے پیچھے درج ذیل عوامل کارفرما تھے: مسلم دور میں ڈھاکہ کی ململ اور ریشم پوری دنیا میں مشہور تھے۔ انگریزوں نے اپنے ’’صنعتی انقلاب‘‘ (Industrial Revolution) کو کامیاب بنانے کے لیے بنگال کی صنعت کو تباہ کیا۔ بنگال کے کپڑے پر برطانیہ میں بھاری درآمدی ڈیوٹی (70 سے 80 فیصد) لگا دی گئی، جبکہ برطانوی مشینوں کا بنا ہوا سستا کپڑا بغیر کسی ٹیکس کے بنگال کی منڈیوں میں بھر دیا گیا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ڈھاکہ کے ململ بننے والے ماہر کاریگروں کے انگوٹھے تک کاٹ دیے گئے تاکہ وہ برطانوی کپڑے کا مقابلہ نہ کر سکیں اور یہ فن ختم ہو جائے۔
1793ء میں لارڈ کارنوالس نے “دائمی بندوبست” (Permanent Settlement) نافذ کیا جس نے صدیوں پرانے زرعی ڈھانچے کو بدل دیا۔ پرانے رحم دل مسلم اور ہندو زمین داروں کی جگہ ایسے سنگدل ٹھیکیداروں کو دے دی گئی جن کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ لگان (Tax) وصول کرنا تھا۔ کسانوں سے ان کی پیداوار کا 50 فیصد سے 90 فیصد تک بطور ٹیکس لیا جانے لگا، جس سے وہ قرضوں کے جال میں پھنس کر اپنی ہی زمین پر مزارع بن گئے۔ انگریزوں نے اناج (چاول) کے بجائے ایسی فصلوں پر زور دیا جن سے انہیں نقد منافع ہو، جیسے نیل (Indigo)۔ کسانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی بہترین زمینوں پر نیل اگائیں، جس سے زمین بنجر ہو جاتی تھی اور اناج کی کمی پیدا ہو گئی۔ اس جبری کاشت نے بنگال کے کسانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا۔
برطانوی بدانتظامی کا سب سے بڑا ثبوت بنگال کے وہ قحط ہیں جنہوں نے کروڑوں جانیں لیں۔ 1770ء کا قحط: اس میں بنگال کی ایک تہائی آبادی (تقریباً ایک کروڑ لوگ) ہلاک ہو گئی۔ اس دوران بھی ایسٹ انڈیا کمپنی نے لگان کی وصولی میں کوئی رعایت نہیں دی۔ 1943ء کا عظیم قحط: دوسری جنگ عظیم کے دوران ونسٹن چرچل کی پالیسیوں کی وجہ سے بنگال کا اناج برطانوی فوجیوں کے لیے ذخیرہ کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں 30 سے 40 لاکھ بنگالی بھوک سے تڑپ کر مر گئے۔ مشہور ماہرِ معاشیات دادا بھائی نوروجی کے مطابق، برطانیہ نے بنگال سے دولت نچوڑ کر لندن منتقل کی۔ بنگال سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں سے ہی انگریزوں نے اپنی فوجیں پالیں اور پوری دنیا (بشمول ہندوستان) کو فتح کیا۔ یعنی بنگال کی دولت ہی بنگال کو غلام بنانے کے لیے استعمال ہوئی۔
بنگال کی معیشت کا زوال کوئی قدرتی حادثہ نہیں تھا، بلکہ ایک سوچی سمجھی معاشی دہشت گردی تھی۔ مسلمانوں نے جس سونے کے بنگال کی بنیاد رکھی تھی، اسے برطانوی استعمار نے اپنے مفادات کی بھٹی میں جھونک دیا۔ بنگال کی معاشی تاریخ کا مطالعہ دو متضاد تصویریں پیش کرتا ہے۔ ایک طرف وہ مسلم عہد ہے جس نے بکھرے ہوئے بنگال کو ایک جغرافیائی وحدت بخشی، صوفیائے کرام کے ذریعے اسے سماجی مساوات کا درس دیا اور سلاطین کی سرپرستی میں اسے دنیا کا “صنعتی اور زرعی پاور ہاؤس” بنا دیا۔ یہ وہ دور تھا جب بنگال کی ململ روم کے قیصر سے لے کر بغداد کے خلفاء تک کی زینت بنتی تھی اور یہاں کا اناج پوری دنیا کی بھوک مٹاتا تھا۔ مسلمانوں نے بنگال کو محض فتح نہیں کیا بلکہ اسے سنوارا، اسے اپنا گھر بنایا اور اس کی مٹی سے “سونار بنگلہ” کی خوشبو کشید کی۔
دوسری طرف برطانوی استعمار کا وہ سیاہ دور ہے جس نے ایک ہنستی کھیلتی معیشت کو اپنی ہوس کی بھٹی میں جھونک دیا۔ جس بنگال نے دنیا کو کپڑا پہنایا، اسی کے کاریگروں کے انگوٹھے کاٹ دیے گئے۔ جس سرزمین کو “جنت البلاد” کہا جاتا تھا، اسے پالیسیوں کے ذریعے قحط زدہ قبرستان میں بدل دیا گیا۔ برطانیہ کا صنعتی انقلاب دراصل بنگال کے بنکروں، کسانوں اور کاریگروں کے خون اور پسینے سے سینچا گیا تھا۔ آج جب ہم بنگال کی معاشی بحالی کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس خطے کی اصل شناخت اس کا وہ “مسلم معاشی ماڈل” تھا جس میں زراعت، صنعت اور عالمی تجارت کا ایک حسین امتزاج موجود تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان اس معیشت کے “درانداز” نہیں بلکہ اس کے “معمار” تھے۔ بنگال کا ماضی اس سچائی کا امین ہے کہ جب تک یہاں کی مقامی صنعت اور کسان خوشحال تھا، بنگال دنیا کا تاج تھا۔
بنگال کی عظمتِ رفتہ کی واپسی اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی تاریخ کے ان سنہری ابواب سے سبق سیکھیں اور اس معاشی وژن کو دوبارہ اپنائیں جس نے کبھی اس خطے کو دنیا کا سب سے معتبر تجارتی مرکز بنایا تھا۔ تجارت نے سفارت کاری کے راستے کھولے۔ بنگال کے سلاطین نے چین کے شہنشاہوں کو بیش قیمت تحائف (جیسے زرافہ اور ریشم) بھیج کر تجارتی معاہدے کیے۔ یہ اس دور کی ’’گلوبلائزیشن‘‘ تھی جس میں بنگال ایک کلیدی کھلاڑی تھا۔
مسلم دورِ حکومت بنگال کی علمی اور لسانی تاریخ کا سب سے سنہرا باب ہے۔ مسلم حکمرانوں نے نہ صرف عربی اور فارسی کی سرپرستی کی بلکہ پہلی بار بنگالی زبان کو ‘عدالتی اور ادبی’ مقام عطا کیا۔ سین خاندان کے دور میں بنگالی زبان کو ’’ناپاک اور گنواروں کی زبان‘‘ سمجھا جاتا تھا اور سنسکرت کا غلبہ تھا۔ لیکن مسلم سلاطین، جیسے علاؤ الدین حسین شاہ نے بنگالی شعراء اور ادباء کی دل کھول کر سرپرستی کی۔ رامائن اور مہا بھارت کے بنگالی تراجم اسی دور میں مسلم حکمرانوں کے حکم پر ہوئے۔ یہ مسلم سلاطین ہی تھے جنہوں نے بنگالی زبان کو مذہبی قید سے نکال کر ایک ادبی زبان بنایا، جس کی بدولت آج بنگلہ دنیا کی بڑی زبانوں میں شامل ہے۔
پورے بنگال میں مساجد کے ساتھ مدارس اور خانقاہوں کا ایک جال بچھایا گیا۔ ان اداروں میں صرف مذہبی تعلیم ہی نہیں بلکہ فلسفہ، طب، فلکیات اور انتظامی علوم بھی سکھائے جاتے تھے۔ پانڈوا کی ’’آدینہ مسجد‘‘ اور گوڑ کی ’’لٹھن مسجد‘‘ نہ صرف فنِ تعمیر کا نمونہ تھیں بلکہ یہ بڑے علمی مراکز بھی تھے۔ فارسی زبان بنگال کی سرکاری اور علمی زبان بنی، جس نے یہاں کے طرزِ زندگی، لباس اور پکوانوں (جیسے بریانی اور کباب) میں ایک نفیس تہذیب شامل کی۔ فارسی کے اثر سے بنگالی زبان میں ہزاروں نئے الفاظ شامل ہوئے، جس نے اس کی چاشنی اور وسعت میں اضافہ کیا۔
بنگال میں اسلام کی اشاعت محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک عظیم ‘سماجی اصلاح کی تحریک تھی۔ جہاں سلاطین نے عدل و انصاف کے ادارے قائم کیے، وہیں صوفیاء کرام نے دلوں کو فتح کر کے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں اچھوت اور برہمن کی تمیز ختم ہو گئی۔ بنگال کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی صوفیاء کی خانقاہیں (جیسے حضرت شاہ جلالؒ، شاہ مخدومؒ اور شیخ علاؤالحقؒ کی خانقاہیں) صرف عبادت گاہیں نہیں تھیں، بلکہ یہ مسافروں کے لیے قیام گاہیں، غریبوں کے لیے لنگر خانے اور مظلوموں کے لیے جائے پناہ تھیں۔ ان صوفیاء نے مقامی لوگوں کی زبان سیکھی، ان کے دکھ درد بانٹے اور انہیں ‘برابری کا وہ احساس دلایا جو صدیوں سے ان سے چھین لیا گیا تھا۔ مسلم حکمرانوں نے ‘قاضی’ کے عہدے کو انتہائی اہمیت دی تاکہ دور دراز کے دیہاتوں میں بھی لوگوں کو فوری انصاف مل سکے۔ تیرہویں سے اٹھارہویں صدی کے ریکارڈز بتاتے ہیں کہ کئی بار سلاطین نے خود کو بھی عدالت میں پیش کیا، جو اس دور کے اعلیٰ عدالتی معیار کی مثال ہے۔ اسی انصاف پسندی نے غیر مسلم رعایا کے دلوں میں مسلم حکمرانی کے لیے احترام پیدا کیا، اور یہی وجہ ہے کہ پانچ سو سال تک کوئی بڑی داخلی بغاوت دیکھنے میں نہیں آئی۔
بنگال کا یہ عہدِ زریں مغلوں کے دور (1576ء کے بعد) میں بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ برقرار رہا، بلکہ مغلوں نے اسے ‘جنت البلاد (شہروں کی جنت) کا خطاب دیا۔ لیکن اٹھارہویں صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے کچھ ایسے عوامل پیدا ہوئے جنہوں نے اس عظیم سلطنت کی بنیادیں ہلا دیں۔ مغل سلطنت کے کمزور ہونے کے بعد بنگال کے نوابوں (جیسے علی وردی خان اور سراج الدولہ) کو بیک وقت مرہٹوں کے حملوں اور یورپی تاجروں (ایسٹ انڈیا کمپنی) کی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1757ء میں **جنگِ پلاسی** وہ منحوس موڑ تھا جہاں سے بنگال کی معاشی لوٹ مار کا آغاز ہوا۔ انگریزوں کی آمد کے بعد بنگال کی ململ کی صنعت کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا تاکہ انگلینڈ کی مانچسٹر ملوں کو فروغ مل سکے۔ بھاری ٹیکسوں اور ‘دیوانی کے اختیارات نے بنگال کے کسانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا، جس کا نتیجہ 1770ء کے ہولناک قحط کی صورت میں نکلا۔ جس سرزمین کو کبھی ‘اناج کا گودام کہا جاتا تھا، وہ نوآبادیاتی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔
بنگال میں مسلمانوں کی پانچ سو سالہ حکمرانی کا راستہ صرف ‘سیاسی طاقت سے نہیں، بلکہ سماجی انصاف، علمی سرپرستی اور عالمی تجارت سے ہو کر گزرتا ہے۔ تیرہویں صدی سے اٹھارہویں صدی تک کا بنگال اس بات کی زندہ جاوید مثال ہے کہ جب حکمران عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں اور تجارت کے دروازے کھولتے ہیں، تو ایک پسماندہ خطہ بھی دنیا کا ‘سونار بنگلہ بن جاتا ہے۔ آج کے بنگال اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے اس تاریخ کا مطالعہ محض ماضی کی یاد نہیں، بلکہ ایک ایسا نقشہ ہے جس پر چل کر وہ دوبارہ اپنا معاشی اور ثقافتی مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ عہدِ زریں ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کبھی ‘دینے والے’ (Givers) تھے، اور ہماری ململ، ہمارا چاول اور ہمارا علم پوری دنیا کو سیراب کرتا تھا۔
