Wednesday, May 6, 2026
homeاہم خبریںایس آئی آر مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کا...

ایس آئی آر مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کا کلیدی سبب؟

اپرنا بھٹاچاریہ

مغربی بنگال کی 294 اسمبلی نشستوں میں سے ۱۵۰ حلقوں میں (جو مجموعی تعداد کے نصف سے زائد ہیں) ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ناموں کی تعداد ہار جیت کے مارجن سے زیادہ تھی، اور بی جے پی نے ان میں سے99 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ واضح رہے کہ2021کے انتخابات میں بی جے پی ان مخصوص نشستوں میں سے محض19 پر ہی جیت سکی تھی۔

کلکتہ: سخت مقابلے والے حلقوں میں انتخابی نتائج کا فیصلہ اکثر بہت معمولی فرق سے ہوتا ہے، جہاں ایک ایک ووٹ کی اہمیت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اس بار تمل ناڈو میں ایک نشست کا فیصلہ محض ایک ووٹ سے ہوا، جبکہ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے پارلیمانی انتخابات میں بھی کئی امیدوار ایک ووٹ کے مارجن سے کامیاب ہوئے۔ یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ ہر ایک ووٹ کی اپنی ایک اہمیت ہے۔

مغربی بنگال میں ‘اسپیشل انٹینسیو ریویژن’ (SIR) کا دائرہ کار حیران کن حد تک وسیع تھا۔ ووٹر لسٹ سے مجموعی طور پر 91 لاکھ نام خارج کیے گئے۔ اس عمل میں ‘ڈرافٹ ریویژن’ کے دوران ASDD (غیر حاضر، منتقل شدہ، حذف شدہ اور بے گھر) کیٹیگریز کے تحت 58لاکھ روٹین حذفیاں، اور عدالتی جائزے کے بعد ‘Under Adjudication’ (UA) کیسز کے تحت 27لاکھ ووٹرز کو غیر اہل قرار دے کر نکالنا شامل ہے۔

28فروری 2026کو جاری ہونے والی حتمی فہرست میں صرف 1.88لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے۔ اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس نظرثانی کی مشق نے ریاضیاتی طور پر انتخابی نتائج میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

یہ مشق اس لیے بھی زیرِ بحث ہے کہ SIR سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے ریمارکس دیے تھے: “اگر 10فیصد ووٹرز ووٹ نہ دے سکیں اور جیت کا مارجن 10 فیصد سے کم ہو… تو کیا ہوگا؟ فرض کریں مارجن 2فیصد ہے اور 15 فیصد نقشہ بند (mapped) ووٹرز ووٹ دینے سے محروم رہ جائیں، تو ہمیں اس پر ضرور غور کرنا ہوگا۔”

حلقہ وار ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ مغربی بنگال میں SIR محض ووٹر لسٹوں کی صفائی کی معمول کی کارروائی نہیں تھی۔ اس کی سیاسی اہمیت اس مرکزی حقیقت سے عیاں ہوتی ہے کہ متعدد نشستوں پر حذف شدہ ووٹرز کی تعداد فتح کے مارجن سے کہیں زیادہ تھی۔ اگرچہ یہ اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ ہر نتیجہ صرف SIR کی وجہ سے بدلا، البتہ یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ فہرستوں میں کی جانے والی تبدیلیاں براہ راست انتخابی مقابلے پر اثر انداز ہوئیں۔

150 نشستوں پر فتح کے مارجن سے زیادہ حذفیاں

SIR کے فیصلہ کن ہونے کی سب سے مضبوط دلیل وہ نشستیں ہیں جہاں جیت کا مارجن کل حذف شدہ ووٹرز (ASDD + UA) سے کم رہا۔ جب روٹین حذفیاں اور UA ووٹرز کا مجموعی جائزہ لیا گیا تو کل 150حلقوں میں خارج کیے گئے ناموں کی تعداد حتمی مارجن سے زیادہ پائی گئی۔

ان 150نشستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو نمایاں فائدہ پہنچا۔ بی جے پی نے 100نشستیں جیتیں، جبکہ ترنمول کانگریس 48اور کانگریس صرف 2نشستیں حاصل کر سکی۔ یاد رہے کہ2021میں انہی نشستوں پر ترنمول کانگریس نے 131نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی صرف 19نشستوں تک محدود تھی۔

کلکتہ سے ملحقہ دونوں اضلاع (شمالی اور جنوبی 24پرگنہ) اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جو تمام متاثرہ نشستوں کا تقریباً 30فیصد بنتے ہیں۔ شمالی24 پرگنہ میں2021 کے دوران ترنمول نے متاثرہ 26میں سے 23 نشستیں جیتی تھیں، مگر 2026 میں بی جے پی نے یہاں 21نشستیں حاصل کر لیں۔ اسی طرح جنوبی 24 پرگنہ میں ترنمول کی ‘کلین سویپ’ کی پوزیشن ختم ہو گئی اور بی جے پی نے 10 نشستیں اپنے نام کر لیں۔

ان مراکز کے علاوہ، ووٹر لسٹوں میں کمی نے مسلم اکثریتی اور سخت مقابلے والے اضلاع پر گہرا اثر ڈالا۔ مرشدآباد میں ترنمول کی نشستیں 2021کی 15 کے مقابلے میں 2026میں صرف 6 رہ گئیں۔ بی جے پی نے 7 اور کانگریس نے 2 نشستیں حاصل کیں۔ مشرقی بردھمان میں ترنمول اپنی ۱۳ میں سے ۱۱ نشستیں بی جے پی کے ہاتھوں ہار گئی۔ ہاوڑہ اور ہوغلی کی صورتحال بھی مختلف نہ تھی، جہاں متاثرہ 22میں سے 12 نشستیں بی جے پی کے حصے میں آئیں۔

شہری مراکز بھی اس لہر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ مغربی بردھمان میں بی جے پی نے تمام ۸ متاثرہ نشستیں جیت لیں، جن میں سے ۵ پہلے ترنمول کے پاس تھیں۔ حتیٰ کہ کلکتہ نارتھ اور ساؤتھ میں بھی بی جے پی نے ترنمول سے ۱۱ میں سے 6 نشستیں چھین لیں، جن میں بھوانی پور کا وہ اہم حلقہ بھی شامل ہے جہاں ممتا بنرجی کو سُووندو ادھیکاری کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کیا صرف ASDD حذفیاں بی جے پی کے لیے سودمند رہیں؟

اگر صرف ASDD (روٹین) حذفیاں دیکھی جائیں تو ان کا اثر بھی بہت گہرا رہا۔ 110حلقوں میں محض ASDD حذفیاں ہی جیت کے مارجن سے زیادہ تھیں۔ یہاں بھی بی جے پی کو غیر متناسب فائدہ ہوا اور اس نے 72 نشستیں جیتیں، جو ترنمول کی 36نشستوں سے بالکل دوگنا ہے۔

UA حذفیاں اور مسلم اکثریتی حلقوں کا منظرنامہ

‘UA’ نشان زدہ ووٹرز کا اخراج ایک زیادہ حساس سیاسی پیٹرن دکھاتا ہے۔ 49حلقوں میں UA حذفیاں جیت کے مارجن سے زیادہ تھیں، جہاں بی جے پی نے 26 اور ترنمول نے 21 نشستیں جیتیں۔ ان حلقوں میں اوسطاً مسلم آبادی 33-26فیصد تھی، جو دیگر کیٹیگریز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ مرشدآباد اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع رہا۔ 2021میں ترنمول نے ان 49 میں سے 48نشستیں جیتی تھیں، لیکن 2026میں اس کی گرفت کمزور ہوئی اور بی جے پی ۲۶ نشستوں کے ساتھ فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی۔

نئے اندراجات اور بی جے پی

صرف پانچ حلقوں (ستگچھیا، راجارہاٹ نیو ٹاؤن، اندوس، رینا اور مندر بازار) میں نئے شامل کیے گئے ووٹرز کی تعداد جیت کے مارجن سے زیادہ تھی۔ ان میں سے بی جے پی نے ۴ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

حتمی تجزیہ

اگرچہ SIR نے مجموعی انتخابی نتیجے کو مکمل طور پر نہیں پلٹا، تاہم قریبی مقابلے والی نشستوں کے ایک بڑے گروپ میں یہ مشق فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ ڈیٹا بتاتا ہے کہ حذف کیے گئے ناموں، بالخصوص ASDD کیٹیگری نے مارجن حساس نشستوں میں بی جے پی کی مدد کی، جبکہ UA حذفیاں اقلیتی آبادی والے حلقوں میں زیادہ اثر انداز ہوئیں۔ ایک ایسی ریاست میں جہاں جیت کا فرق بہت کم ہو، وہاں ‘اسپیشل انٹینسیو ریویژن’ خود ایک بڑا انتخابی عنصر بن کر ابھرا۔

متعلقہ خبریں

تازہ ترین